مظلوم انسانوں کے نجات دہندہ امام مہدی عج
مظلوم انسانوں کے نجات دہندہ امام مہدی عج
باوجود اختلاف ادیان و مذاہب، جس ایک نکتے پر اکثریت کا اتفاق ہے وہ ہے ایک عقیدہ، ایک نظریہ یعنی انتظار!۔ انتظار ایک مسیحا کا، ایک نجات دہندہ کا انتظار!۔
تحریر : محمد ابوذرمہدی
عالم بشریت کو ظلم و ستم سے نجات دینے والی اس عظیم ہستی کو عالم اسلام میں امام مہدی عج کے عنوان سے محترم و مقدس مانا جاتا ہے۔
امام مہدی عج کا وجود اور ظہور دونوں ثابت
قرآنی آیات میں متقین و صالحین مستضعفین کو بشارت دی گئی ہے۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی احادیث کی روشنی میں بھی امام مہدی عج کا وجود اور ظہور دونوں ثابت ہیں۔
مظلوم انسانوں کے نجات دہندہ امام مہدی عج
عقیدہ ظہور مہدی پر مختلف مسالک کے نمائندہ اور نام ور علماء کی تصنیفات اور تقاریر تاریخ کے ریکارڈ کا ایک ناقابل تردید حصہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت واسعہ امام مہدی عج سےامید
دنیاکے فرعون و نمرود وقت کے ظلم و ستم کے شکار مظلوم و محکوم انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی اس رحمت واسعہ امام مہدی عج کے بابرکت وجود سے جو امید وابستہ ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ کیونکہ عقیدہ مہدویت انسانیت کو مایوسی سے نکالتا ہے۔ جبکہ مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے۔
یوم پاکستان ایک اہم قومی دن کیوں !؟
فرعون و نمرودوشدادو کے مقابلے میں
دنیا کے فرعون و نمرودوشدادو ہرقسم کے شیطان کے مقابلے میں کبھی بھی پسپاء اور مایوس نہ ہوا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے معصوم انبیاء و اولیاء علیہم السلام نے اپنے دور کی استکباری طاقتوں کو مسترد کرکے رہتی دنیا تک یہ مثال قائم کردی۔

حق و باطل کی فیصلہ کن جنگ
اورقیامت سے پہلے حق و باطل کی ایک فیصلہ کن جنگ کا تذکرہ دنیا کے سات کھرب انسانوں کے مختلف گروہوں میں آج بھی موجود ہے۔ بعض اپنی مقدس کتب اور بعض تاریخی کتب کی روشنی میں ہرمجدون کی جنگ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
امام مہدی کے لشکر کا سپاہی
عالم اسلام میں عقیدہ مہدویت کے پیروکار اور حامی حق و باطل کی اس فیصلہ کن جنگ میں خود کو امام مہدی کے لشکر کا سپاہی قرار دیتے ہیں۔ اس نیمہ شعبان سمیت روزانہ یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مستضعفین کے نجات دہندہ امام مہدی عج کی حکومت جلد اس پوری دنیا میں نافذ فرمائے!۔
نیمہ شعبان امام مہدی سے مخصوص
نیمہ شعبان کی مقدس شب بھی کیا خوب شب ہے!۔ عالم اسلام میں ایک مکتب فکر نیمہ شعبان یعنی شب برات کو امام مہدی ؑ کی آمد سے مخصوص مانتا ہے۔ اس رات شیعہ مومنین اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے مستحبات و نوافل انجام دیتے ہیں۔
امام مہدی ع کی شان اقدس میں نذرانہ عقیدت
امام مہدی عج کی یاد میں مساجد، امام بارگاہوں اور شیعہ محلوں، گلیوں اور مکانات میں چراغاں ہوتا ہے۔ کچھ وقت علمائے کرام امام مہدی عج کی یاد میں ان سے متعلق قرآن و سنت (اہل بیتؑ) کی روشنی میں ناظرین و سامعین کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔ کچھ وقت شعرائے کرام امام مہدی ع کی شان اقدس میں منظوم نذرانہ عقیدت ہدیہ کرتے ہیں۔
دعائے کمیل کی قرات
شب نیمہ شعبان کی شب بیداری میں دعائے کمیل کی قرات بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ دعا اللہ تعالیٰ کی خدمت میں ایک مومنانہ مخلصانہ درخواست ہوتی ہے۔
مظلوم انسانوں کے نجات دہندہ امام مہدی عج
در حقیقت یہ دعا مولا امیر المومنین امام المتقین علیؑ ابن ابی طالب ؑ نے اپنے صحابی کمیلؓ کو تعلیم کی تھی۔ شیعہ اسلام میں اس دعا کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ خاص طور پر شیعہ اسلامی عقیدہ توحیدکو اس دعا سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
نیمہ شعبان کی شب بیداری

عریضہ
نیمہ شعبان کی شب بیداری میں نافلہ نمازوں، قرآن شریف کی قرات، درود و سلام (صلوات) اوراستغفار بھی ایک لازمی حصہ ہے۔ امام مہدی عج کے چاہنے والوں میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ وہ ان مذکورہ تمام اعمال سے فارغ ہوکر روزے کی نیت سے سحری کرتے ہیں اور ساتھ ہی عریضہ بھی لکھتے ہیں۔
عقیدہ مہدویت اور انتظار ظہور کی جو کیفیت
یعنی امام مہدی عج کی خدمت میں بھی اپنی درخواست ارسال کرتے ہیں۔ یوں امام مہدی عج سے جتنی انسیت، قربت، عقیدت کا واضح اظہار شیعہ مومنین و مومنات کرتے ہیں، شاید ہی کوئی ان کا ثانی ہو۔
یعنی عقیدہ مہدویت اور انتظار ظہور کی جو کیفیت شیعہ مومنین اور مومنات کے معاشرے میں ہے، یہ دیگر انسانوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔







