شیعہ عالم دین کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری جعلی ویڈیو سکینڈل کا بھانڈا پھوٹ گیا
شیعیت نیوز: سعودی نواز کالعدم تکفیری وہابی تنظیم سپاہ صحابہ کے سوشل میڈیا ونگ کی جانب سے شیعہ عالم دین کے خلاف مدرسے کے طالب علم کے ساتھ بدفعلی کے الزام کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ وائرل ویڈیو جعلی قرار، مبینہ متاثرہ بچے کے والد نے تمام حقائق بے نقاب کردیئے، نہ ہی اس ویڈیو میں موجود شخص مولانا مظہر حسین نجفی ہیں نہ ہی وہ بچہ میرا بیٹا۔
تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سے سوشل میڈیا پر شور مچایا جارہا تھا کہ اہل سنت مفتیوں کی لواطت کرتے ہوئے لگاتار ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ایک شیعہ عالم دین کی ویڈیو بھی لیک ہوچکی ہے، چونکہ ایک خاص گروہ عرصہ دراز سے ٹوہ میں تھا کہ اہل تشیع مدارس سے ایسے واقعات سننے کو کیوں نہیں ملتے جبکہ ہمارے مدارس کے مولوی اس قبیح فعل میں کثرت سے ملوث پائے جاتے ہیں تو کیوں نا کسی جھوٹی ویڈیو کا سہارا لے کر تشیع علمائے کرام کو بدنام کیا جائے, اس سلسلہ میں ایک ویڈیو وائرل کی گئی اور ساتھ ایک ایف آئی آر کی کاپی بھی خوب مشہور کی گئی،جس شیعہ مولوی کی ویڈیو سے بدنامی کی جارہی وہ واقعہ لاہور ہائی کورٹ سے مارچ2021 میں خارج ہوچکا ہے اور ویڈیو کسی اور شخص کی ہے۔
اور مدعی مقدمہ عنصر عباس ولد محمد عبداللہ جو کہ مقدمہ کے مدعی ہیں نے مولانا مظہر حسین پر ہونے والی جھوٹی ایف آئی آر کا بھانڈا پھوڑدیا ، مدعی مقدمہ نے بتایا کہ پولیس نے زور زبردستی سے یہ مقدمہ درج کروایا ہے ، جو ویڈیو وائرل ہوئی نہ تو اس میں مولانا مظہر حسین ہے اور نہ ہی میرا بیٹا ، پولیس نے ہمیں زبردستی اٹھایا اور ہمارے مذہب شیعہ کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹا مقدمہ مولانا صاحب پر درج کروا دیا جو میرے بیان کے بعد خارج ہوچکا ہے۔
یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ مخالفین کی جانب سے جاری کردی ویڈیو میں موجود شخص کسی بھی طور مولانا مظہر حسین نجفی سے مشابہت نہیں رکھتا ۔ واضح رہے کہ دیوبند مکتب فکر کے مدارس عرصہ دراز سے لواطت کی فیکٹریوں میں تبدیل ہوچکے ہیں، آئے دن کبھی کسی بچےکے ساتھ اور کبھی کسی بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعات منظرعام آرہے ہیں ۔ اپنی ذلت اور رسوائی کا بدلہ لینے کیلئے یہ تکفیری عناصربھتان تراشی اور جھوٹ کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئے ہیں تاکہ سادہ لوح پاکستانیوں کو شیعہ مکتب فکر کے خلاف ورغلاسکیں۔







