سانحہ کوچہ رسالدار پشاور میں ملوث لشکر جھنگوی کا مطلوب دہشت گرد افغانستان میں واصل جہنم

شیعیت نیوز: پاکستان کو مطلوب دہشت گرد عبدالحاکم سندھی عرف عبدالوہاب لاڑک افغانستان میں نامعلوم افراد کے فائرنگ سے ہلاک ہوگیا ۔
افغان اور پاکستانی سکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دہشت گرد کو جنوبی افغانستان میں ایک حملے میں قتل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کالعدم لشکر جھنگوی کے ایک دھڑے کے مطلوب دہشت گرد عبدالحاکم سندھی پر منگل کے روز قندھار میں حملہ کیا گیا۔
کالعدم ٹی ٹی پی نے واقعے پر ابھی تک باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم ٹی ٹی پی کے ایک ذریعے نے یہ بتایا کہ عبدالحاکم سندھی کو ایک دکان میں گولی مار کر قتل کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ دہشت گرد قندھار میں ایک حکیم کی دکان چلا رہا تھا کہ دو افراد مریض کے روپ میں دکان پر آئے اور فائرنگ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت اور ریاستی ادارے مساجد و امام بارگاہوں کے سیکیورٹی انتظامات بہتر کریں، شبر رضا
دوسری جانب ٹی ٹی پی ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، لیکن اب تک کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
عبدالحاکم سندھی، عبدالوہاب لاڑک، علی جان اور خوش محمد کے نام سے جانا جاتا تھا۔
دہشت گرد کا تعلق لشکر جھنگوی کے عثمان سیف اللہ گروپ اور سندھ کے ضلع شکار پور سے تھا۔
ریڈ بک کے مطابق مذکورہ دہشت گرد کراچی میں ٹارگٹ کلنگز اور ڈیفنس 4 کی ایک مسجد پر حملے کی منصوبہ بندی میں شامل تھا۔
قبائلی اضلاع کے صحافیوں کے مطابق اس سے قبل وہ شمالی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر میران شاہ میں ایک دکان چلاتا تھا۔
واضح رہے کہ سال 2014ء تک میران شاہ دہشت گرد گروہوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
عبدالوہاب لاڑک سی ٹی ڈی سندھ کی انتہائی مطلوب دہشت گروں کی لسٹ میں شامل تھا۔
کالعدم تحریک طالبان ، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم ہے اور گزشتہ سال اس نے اس ملک کے مختلف علاقوں میں 95 دہشت گردانہ حملے کئے، جن میں 140 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔