اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں بیت المقدس میں فلسطینی خاتون شہید

17 فروری, 2021 14:11

شیعیت نیوز: اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ علاقوں میں اپنے جرائم جاری رکھتے ہوئے بیت المقدس میں ایک فلسطینی خاتون کو شہید کردیا۔

العہد نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ملیشیا مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرتی رہتی ہے، صہیونیوں نے حال ہی میں بیت المقدس کے جنوب میں الدہیشہ کیمپ پر حملہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق صیہونی عسکریت پسندوں نے ایک ظالمانہ حملے کے بعد الدہیشہ میں مقیم فلسطینیوں پر فائرنگ کردی، اس وحشیانہ حملے میں ایک فلسطینی خاتون رحمت ابو عاہور شہید ہوگئی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صیہونی عسکریت پسندوں نے الدہیشہ کیمپ میں واقع فلسطینی خاتوں کے گھر پر اچانک اور بے دردی سے چھاہ مارا جس کی وجہ سے فلسطینی خاتون کو دل کا دورہ پڑا اور شہید ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں : مزاحمتی قوتوں کا غزہ کو کورونا ویکسین کی فراہمی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

دوسری جانب صیہونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں منگل کے روز گھر گھر تلاشی کی کارروائی کے دوران 13 فلسطینی شہریوں‌کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار ہونے والے شہریوں میں سابق اسیران، فلسطینی پارلیمنٹ کے ارکان اور اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کے رہنما بھی شامل ہیں۔

اسیران میڈیا سینٹر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کے روز غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں اسرائیلی فوج نے تلاشی کے دوران فلسطینی رکن اسمبلی یاسر منصور اور حماس رہنما عدنان عصفور کو حراست میں لے لیا۔

رام اللہ میں اسرائیلی فوج کی چھاپہ مار کارروائی کے دوران سلواد جے مقام پر اسرائیلی فوج نے 13 فلسطینیوں‌ کو حراست میں ‌لیا جن میں سے بعض کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ان کی شناخت مہند الطویل، محمد فارس، محمد حامد، عبداللہ حامد، عبدالرحمان حامد، احمد عیتد اور طارق حامد کے ناموں سے کی گئی ہے۔

ادھر رام اللہ میں قدورہ کیمپ میں ایک کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج نے رافت ابو شقرہ کو حراست میں لیا۔ اس کے علاوہ اسی علاقے سے عماد یاسر الجعبر اور ان کے بیٹے محمد کو الخلیل شہر سے حراست میں لیا گیا ہے۔ مشرقی نابلس میں تلاشی کے دوران بیت فوریک سے فادی جبارہ کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی الخلیل کے علاقے الکرمل میں رامی احمد ابو زنید، وائل عبدالعزیز ابو زنید، سامی عیسیٰ شتات اور حاتم محمود مخامرہ کو حراست میں ‌لیا گیا۔

2:31 صبح اپریل 13, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔