دہشت گردی یا حادثہ! کراچی میں بڑی تباہی ایم این اے عالمگیر خان کے والد سمیت 14 افراد جاں بحق
شیعیت نیوز: کراچی کے علاقے شیر شاہ کے پراچہ چوک پر نجی بینک کی عمارت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہوگئے۔ ہلاک شدگان میں پی ٹی آئی کے ایم این اے اور فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان کے والد بھی شامل ہیں ۔نجی ذرائع ابلاغ اسے سیوریج لائن میں گیس کا دھماکہ جبکہ بعض ذرائع اس حادثے یا ممکنہ دھماکے کو او آئی سی سمٹ کے حوالے سے ملک دشمن دہشتگردوں کی کاروائی قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کےمطابق دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ عمارت کے پلرز اکھڑ گئے اور بینک کی عمارت تقریباً مکمل تباہ ہوگئی، زوردار دھماکے سے قریبی واقع پیٹرول پمپ کے علاوہ متعدد گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کو بھی نقصان پہنچا۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق نالے پر قائم نجی بینک میں دھماکا گیس لیکیج سے ہوا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکا گیس بھر جانے کے باعث ہوا۔
کراچی کے علاقے شیر شاہ میں ہونے والے دھماکے میں پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اےعالمگیرخان والد بھی جاں بحق ہوگئے،
دلاور خان دھماکے کے وقت جائے وقوعہ پر موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: صوبہ مآرب میں شدید لڑائی جاری، 10 سوڈانی کرائے کے فوجی ہلاک اور 17 کو زخمی
ترجمان نے مزید بتایا کہ واقعے میں دہشت گردی سمیت کسی قسم کی تخریب کاری کے شواہد ابھی تک نہیں ملے ہیں۔
قبل ازیں ڈاکٹر رُتھ فاؤ سول ہسپتال برنس سینٹر کے میڈیکل سرجن (ایم ایس) ڈاکٹر صابر میمن نے بتایا تھا کہ ہسپتال میں 8 افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔
علاقے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ظفر علی شاہ نے بتایا کہ بینک کی عمارت نالے پر تعمیر تھی جنہیں کچھ عرصے قبل نوٹس دیا گیا تھا کہ نالے کی صفائی کے لیے بینک کو خالی کردیں۔
دھماکے کے فوری بعد علاقہ مکین اور ریسکیو ٹیمز جائے وقوع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان رینجرز کے مطابق جوانوں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کا گھیراؤ کرلیا ہے اور وہ امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
گورنر و وزیراعلیٰ سندھ کا واقعے کا نوٹس
گورنر سندھ عمران اسمعیل اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
مراد علی شاہ نے دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری صحت کو ہدایات جاری کی ہیں کہ زخمیوں کو ہر ممکن فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہادتِ دختر رسول اکرمؐ حضرت فاطمہ زہرا (س) ایک انکار نا پذیر حقیقت
انہوں نے کمشنر کراچی کو واقعے کی تفصیلی انکوائری کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت دی کہ تفتیش میں پولیس کا ایک افسر بھی شامل کیا جائے تاکہ ہر پہلو سے چھان بین ہوسکے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں کراچی کے علاقے گلشن میں ایک عمارت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ عمارت کا ایک حصہ تباہ ہوگیا تھا۔







