جبری لاپتہ عزاداروں کی حمایت جرم بن گئی، علامہ امین شہیدی کا بیٹا اغواء
شیعیت نیوز: ملک بھر سے لاپتہ شیعہ عزاداروں کی حمایت میں جاری احتجاجی تحریک کی حمایت جرم بن گئی، قانون شکن اداروں کی نامور شیعہ عالم دین سربراہ امت واحدہ پاکستان علامہ امین شہیدی کو سنگین دھمکی ، علامہ صاحب کے بڑے فرزند کا اغواء اور شدید تشدد، شیعہ رہنماؤں کی واقعے کی پرزور مذمت ۔
تفصیلات کےمطابق ملک کے معروف شیعہ عالم دین اور اسکالر علامہ امین شہیدی کو شیعہ لاپتہ عزاداروں کی بازیابی کے حق میں آواز اٹھانے پر ملک کے قانون شکن اداروں کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں موصول ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔
گذشتہ روز اپنے ویڈیو پیغام میں علامہ امین شہیدی نے انکشاف کیا کہ ان کے بڑے صاحبزادے کو اسلام آباد میں چند نامعلوم افراد نے اغواء کرکے شدیدتشدد نا نشانہ بنایا اور مجھے شیعہ لاپتہ عزاداروں کی حمایت سے دستبردار ہوجانے کا پیغام بھی دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکام بالا اب تک جبری لاپتہ عزاداروں کے اہل خانہ کے مطالبات کو نظر انداز کررہے ہیں، علامہ شفقت شیرازی
علامہ امین شہیدی نے کہا کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے ؟؟گذشتہ ایک ہفتے سے شیعہ لاپتہ عزاداروں کی بازیابی کیلئے تحریک میں تیزی آئی ہے میں نے اپنی بساط کے مطابق ان کی حمایت کی ہے اور انشاءاللہ جب تک مظلوم ہیں اور یہ ظلم وستم کا سلسلہ ہے یہ حمایت جاری رہے گی۔
انہوں نے کہاکہ اس حمایت کے جرم میں میرے بڑے بیٹے کو کل رات اغواء کرکے ایک تفتیشی مرکز میں لے جاکر چار گھنٹے تک اس پر تشدد کیا گیا اسے زدوکوب کیا گیا اسے گالیاں دی گئیںاور مارتے مارتے چار گھنٹے تک سوالات پوچھتے رہے ۔
انہوں نے کہاکہ ہم پیسے لیکر کسی کی حمایت اور مخالفت نہیں کرتے یہ کام غلام ذہنیت لوگ کرتے ہیں، مظلوموں کی حمایت کربلا کا درس ہے ، ملک کی وفاداری تنخواہ داری نہیں وفاداری کا تقاضہ کرتی ہے ۔ ایسا وریہ ملک کے ساتھ غداری کے مترادف ہے ، ایسی حرکتیں ہمیں مظلوموں کی حمایت سے نہیں روک سکتیں ۔
یہ بھی پڑھیں: مرکزی و صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ہمارے نوجوانوں کے اغوا میں ملوث اداروں کو آئینی حدود و قیود کا پابند کریں، علامہ اسدی
علامہ امین شہیدی کے فرزند ارجمند کے ریاستی اداروں کے ہاتھوں اغواء و تشدداور دھمکیوں کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے کہاکہ ممتاز عالم دین علامہ امین شہیدی کے بیٹے کا نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا اختیارات کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال ہے۔ملت تشیع کے لاپتا افراد کی بازیابی کی کوششوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔اداروں کا آئینی حدود سے تجاوز کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔وزیراعظم پاکستان اس واقعہ کی تحقیقات کو یقینی بنوائیں اور ملزمان کو بے نقاب کرکے کیفر کردار تک پہنچائیں۔







