سعودی عرب میں قید اکتالیس سے زیادہ قیدیوں کے خلاف سزائے موت کے احکامات

شیعیت نیوز: سعودی عرب کی جیلوں میں قید اکتالیس سے زیادہ قیدیوں کو سزائے موت کا ظالمانہ حکم جاری کردیا گیا ہے۔
سعودی لیکس کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ سعودی حکام ، دوہزار اکیس سے اب تک تقریبا پچاس قیدیوں کے سر قلم کرچکے ہیں جبکہ دیگر قید اکتالیس قیدیوں کو سزائے موت دی جانی باقی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی نمائشی عدالتیں قیدیوں کے خلاف ظالمانہ سزائے موت کا فیصلہ صادر کرتی ہیں جنھیں اپنے دفاع کا کوئی موقع نہیں دیاجاتا ہے اور یہ سزائیں جبری اعترافات کی بنیاد پرہی سنادی جاتی ہیں۔
سعودی لیکس کے مطابق سعودی حکام ، قیدیوں کے خلاف ظالمانہ فیصلوں پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ سن دوہزار بیس میں ستائیس افراد اور دوہزارانیس میں ایک سو ستاسی افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ جبکہ 2021 میں خواتین انسانی حقوق کے محافظوں جیسے لجین الحزلول ، نسیمہ السادہ اور سمر بدوی کی رہائی بھی محدود کرنے والی شرائط پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کو متنازع علاقے میں تیل و گیس کی تلاش سے روکا جائے ، اقوام متحدہ سے لبنان کا مطالبہ
انسانی حقوق کی عالمی اور علاقائی تنظیموں نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی منجملہ جھوٹے مقدمات تیار کرنے اور سماجی شخصیات سے زندہ رہنے کا حق چھین لئے جانے پر بارہا احتجاج کیا ہے لیکن سعودی حکومت بڑی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی حمایت کے سہارے غیرمنصفانہ اور ظالمانہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرتی رہتی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان 3 روزہ دورے پر بھارت پہنچ گئے ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اپنے بھارتی ہم منصب سبرامنیئم جے شنکر سے ملاقات کریں گے۔ آج بروز پیر کو سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوگی۔
ذرائع کے مطابق سعودی وزیر خارجہ کی بھارتی رہنماؤں سے ملاقات میں باہمی تعلقات اور افغانستان کی موجودہ صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔