القسام بریگیڈ کی سجیل میزائل اور جدید ترین ہتھیاروں کی رونمائی

شیعیت نیوز: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی فوجی شاخ عزالدین القسام بریگیڈ نے صیہونی حکومت کے خلاف حالیہ جنگ میں استعمال ہونے والے سجیل میزائل اور دوسرے ہتھیاروں کو رونمائی کی ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی شہاب کے مطابق، القسام بریگیڈ نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے خلاف حالیہ جنگ میں استعمال ہونے والے سجیل میزائل انتہائی تباہ کن طاقت کے حامل ہیں اور انہیں پہلی بار سن دوہزار اٹھارہ کے ایج آف سارڈ آپریشن کے دوران عسقلان سٹی میں صیہونی دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
القسام بریگیڈ نے بتایا کہ جنگ سیف القدس میں تین نئے قسم کے میزائلوں کا استعمال کیا گیا جن میں عیاش دوسو پچاس، اے ایک سو بیس اور ایس ایچ پچاسی شامل ہیں جو اپنے طاقتور وار ہیڈ کے ساتھ پچاسی کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی فوجی شاخ کے اعلامیے کے مطابق حالیہ بارہ روزہ جنگ میں القسام بریگیڈ نے جو دوسرے ہتھیار استعمال کیے ہیں ان میں ایم پچہتر، آر ایک سو ساٹھ اور جے اسّی قسم کے میزائل قابل ذکر ہیں جو صیہونی دشمن کے آئرن ڈوم سسٹم کو دھوکہ دینے کی توانائی رکھتے ہیں، جبکہ کیو بارہ اور کیو بیس قسم کے میزائل، القسام بریگیڈ کے تیار کردہ اولیں میزائل ہیں جن کے ذریعے عسقلان میں اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں کو متعدد بار تباہ کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بیت المقدس اور غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر قاتلانہ حملے
دوسری جانب عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہوکر متصل اور مقبوضہ علاقوں میں صیہونی فوجیوں اور صیہونی غاصبوں کے خلاف تحریک انتفاضہ میں مزید شدت پیدا کر دیں۔ عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے جاری کردہ بیان میں آیا ہے کہ تحریک انتفاضہ کی تقویت ہی انیس سو اڑتالیس کے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی اندھا دھند گرفتاریوں اور صیہونی حکومت کے نہ رکنے والے جرائم کا ٹھوس جواب اور اس بات کا اظہار ہے کہ فلسطینی قوم متحد ہے اور مزاحمت کے راستے پر پوری قوت کے ساتھ گامزن ہے۔
عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے بیان میں مزید آیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صیہونی فوجیوں اور غیر قانونی طور پر در آنے والے صیہونی جتھوں کے خلاف ہمہ گیر محاذ آرائی جاری رکھنے اور پوری سرزمین فلسطین میں بھرپور مزاحمت شروع کرنے کے سوا کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا ہے اور اس جنگ میں ہمیں آوارہ وطن فلسطینیوں، عرب سپوتوں اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کی حمایت حاصل رہے گی۔