یوکرائن نے ڈونسک اور لوہانسک میں 14 ہزار شہریوں کو قتل کیا، صدر ولادیمیر پوتین
شیعیت نیوز: روسی صدر ولادیمیر پوتین نے یوکرائن پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرائن نے 2014ء سے اب تک ڈونسک اور لوہانسک میں 14 ہزار شہریوں کو قتل کیا گیا، دونوں علاقوں میں 500 بچوں کو ہلاک یا معذور کیا گیا۔
روسی صدر ولادیمیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نام نہاد مہذب مغرب کی 8 برس سے اس پر خاموشی ناقابلِ برداشت ہے، ممکن ہے یہ سخت لگے مگر آوارہ کتے لوگوں پر حملہ کر رہے ہیں، وقت آتا ہے جب لوگ آوارہ کتوں کو زہر دیتے یا گولی مار دیتے ہیں۔
پوتین نے کہا کہ حد یہ ہے کہ یوکرائنی حکام صاف کہہ رہے تھے کہ 2 منسک معاہدوں پر عمل نہیں کریں گے، یوکرائن نے منسک معاہدے پر عمل سے انکار کیا، جبکہ موردِ الزام روس کو ٹھہرایا گیا، سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کہنے پر اصرار بے معنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شہید قاسم سلیمانی کے قتل کا ایک ملزم اسٹیون فیگن یمن میں امریکی سفیر بن گیا
دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے ملک میں مارشل لا کا آپشن رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک میں مارشل لا لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
روسی صدر نے کہا ہے کہ یہ قدم صرف ’’ بیرونی جارحیت کی صورت میں‘‘ فوجی سرگرمیوں والے علاقوں میں اٹھایا جائے گا۔
ادھر ایک روزہ سیز فائر کے بعد پھر جنگ شروع ہوگئی ہے روس نے بھرپور قوت سے یوکرائن پر دوبارہ حملوں کا آغاز کردیا، روسی وزارت خارجہ کے مطابق ماریو پول میں حملوں کا آغاز کردیا ہے ،شہریوں کے انخلا کیلئے جمعہ کو سیز فائر کیا گیا تھا جو ختم ہوگیا۔
ادھر امریکہ اور نیٹو کی طرف سے یوکرائن کو نو فلائی زون قرار دینے سے انکار پر یوکرائنی صدرزلنسکی نیٹو پر پھٹ پڑے ، صدر ولودومیر زلنسکی نےنو فلائی زون قرار نہ دینے کے نیٹو کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرائن نہیں بچتا تو یورپ بھی نہیں بچے گا۔
صدر زلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرائن کو امریکہ اور نیٹو نے تنہا چھوڑدیا ہے جو وعدے کئے تھے ان پر امریکہ اور نیٹو نے عمل نہیں کیا۔







