بین الاقوامی تنظیمیں چار ایرانی مغوی سفارت کاروں کی تقدیر کا تعین کریں
شیعیت نیوز: ایرانی صدراتی آفیس میں قائم کمیٹی برائے فلسطینی عوام کے اسلامی انقلاب کی حمایت کے امور نے ایک بیان میں بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے دعویداروں سے چار ایرانی مغوی سفارت کاروں کی تقدیر کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق، اس کمیٹی نے لبنان میں اغوا کیے گئے چار ایرانی سفارتکاروں کی 39 ویں برسی کے موقع پر ایک بیان میں کہا ہے کہ 5 جولائی 1982ء؛ مجرم صیہونی ریاست کے آلہ کاروں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور سفارتی رسم و رواج کے خلاف ورزی کی یاد دہائی کراتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان دہشت گردوں نے چار ایرانی سفارت کاروں کی گاڑی کو غیرقانونی طور پر روکا اور ان کو اغوا کیا۔
بیان میں بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے دعویداروں سے چار ایرانی مغوی سفارت کاروں کی تقدیر کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 5 جولائی 1982 میں چار ایرانی سفارت کار لبنانی دارالحکومت بیروت میں ایرانی سفارت خانے کی گاڑی پر شام جارہے تھے جن کی گاڑی صیہونی عناصر کی جانب سے غیرقانونی طور پر روکی گئی جس کے بعد ایرانی سفارت کاروں کو اغوا کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی ڈرون شپ نے اسرائیلی حکومت پر وحشت طاری کردی
ان سفارت کاروں میں بریگیڈیر جنرل احمد متوسلیان، سید محسن موسوی، تقی رستگار مقدم اور کاظم اخوان (ارنا نیوز ایجنسی کے فوٹو جرنلیسٹ) شامل تھے اور کہا جاتا ہے کہ ان کو ناجائز صیہونی ریاست کا حوالہ کیا گیا ہے۔
احمد متوسلیان اور ان کے ساتھیوں کے اغوا ہونے کے کچھ لمحات بعد اسرائیل ریڈیو نے کہا تھا کہ جنرل احمد متوسلیان کو ’’بربارہ‘‘ چیک پوسٹ میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اس واقعے سے 37 سال گزرنے کے بعد ابھی جنرل متوسلیان اور ان کے ساتھیوں کی زندہ ہونے یا نہ ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔
لبنان میں حاجی احمد متوسلیان اور اس کے ساتھیوں کی صورتحال سے متعلق میں مختلف اور حتی متضاد روایتیں ہیں۔
ان کے بعض ساتھیوں اور رفقائے کار جیسے ایرانی سابق وزیر دفاع جنرل دہقان کا عقیدہ ہے کہ وہ ناجائز صیہونی ریاست کی جیلوں میں قید ہیں۔
حالانکہ ان کے کچھ دوست اور رشتہ دار جن کو اچھی طرح جانتے ہیں، کہتے ہیں کہ جنرل متوسلیان کی روح، قید سے مطابقت نہیں رکھتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان کو اغوا کے ابتدائی لمحات میں ہی شہید کردیا گیا تھا۔
لیکن وہ ابھی ہماری سرزمین اور ہمارے درمیان نہیں ہیں اور آج سب سے اہم بات ایسی شخصیات کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ آج کی نوجوان نسل کو معلوم ہو کہ ہماری سرزمین کن کن لوگوں کی بہادری اور خود قربانی سے اسی پوزیشن پر پہنچ گئی ہے تا کہ وہ بھی بھر پور واقفیت کیساتھ ان کے نقش قدم پر چلیں۔







