امریکی وزارت خارجہ کا طالبان سے عورتوں سے متعلق فیصلے واپس لینے کا مطالبہ

11 مئی, 2022 10:25

شیعیت نیوز: امریکی وزارت خارجہ  نے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کوخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طالبان نے خواتین پر غیر ضروری گھر سے باہر نکلنے، برقع پہننے کی شرط اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق اپنے سخت فیصلوں کو واپس نہیں لیا، تو انھیں امریکہ کے سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑےگا۔

اطلاعات کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ طالبان سے خواتین کے عوامی مقامات پر برقع پہننے کو لازمی قرار دینے کے حکم کو واپس لینے کے لیے براہ راست بات کی ہے۔

ترجمان نیڈ پرائس نے مزید کہا کہ اگرخواتین سے متعلق سخت فیصلوں کو واپس نہیں لیا جاتا تو امریکہ طالبان پر دباؤ بڑھانے کے لیے سخت اقدامات بھی اٹھا سکتا ہے۔ ہمارے پاس بہت سے ایسے ٹولز ہیں جنھیں استعمال کر کے طالبان پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فدائی حملے کرنے والوں کی لاشیں خنزیر کی کھال میں دفن کی جائیں، صیہونی اہلکار سموٹریچ

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان اقدامات اور ٹولز سے متعلق وضاحت نہیں کی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان میں امدادی کاموں اور فنڈز کی فراہمی کو مشروط کرسکتا ہے۔

ترجمان امریکی وزارت خارجہ کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب امیرِ طالبان ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے ہفتے کے روز خواتین کو عوامی مقامات پر چہرہ اور سر سے پاؤں تک ڈھانپنے والا برقع پہننے کا حکم دیا ہے۔

اس حکم سے ایک ماہ قبل ہی امیرِ طالبان کی مداخلت پر ہی لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں کو کھلنے کے ایک ہی گھنٹے بعد دوبارہ بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا جب کہ تاحال خواتین کو ملازمتوں پر واپس سے روک رکھا ہے۔

گزشتہ برس اگست میں جب طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالا تھا تو فروری 2019 میں امریکہ کے ساتھ کیے گئے امن معاہدے کے تحت عالمی قوتوں کو توقع تھی کہ طالبان دوسرے دور حکومت میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا پاس کریں گے۔

1:54 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top