عراق کے علاقے بعشیقہ میں ترکی کے فوجی اڈے پر راکٹوں کی بارش

30 مارچ, 2022 14:07

شیعیت نیوز: میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبہ نینوا کے علاقے موصل کے علاقے بعشیقہ میں ترکی کے فوجی اڈے پر راکٹوں سے حملہ ہوا ہے۔

سومریہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ شب صوبۂ نینوا کے مرکز موصل کے علاقے بعشیقہ میں ترکی کے فوجی اڈے زلیکان پر 3 راکٹ داغے گئے۔ راکٹ حملوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات موصول نہیں ہو سکی ہیں۔

اس سے قبل بھی اسی فوجی اڈے پر کئی بار راکٹ داغے جا چکے ہیں۔

بعشیقہ کا شمار عراق کے ان علاقوں میں ہے جہاں گزشتہ کئی سال سے ترکی کے فوجی اپنا غیر قانونی قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔

غیر ملکی فوجیوں کی غیرقانونی موجودگی سے ناراض عراق کی استقامتی تنظیموں نے اب امریکی دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ترکی کے فوجیوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حشد الشعبی کا عراق کے تین صوبوں میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی آپریشن کا آغاز

دوسری جانب عراقی ذرائع نے تکفیری دہشت گردوں کے ذریعے عراق کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے امریکی اقدامات سے خبردار کیا ہے۔

المعلومہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایک عراقی سیکورٹی ماہر علی الوائلی نے انتباہ دیا ہے کہ امریکی فوج کی شام کی الحسکہ جیل سے داعش کے کچھ رہنماؤں کو عراق کے سرحدی علاقوں میں منتقل کرنے کی حرکت ایک ایسے منصوبے کی تیاری کا پیش خیمہ ہے جس کا مقصد عراق کے اندر سکیورٹی کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہمارا ملک پرسکون ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صورت حال جوں کی توں رہے گی اس لیے کہ جب کچھ جماعتیں اقتدار میں نہیں آسکیں گی تو وہ دہشت گرد گروپوں اور غیر فعال دہشت گرد سیلوں کی حمایت کرنے کے لیے آگے بڑھیں گی خاص طور پر چونکہ متحدہ عرب امارات اور ترکی کچھ سیاسی گروہوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

درایں اثنا محمد کریم الساعدی نے المعلومہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ عراق میں بارزانی کے امیدوار کو اقتدار میں لانے کی موجودہ کوششوں کے ذریعے آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بہت سے اہداف ہیں جن میں سے کچھ کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔

الساعدی نے مزید کہا کہ امریکہ بغیر کسی دباؤ اور دھمکی کے ہمارے ملک میں اپنی افواج کی موجودگی کو باقی رکھنے کی کوشش کرے گا۔

2:32 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top