مسجد اقصیٰ میں قربانی کے جانور ذبح کرنے کی متنازعہ رسم روکیں گے، العاروری
شیعیت نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری نے ان ثالثوں کے لیے اپنی تحریک کے ردعمل کا انکشاف کیا جن کے ذریعے اسرائیلی نے یہ پیغام بھیجا تھا کہ وہ آباد کاروں کے گروہوں کو مسجد اقصیٰ میں قربانی کے جانور ذبح کرنے سے روکے گا۔
العاروری نے جمعرات کی شام الاقصیٰ ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ قابض ریاست نے ثالثوں کے ذریعے پیغام بھیجا ہے کہ وہ آباد کاروں کے گروہوں کو الاقصیٰ میں قربانی کے جانور ذبح کرنے سے روکے گا۔
صفا ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس کے وعدوں پر بھروسہ نہیں ہے بلکہ ہمیں قابض ریاست کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے لوگوں کی صلاحیت اور مزاحمت پر بھروسہ ہے۔
العاروری نے مزید کہا کہ جارحیت کی منصوبہ بندی اس وقت اپنے عروج پر تھی جب قابض آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں جانور قربانی کرنے کا متنازعہ اعلان کیا۔ اس اشتعال انگیز اعلان پر ہمارے لوگ ہر جگہ، خاص طور پر القدس اور الاقصیٰ میں اٹھ کھڑے ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام قابض صیہونی ریاست کا مقابلہ کرنے کے لیے مستقل چوکس ہیں اور وہ اس مسئلے ، القدس اور مقدسات کے وفادار محافظ ہیں۔
انہوں نے تمام تاریخی فلسطین میں فلسطینی عوام پر زور دیا کہ وہ عوامی سطح پر متحرک ہو جائیں، اور سیاسی، میڈیا اور زمینی طور پر ہر حیثیت سے فلسطین کا دفاع کریں۔
یہ بھی پڑھیں : ماہ اپریل کے دو ہفتوں میں 17 فلسطینی شہید، سیکڑوں زخمی
دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ دو روز قبل اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شمال مغربی کنارے کے شہر نابلس میں زخمی ہونے والا نوجوان فواز احمد صالح حمائل چل بسا۔ شہید کا تعلق نابل کے نواحی علاقے بیتا سے تھا۔
حمائل کو بدھ کی صبح بیتا قصبے میں شدید تصادم کے دوران قابض فوں نے سینے میں گولی مار دی تھی اور بعد میں اسے نابلس کے عرب سپیشلائزڈ ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
زخمی نوجوان کی جان بچانے کے لیے اسپتال میں اس کی سرجری بھی کی گئی۔
قبل ازیں جنین کے کفر دان میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائی میں دو فلسطینی نوجوان شہید ہوگئے۔ ان کی شناخت شاس کامجی اور مصطفیٰ ابو الرب کے ناموں سے کی گئی ہے







