دنیا

امریکہ نے 20 سالہ افغان جنگ میں ’’صفر‘‘ کامیابی حاصل کی، ولادیمیر پوٹن

شیعیت نیوز: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ 20 سالہ افغان جنگ امریکہ اور افغان عوام کے لیے سراسر سانحات اور نقصانات کا باعث بنی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ امریکہ نے افغان جنگ میں ’’صفر‘‘ کامیابی حاصل کی ہے۔ 20 سالہ مہم جوئی سانحات پر ختم ہوئی اور افغانیوں کی روایات کو توڑنے کی ہر امریکی کوشش ناکام ہوئی۔

روسی صدر نے مزید کہا کہ باہر سے کوئی بھی چیز مسلط کرنے کے نتائج اچھے ثابت نہیں ہوتے اور تاریخ بتاتی ہے کہ بالخصوص افغانستان میں تو یہ نتائج صفر نکلتے ہیں۔ اس کا واحد نتیجہ سراسر سانحات اور نقصانات منتج ہواہے۔

قبل ازیں صدر ولادیمیر پوٹن نے افغان مہاجرین کو روس میں آباد کرنے کے مغربی ممالک کی خواہش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سویت یونین کی 10 سال کی جنگ کے خاتمے کے بعد سے افغانستان کے معاملات میں دخل اندازی بند کردی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے افغان جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے انخلا میں جلد بازی اور اذیت کا ذمہ دار افغان فوج کو قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : چین کی افغانستان میں قیام امن اور تعمیر نو کے لیے طالبان کو مشروط مدد

دوسری جانب امریکی صدر نے بڑی ڈھٹائی سے اپنی شکست پر پردہ ڈالتے ہوئے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کی ذمے داری قبول کر لی اور انخلاء کو غیر معمولی کامیابی قرار دے دیا۔

فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی قوم سے خطاب میں امریکی صدر جوزف بائیڈن کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے انخلاء کا یہ فیصلہ درست تھا، جنگ ختم کرنا ہی درست فیصلہ تھا، اس جنگ کو بہت پہلے ختم ہو جانا چاہیے تھا، میں اس ہمیشہ کی جنگ کو مزید بڑھانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

انہوں نےافغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بارے میں کہا کہ افغانستان میں ہزاروں امریکی فوجیوں کو تعینات کر کے امریکہ کی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 20 سال تک 30 کروڑ ڈالر روزانہ خرچ کئے۔ امریکیوں کی اگلی نسل کو ایسی جنگ میں نہیں جھونکنا چاہتے جو بہت پہلے ختم ہوجانی چاہیے تھی۔

امریکی صدر نے کہا کہ نوے فیصد امریکی شہریوں کو افغانستان سے نکال چکے ہیں، ہمیں یقین ہے 100 سے 200 امریکی باشندے اب بھی افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں، امید ہے کہ طالبان وعدے پر قائم رہیں گے، طالبان کے کہنے پر یقین نہیں ان کے عمل کو دیکھیں گے۔

جو بائیڈن نے سابق امریکی صدر ٹرمپ اور اشرف غنی پر بھی کڑی نکتہ چینی کی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button