48 امریکی شہری جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے ملزم ہیں، امیر عبداللہیان

شیعیت نیوز :سردار سلیمانی کی شہادت کی برسی کی مناسبت سے ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل میں مرکزی ملزمان کی تعداد 45 سے بڑھ کر 48 ہوگئی ہے۔
یہ بات حسین امیر عبداللہیان نے اتوار کو جنرل سلیمانی کے قتل کے مرتکب افراد اور مجرموں کا مقابلہ کرنے کے لئے عدالتی اور قانونی اقدامات کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ جنرل سلیمانی کے قتل میں مرکزی ملزمان کی تعداد 45 سے بڑھ کر 48 ہوگئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں ہم اس معاملے میں مضبوط اور موثر عدالتی اقدامات دیکھیں گے۔
امیر عبداللہیان نے کہا کہ عدلیہ کے حکام سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر ایرانی عدلیہ اور 6 ممالک نے سنجیدگی سے جنرل سلیمانی کے قتل کے کیس کا پیچھا کر رہے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں : امارات و اسرائیل فلسطین کے پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے خاتمے کے لیے سرگرم
دوسری جانب ٹرمپ کی روزانہ کی نئی سازشوں کے باوجود ایران نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے اس کی ہر طرف تعریف کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کو اچھی طرح سمجتھے ہوئے اپنے دور حکومت کے آخری دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے خلاف جنگ کے لئے بہانے تلاش کر رہے ہیں، ایران نے بڑی سمجھداری سے صبر کی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ تہران کو علاقے کی صورتحال کا پورا علم ہے۔
ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ دنیا کے رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ کسی بھی بہانے سے علاقے میں بحران پیدا کرنے والے ٹرمپ کو کنٹرول کریں۔
جیسا کہ ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ اگر ٹرمپ جنگ کا آغاز کرتے ہیں تو پھر اس کا خاتمہ ان کے ہاتھوں میں نہیں ہوگا کیونکہ علاقے کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔
دوسری طرف ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ یہ علاقہ امریکہ کا گھر جیسا نہ بن جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ حملے کے الزامات ایران پر عائد کرنے کے دو سبب سمجھ میں آتے ہیں۔
پہلا سبب یہ ہے کہ ٹرمپ سے امید رہتی ہے کہ وہ کبھی بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اپنی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کی وہ مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اسرائیل، ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کاروائی کے لئے ورغلا رہا ہے اور اب بھی یہ کام کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح سے ایٹمی معاہدے میں جو بائیڈن کی واپسی کے راستے کو بند کر دینا چاہتا ہے۔