عراق کے شہر اربیل میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ
شیعیت نیوز: شمالی عراق کے شہر اربیل کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعدائیرپورٹ بند کر دیا گیا۔اربیل میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر یہ پہلا حملہ ہے ۔
عراقی میڈیا نے اربیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ایئرپورٹ کے نزدیک موجود امریکی بیس پر حملے کی خبر دی ہے۔
پیر کی شام جاری ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ شمالی عراق کے شہر اربیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہيں۔
اربیل ائیرپورٹ عراق پر دو راکٹ حملہ۔ ایک راکٹ امریکی افواج کے اڈے پر گرا جہاں امریکہ فوجی سو رہے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے بعد فضا میں دہواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔ایک مقامی سیکورٹی افسر کے مطابق ائیرپورٹ کے قریب مارٹر کے تین گولے آکر لگے کہ جس کے بعد ائیرپورٹ کو فوری طور پر بند کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : مکتب اہل بیت ؑ کا ایک اور جانباز سپوت اسد مہدی مادر وطن کے دفاع کی راہ میں شہید
بغداد الیوم نیوز چینل نے ایک سیکورٹی اہل کار کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ یہ دھماکے اربیل کے علاقے ’’وزيران‘‘ میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب ہوئے ہيں۔
اس حملے میں امریکیوں کے دوطیاروں کی مکمل تباہی اور متعدد امریکیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی بھی خبر ہے۔ اولیائے دم سے موسوم ایک نو زائیدہ گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اس نے 24 راکٹ داغے ہیں اور مستقبل میں اس طرح کے مزید حملے کئے جانے کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب عراق میں کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن کے دوران جھڑپ میں ترکی کے 3 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق عراق کے شمالی علاقے دوحک میں علیحدگی پسند مسلح جماعت کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوؤں کے خلاف ترک فوج نے آپریشن کیا اور اس دوران جوابی فائرنگ میں ترک فوج کے 3 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔
دوحک کے کرد علاقہ پرترک فوج کا قبضہ ہے یہ علاقہ اس سے پہلے کرد جنگجوؤں کے قبضے میں تھا ۔ واضح رہے کہ کردوں کی مسلح جماعت ’’ پی کے کے‘‘ اور ترک فوج کے درمیان جنگ کا سلسلہ جاری ہے۔







