منظم منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کے شیعہ شہریوں کو تعصب اور انتقام کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف
شیعیت نیوز: ماضی کی غلطیوں سے بھی ہماری ریاست نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا، چند ڈٖالروں اور ریالوں کے عیوض ملکی سلامتی، قومی غیرت ، استحکام اور وقار کو داؤپر لگانے کا کام آج بھی اسی انداز میں جاری ہے جس کا آغاز تین دہائیوں قبل کیا گیا تھا۔پاکستان میں منظم منصوبے کے تحت اہل تشیع کو نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
اس حوالے سے انتہائی باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل کے لالچ میں سعودی ایماء پر حکومتِ پاکستان ایسی پالیسیاں نافذ کر رہی ہے، جن سے پاکستان میں اہل تشیع کیلئے مسائل پیدا کئے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں میں باقاعدہ ’’شیعہ ملیٹنٹ سیل‘‘ قائم کئے گئے ہیں، جن کا کام کسی بھی شیعہ کو اٹھا کر غائب کرنا، اسے تشدد کا نشانہ بنانا اور ہمسایہ ملک کے حوالے سے پاکستان میں دہشتگردی کروانے کا اعتراف کروانا شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی کے حکام اب تک سیکڑوں اہل تشیع کو بلا کر شامل تفتیش کرچکے ہیں۔ کسی بھی دوسرے اور تیسرے درجے کے شیعہ رہنماء کو سی ٹی ڈی تھانے بلایا جاتا ہے، اس سے تنظیمی سرگرمیوں، ایران کیساتھ روابط اور پاکستان میں شیعہ جماعتوں کی مالی امداد کرنیوالے مخیر حضرات کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے اور انہیں یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اس انویسٹی گیشن کے حوالے سے کسی کو بتایا تو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھی مفتی عزیزالرحمان کا طالبعلم زیادتی کیس، گواہاں عدالت طلب
ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان سیلز میں جن پولیس افسران کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے، وہ بھی بالخصوص اہل تشیع ہی کو چنا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں میں اہل تشیع افسران کی فہرستیں تیار کی گئیں اور پھر ان کو شیعہ افراد کیخلاف کارروائیوں کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مذکورہ افسران کے انتخاب کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اگر شیعہ قوم کی جانب سے ردعمل آتا ہے، تو اس سے بھی شیعہ افسر ہی نشانہ بنیں اور شیعہ کو شیعوں سے ہی نقصان پہنچایا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی ایماء پر ہی تعلیمی نصاب میں سے اہلبیت اطہارؑ کے ابواب خارج کئے گئے ہیں، جبکہ بنو اُمیہ کی شخصیات کو معتبر بنا کر نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت، ایک کالعدم جماعت کے ایم پی اے معاویہ اعظم، وزیراعظم کے معاون خصوصی طاہر اشرفی اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالہیٰ سمیت مسلم لیگ قاف کے کچھ رہنماوں کو ٹاسک دیا گیا ہے۔ مذکورہ منصوبے پر عملدرآمد کیلئے وزیراعظم کے معاون خصوصی طاہر اشرفی کو اس ’’سعودی ونگ‘‘ کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ طاہر اشرفی کو یہ بھی ٹاسک دیا گیا ہے کہ اہل تشیع حلقوں میں جا کر ان کے عقائد کے مطابق باتیں کریں اور انہیں مطمئن رکھیں کہ حکومت ان کیساتھ ہے۔
ذرائع کے مطابق طاہر اشرفی جب شیعہ حلقوں میں موجود ہوتے ہیں تو وہ شیعہ عقائد کے عین مطابق اور اہلبیت اطہارؑ کی شان بیان کرتے ہیں، جس سے اہل تشیع طاہر اشرفی سے خوش ہو جاتے ہیں، جبکہ حقیقی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ حافظ طاہر اشرفی پاکستانی حکومت کے اہم حلقوں میں سعودی ہدایت پر اثر و رسوخ بنا کر اپنے نجس ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہیں اور سادہ لوح شیعہ اس کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر اسے شیعہ دوست سمجھ رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو ناصبی ریاست بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، اس نجس منصوبے کی تکمیل کیلئے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور حکومت پاکستان ہر سعودی حکم کے سامنے سرتسلیم خم کئے جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی منصوبے کی تکمیل کیلئے پاکستان میں دیوبندی نظریات رکھنے والے صحافیوں اور کالم نگاروں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جو منظم انداز میں ہمسایہ ملک ایران کیخلاف پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اپنےپالتودہشتگردوں کومعافی دیتی ہے اور لاپتہ شیعہ عز اداروں کے اہل خانہ پر تشدد کرتی ہے،علامہ امین شہیدی
واضح رہے کہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کراچی عمر شاہد جن کا تبادلہ بلوچستان کردیا گیا ہے، 9نومبر کو تبادلہ بلوچستان ہونے کے باوجود اپنی سیٹ پر براجمان ہیں، بلوچستان تبادلہ ہوتے ہی عمر شاہد کو 2011میں قتل ہونے والے سعودی سفارتخانے کے اہلکار کی تفتیش یاد آگئی 2011سال سے ناقابل حل کیس کو ملکی سلامتی کا کیس قرار دیکر خود ہی جے آئی ٹی کے سربراہ بن گئے، 2011 میں سعودی سفارت کار کے قتل پرنئی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی، سی ٹی ڈی تفتیشی لیٹر کے مطابق ٹیم سعودی عرب کی درخواست پر حکومت کے احکامات پر تشکیل دی گئی، دیگر اراکین میں سی ٹی ڈی افسران، آئی ایس آئی، آئی بی اور رینجرز افسران شامل ٹیم کا پہلا اجلاس کل سی ٹی ڈی میں ہوگاسعودی سفارت کار حسن کو 2011 میں ڈیفینس میں قتل کردیا گیا تھا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کراچی عمر شاہد کی جانب سے جاری کردہ ایک لیٹر بھی منظر عام پر آیا ہے جس میں انہوں نے مخصوص ’شیعہ ملیٹنٹ سیل‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے ، سی ٹی ڈی میں قائم اس مخصوص فرقہ وارانہ سیل کا انچارچ ایس ایس پی علی رضا کو تعینات کیا گیا ہے ۔ جبکہ کسی دوسرے مسلک یعنیٰ دیوبند، بریلوی ، اہل حدیث کے خلاف کوئی مخصوص ملیٹنٹ سیل موجود نہیں جیسے کہ یہ مسالک کسی دہشت گردی میں ملوث ہی نہیں ہیں ۔







