طالبعلم کیساتھ بدفعلی کیس، مفتی عزیزالرحمٰن کے خلاف عدالت نے اہم حکم نامہ جاری کردیا
شیعیت نیوز: لاہور کے مدرسے جامعہ منظورالاسلام کے طالبعلم صابر شاہ کیساتھ بدفعلی کے کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ پولیس نےمولانا فضل الرحمٰن کے قریبی ساتھی اور جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مفتی عزیز الرحمان سے تفتیش مکمل کرکے کیس کا چالان جمع کرا دیا ہے۔
پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق مفتی عزیر الرحمان کیس کا چالان پراسیکیوشن برانچ میں جمع کرایا گیا ہے۔ چالان میں مفتی عزیزالرحمن کو مرکزی ملز م نامزد کیا گیا ہے جبکہ مفتی عزیز الرحمان کے پانچ بیٹوں کو بھی بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق مفتی عزیزالرحمن کے بیٹوں پر دھمکیاں دینے کا الزام ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغان عوام عراق، شام اور لبنان کو نمونہ عمل بنائیں اور متحدہ ہوجائیں، اشرف غنی
ذرائع کے مطابق پولیس نے طالبعلم کیساتھ بدفعلی کے واقعہ کی ویڈیو کو بھی چالان کے ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے۔ پولیس نے کیس کے مدعی طالبعلم صابر شاہ کے بیان کو بھی چالان کا حصہ بنایا ہے۔ پراسیکیوشن برانچ چالان کا جائزہ لینے کے بعد اس کی منظوری دے گی جس کے بعد چالان عدالت میں جمع کروا دیا جائے گا۔
قبل ازیں عدالت نے مفتی عزیزالرحمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ کچہری رانا راشد علی نے طالبعلم سے بدفعلی کے کیس کی سماعت کی۔ پولیس نے سخت سکیورٹی میں مفتی عزیز الرحمان کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں:کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا مستقبل، وفاقی وصوبائی حکومتوں سے اہم فیصلہ کرلیا
عدالت نے ملزم عزیز الرحمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کرتے ہوئے پولیس کو چالان پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ خیال رہے کہ مفتی عزیز الرحمان کی گزشتہ دنوں اپنے طالبعلم صابر شاہ سے بدفعلی کی ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں۔ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد وہ فرار ہوگئے تھے تاہم پولیس نے انہیں میانوالی سے گرفتار کرلیا تھا۔ مفتی عزیزالرحمان کیساتھ ان کے تین بیٹے بھی جیل میں ہیں جبکہ تین بیٹے عبوری ضمانت پر ہیں۔







