بیانیہ پیغام پاکستان کے بعد کس طاقت نے ان تکفیریوں کو کھلی چھٹی دی کے وہ ملک بھر کی سڑکوں پر تشیع کی تکفیر کرتے پھریں۔؟، علامہ ناظر تقوی
شیعیت نیوز : شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید ناظر عباس تقوی نےعلماء و ذاکرین کانفرنس سے خطاب میں کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانفرنس کے منتظمین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ پاکستان مین شیعہ سنی کا کوئی مسئلہ نہیں نہ ہی ملت تشیع کو کسی تکفیری دہشتگرد کی کانفرنس سے مسئلہ ہے بلکہ ہمارا مسئلہ تکفیریت اور تکفیریت کو بنانے والے ہیں جو اب تشیع کے خلاف میدان مین آگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شیعہ افراد کی جبری گمشدگیوں کیخلاف جامع قومی حکمت عملی اپنائی جائے، عارف حسین الجانی
علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ ملت تشیع اپنے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی۔ہم اپنے حقوق کا ہر صورت دفاع کریں گے۔
علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ عزاداری کے خلاف پورے پاکستان مین ایف آئی آرز کا سلسلہ تکفیریوں کے سرپرستوں کے حکم پر جاری ہے، کسی تکفیری کی جرات نہیں کہ وہ عزاداری کے خلاف بات کرسکے۔جب ان ایف آئی آرز کے خلاف پولیس اور حکومت سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اوپر سے بہت پریشر ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے۔
علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ ہم ریاست پاکستان سے سوال کرتے ہیں کہ بیانیہ پیغام پاکستان کے بعد کس طاقت نے ان تکفیریوں کو کھلی چھٹی دی کے وہ ملک بھر کی سڑکوں پر تشیع کی تکفیر کرتے پھریں۔؟
یہ بھی پڑھیں: قائدین ملت،علماءو ذاکرین تحفظ حقوق تشیع وعزاداری کیلئے متحد،دشمنانِ تشیع وعزا کو ملی اتحاد وقوت کا واضح پیغام
ان تمام قوتوں کا اصل مقصد پاکستان مین تشیع کے خلاف قانون سازی اور آئین سازی ہے، اس وقت ایک اہم مسئلہ نصاب کا ہے جو شیعہ و سنی کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ یکساں نصاب کے نام پر مقدس شخصیات کا ذکر نکال کر دوسروں کا ایجنڈہ شامل کرنا ناقابل قبول ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ زائرین کا ہے ، حکومت ہر سال اربعین سے قبل ایسا قانون سامنے لاتی ہے جس سے زائرین کو پریشانی کا سامنا کرنا پرتا ہے۔
علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں کریں گے جو عزاداری کے خلاف اور زائرین کی مشکلات میں اضافہ کرے۔







