اسرائیلی قابض فوج کا معصوم فلسطینی بچے پر وحشیانہ ظلم و تشدد
شیعیت نیوز: اسرائیلی قابض فوج نے جنین کے گاؤں میں دو فلسطینی بچوں کو گرفتار جب کہ ایک بچے کو ڈرایا دھمکایا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی قابض فوج نے یعبد کے علاقے پر دھاوا بول کر دو بچوں، 14 سالہ عمر محمود صادق ابوبکر اور 15 سالہ عمار محمد اسد ابوبکر کو گرفتار کر لیا۔ 16 سالہ عبداللہ جمال ابوبکر کو چند گھنٹے حراست میں رکھا اور زدوکوب کیا گیا۔
اطلاعات ہیں کہ فوجیوں نے ربڑ چڑھی دھاتی گولیوں اور آنسو گیس کی بھاری فائرنگ کی۔ کئی فلسطینی شہری زخمی ہوئے ہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے باب العمود کے علاقے میں قیدیوں کے حمایت میں جاری مظاہرے کو کچلنے کے بعد ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا۔اس دوران میں متعدد مظاہرین کو مارا پیٹا بھی گیا۔
پولیس نے مسجد اقصیٰ کے باب الرحمہ سے دوسرے نوجوان کو بھی گرفتار کیا۔
دریں اثناء اسرائیلی قابض فوج نے سابق قیدی محمود الطریقی کو مقبوضہ بیت المقدس کے مضافاتی علاقے میں ان کے گھر سے اغوا کیا۔ گرفتاری کے بعد گھر کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چاقو سے حملے کے الزام میں بیت المقدس سے فلسطینی شخص گرفتار
دوسری جانب اسرائیلی قابض فوج نے جمعرات کی صبح وسطی غزہ کی پٹی کے مشرق میں ایک سرحدی علاقے میں دراندازی کی۔
مقامی ذرائع کے مطابق چھ بکتر بند بلڈوزر اور جدید اسلحے سے لیس ٹینک فوجی اڈے سے دیر البلح کے مشرقی جانب سرحدی علاقے میں داخل ہوئے۔
بھاری مشینری نے بہت سی زرعی زمینوں کو برباد کرنے اور کھودنے کا کام شروع کیا، جو سرحدی باڑ سے تقریباً 50 میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔
اس کارروائی کے دوران ٹینک اور فوجی جیپیں حفاظتی باڑ کے پیچھے موجود رہیں۔ ظالم فوجیوں کو مزید تحفظ فراہم کرنے کے لیے علاقے کے اوپر کچھ ڈرونز کو اڑتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
غزہ کے مشرقی سرحدی علاقے بار بار اسرائیلی فوج کی دراندازی اور گولہ باری کی زد میں رہتے ہیں، جس سے فصلوں کو کافی نقصان ہوتا اور کسانوں کو اپنی زمینوں پر کام کرنے سے روکا جاتا ہے۔
اسرائیلی سرحدی دراندازی فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی سمجھوتہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔






