صیہونی حکومت امت مسلمہ و عرب دنیا کی سب سے بڑی دشمن ہے، ریئرایڈمرل علی شمخانی
شیعیت نیوز: ایرانی قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خصوصی نمائندے ریئرایڈمرل علی شمخانی نے غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات پر مبنی سعودی ولی عہد محمد بن سلام کے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ریئرایڈمرل علی شمخانی نے اس حوالے سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ عراق کی میزبانی کے ذریعے سعودی عرب کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران کی فعال اور منظم شرکت، ہمسایہ ممالک کے ساتھ گہرے دوجانبہ تعاون اور دوستانہ تعلقات کی استواری پر مبنی ایران کے اس تزویراتی اصول پر استوار ہے جو نہ صرف دوطرفہ بلکہ پورے خطے کے مفاد کا ضامن ہے۔
ریئرایڈمرل علی شمخانی نے لکھا کہ ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنا چاہئے کہ غاصب صیہونی حکومت اسرائیل، امت مسلمہ اور عرب دنیا کا سب سے بڑا دشمن ہے!
واضح رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دو روز قبل ہی اپنے ایک انٹرویو میں واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ سعودی عرب، اسرائیل کو دشمن کی حیثیت سے نہیں دیکھتا اور یہ کہ اسرائیل ممکنہ طور پر سعودی عرب کا اتحادی بن جائے گا کیونکہ دونوں ممالک بہت سے میدانوں میں مل کر کام کر سکتے ہیں!
یہ بھی پڑھیں : سید وصال حیدر نقوی کی بلاجواز گرفتاری ،کراچی پریس کلب پر احتجاجی دھرنا
دوسری جانب ایران سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری نے اس بات پر زور دیا کہ ’’فعال مزاحمت‘‘ کی حکمت عملی، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی کو جیسا کہ موجودہ انتظامیہ تسلیم کرتی ہے، ناکام بنا دیا۔
ان خیالات کا اظہار ایڈمیرل علی شمخانی نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔
شمخانی نے مزید کہا کہ اگر ویانا مذاکرات ایک اچھے معاہدے کی طرف لے نہیں جاتے ہیں تو، موجودہ امریکی انتظامیہ یقینی طور پر سفارت کاری کے موقع کو بروقت استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بہت بعید مستقبل میں شکست محسوس کرے گی۔
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف پابندیاں اٹھانے کے مقصد سے علی باقری کنی کی قیادت میں مذاکرات دسمبر میں آسٹریا کے شہر ویانا میں شروع ہوئے تھے اور وہاں موجود فریقین کے مطابق مذاکرات کا یہ دور آخری مرحلے میں ہے اور اب صرف مغربی حکومتوں کے سیاسی فیصلے کی ضرورت ہے۔






