ایرانی مذاکرات کار کی ویانا واپسی، باقی فریقوں سے غیر رسمی ملاقات

01 مارچ, 2022 06:14

شیعیت نیوز: ایرانی مذاکرات کار ، یورپی یونین اور گروپ 1+4 کے وفود کے درمیان ویانا میں کل ایک مرتبہ پھر مذاکرات ہوئے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق، یہ اجلاس ایران کے سینیئر مذاکرات کار علی باقری کنی کی ویانا واپسی کے کچھ گھنٹوں بعد منعقد ہوا۔ یہ اجلاس غیر رسمی طور پر جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے فریم ورک سے باہر منعقد ہوا۔

اس سے پہلے سینیئر ایرانی مذاکرات کار نے روس اور چین کی مذاکراتی ٹیموں کے سربراہوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ جبکہ کل صبح بھی ماہرین کی سطح پر اجلاس منعقد ہوئے۔

روسی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ میخائیل اولیانوف نے علی باقری کنی سے اپنی ملاقات کے بعد ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ہمیں مذاکرات کو حتمی شکل دینے کی لئےکام کرنا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں اٹھانے کے لیے مذاکرات، جو 26 دسمبر کو شروع ہوئے تھے، ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار صرف و صرف مغرب کے سیاسی فیصلوں پر ہے۔ اگر مغربی فریق ضروری فیصلے کر لے تو باقی ماندہ مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں اور چند دنوں میں حتمی معاہدہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : یورپ اور اقوام متحدہ منافقین کے گروہ کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، کاظم غریب آبادی

علی باقری کنی نے اپنے تازہ ترین ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم فنش لائن کے کتنے ہی قریب پہنچ جائیں کیونکہ اس کو عبور کرنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے اور کام مکمل کرنے کے لیے، کچھ فیصلے ہیں جو مغربی فریق کو کرنا ہوں گے۔

دوسری جانب ایران کی مذاکراتی ٹیم کے اعلی مذاکرات کار علی باقری کنی اور ویانا مذاکرات کے کوارڈینٹیر انریکہ مورا کے درمیان باہمی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور اور اعلی ایرانی مذاکرات کار باقری کنی پیر کے روز دورہ ویانا پہنچ گئے۔

سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے اپنے آخری اجلاس میں ویانا مذاکرات سے اب تک حاصل ہونے والے عمل اور نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیشہ ایران کے قانونی اور منطقی مطالبات کو پورا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جو ایران کی سرخ لکیروں کے اندر ہیں۔

ویانا کی پابندیاں ہٹانے کے لیے مذاکرات حالیہ دنوں میں اہم سنگ میل تک پہنچ چکے ہیں اور تمام مذاکرات کار امریکی سیاسی فیصلے کے منتظر ہیں۔

4:04 صبح اپریل 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔