ایران شیر کی طرح لڑ رہا ہے جبکہ اسرائیل نے خرگوش کی طرح ہار مان لی ہے، نیتن یاہو

08 مارچ, 2022 10:23

شیعیت نیوز: غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کے سابق شدت پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے خلاف موجودہ صیہونی حکومت کے کمزور کردار کو ایک مرتبہ پھر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران (مذاکرات کی میز پر) شیر کی طرح لڑ رہا ہے۔

صیہونی روزنامے ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی سیاسی جماعت لیکوڈ پارٹی کے ایک جلسے کے سامنے تقریر کرتے ہوئے بنجمن نیتن یاہو نے نفتالی بینیٹ اور بینی گینٹز کی روٹیٹنگ کابینہ کو ویانا مذاکرات کے سامنے خاموشی اختیار کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا ہے کہ بینیٹ۔گینٹز۔لیپڈ حکومت میں صرف کمزوری پائی جاتی ہے.. کمزوری، کمزوری اور بس کمزوری، جبکہ ایرانی جوہری معاہدہ ایک ایسی چیز ہے کہ جس پر (اسرائیلی) حکومت کو اپنی پوری توجہ مرکوز کر لینی چاہئے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ چند رسمی بیانات سے ہٹ کر، آج کل اسرائیل پر طاری سکوت اس بات کا باعث بھی بنا ہے کہ اسرائیل کے اندر موجود ہمارے دوست بھی ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق اپنی مخالفت کا اظہار نہیں کر رہے کیونکہ اگر وہ نہ دیکھیں اور نہ سنیں کہ اسرائیل اس معاہدے کی مخالفت کر رہا ہے تو کیوں خود بخود اس (معاہدے) کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے؟

یہ بھی پڑھیں : آئرش رکن پارلیمنٹ کا اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

سابق اسرائیلی وزیراعظم نے دعوی کیا کہ سال 2015ء میں شدید اسرائیلی مخالفت کے باعث ہی امریکہ سال 2018ء میں (ایرانی جوہری معاہدے سے) یکطرفہ طور پر دستبردار ہوا تھا جبکہ موجودہ اسرائیلی حکومت کی خاموشی، ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف اسرائیل کے آئندہ کے تخریبی اقدامات کی ’’قانونی حیثیت‘‘ کو بھی مٹی میں ملا کر رکھ دے گی!

بنجمن نیتن یاہو نے ویانا مذاکرات میں شریک روسی نمائندے کے حالیہ انٹرویو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میخائل اولیانوف نے کہا ہے کہ ایران کو اس سے کہیں بڑھ کر حاصل ہوا ہے جو وہ چاہتا تھا!

سابق اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ (ایرانی) ہر ایک لفظ اور ہر ایک ’’کاما‘‘ کے لئے کسی شیر کی طرح لڑ رہے ہیں جبکہ بینیٹ، لیپڈ اور گینٹز نے خرگوش کی طرح ہار مان رکھی ہے!

نیتن یاہو نے آخر میں کہا کہ حقیقت واضح ہے؛ موجودہ (اسرائیلی) حکومت ’’جوہری‘‘ ایران کے ساتھ سمجھوتہ کر رہی ہے اور یوں اسرائیل کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

1:35 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top