اسرائیل کو تسلیم کرنے کے نقصانات برائے پاکستان

23 نومبر, 2020 18:50

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے نقصانات برائے پاکستان

باخبر پاکستانیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت ریاست پاکستان پر دباؤ ہے کہ وہ فلسطین کی غاصب جعلی ریاست اسرائیل کو بحیثیت ایک ملک تسلیم کرلے۔ وزیر اعظم عمران خان نے حالیہ انٹرویو میں بھی سوال کے جواب میں بین السطور اس دباؤ کا اعتراف کیا ہے۔

پاکستان کے خلاف بھارت سعودی عرب اور امریکا کا گٹھ جوڑ

چونکہ اسرائیل کی پشت پناہی امریکی حکومت اور امریکا و مغربی بلاک پر اثر انداز جیوش زایونسٹ (یہودی) لابی کررہی ہے۔ اور ان دونوں کے دوست متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے جبکہ سعودی عرب کے ولی عہد سلطنت محمد بن سلطان عرف ایم بی ایس نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتنیاہو اور موساد ایجنسی کے سربراہ کوہن سے تبوک سے کچھ فاصلے پر نئے جدید ساحلی شہر نیوم میں خفیہ ملاقات کی ہے۔

پاکستان کو بلیک میل کرنے والے جی سی سی ممالک

اس تناظر میں ایک عام پاکستانی کو سمجھ آجانی چاہیے کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کی پکڑ دھکڑ کیوں شروع کررکھی ہے اور وہ پاکستانیوں کو اپنے ملک سے بے دخل بھی کررہے ہیں۔ امارات اور سعودی عرب ماضی میں بھی اسی طرح پاکستان کو بلیک میل کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب چونکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے فائنل راؤنڈ کا مرحلہ چل رہا ہے تو اب انکی جانب سے دھمکیاں، بلیک میلنگ اور دباؤ بھی انتہا ء پر پہنچ چکا ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے نقصانات برائے پاکستان

شاہ و شیوخ ا ور انکے خاص چمچے

ایک تو یہ شاہ و شیوخ خود دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ دوسرا انکے خاص چمچے اپنے آقاؤں کی طرف سے دھمکیاں دیتے ہیں۔ تیسرے پاکستان میں مذہبی اور سیکولر دونوں مائنڈ سیٹ کے حامل افراد پیڈ کانٹینٹ کو پھیلاتے ہیں۔ اس طبقے میں ایک ٹولہ مولوی حضرات کا ہے تو دوسرا ٹولہ ایکٹیوسٹ کا ہے۔ بظاہر دونوں ایک دوسرے کے مخالف نظر آتے ہیں لیکن غیر ملکی آقاؤں کا ایک ہی امریکی زایونسٹ سعودی اماراتی بلاک ہے اس لیے اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لیے یہ دونوں اپنے اپنے حصے کے کام کررہے ہیں۔

خیالی و تصوراتی فوائد

ایک ٹولہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے ملنے والے خیالی و تصوراتی فوائد سے عوام الناس کو گمراہ کرتا چلا آیا ہے۔ اور بعض اچھے لوگ بھی نادانستہ طور سنی سنائی باتوں کو دہراتے ہیں۔ اس لیے اس تحریر میں اختصار کے ساتھ حقائق کو بیان کیا جائے گا۔ اور ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے پاکستان کو سوائے نقصانات کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ الٹا پاکستان کا اپنا وجود داؤ پر لگ جائے گا۔

اسرائیل اور پاکستان دونوں کے نظریے میں زمین آسمان کا فرق

سب سے پہلے تو یہ حقیقت ذہن میں ہمہ وقت تازہ رہے کہ پاکستان کے قیام کی بنیاد نظریہ پاکستان ہے۔ اور نظریہ پاکستان کے پیچھے بانیان پاکستان جیسی عظیم ہستیاں تھیں۔ خاص طور پر نظریہ ساز علامہ اقبال اور انکے قائد محمدعلی جناح اور ان دونوں کی جماعت مسلم لیگ۔ دوسرا نکتہ یہ بھی یاد رہے کہ اسرائیل اور پاکستان دونوں کے نظریے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

زایون ازم نسل پرستانہ دہشت گرد انہ غیر جمہوری نظریہ

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دنیا کے نقشے پر صرف دو ملک نظریے کی بنیاد پر بنے یعنی پاکستان اور اسرائیل، یہ لوگ غلطی پرہیں۔

جی ہاں، یہ غلط بیانی ہے۔ اسرائیل ایک جعلی ریاست ہے جو غیر ملکی نسل پرست یہودیوں نے نسل پرستانہ زایون ازم نظریے کے تحت فلسطین پر ناجائز و غاصبانہ قبضہ کرکے بنائی۔ زایون ازم نسل پرستانہ دہشت گرد انہ غیر جمہوری نظریہ ہے۔ یہ ہے نظریہ اسرائیل کی حقیقت۔

سو فیصد جمہوری اور منصفانہ نظریہ پاکستان

اس کے مقابلے میں نظریہ پاکستان سو فیصد مقامی آبادی کی تحریک کا نتیجہ ہے۔ اس برصغیر (غیر منقسم ہند) میں مسلمان صدیوں سے آباد تھے۔ یہاں مسلمانوں نے صدیوں حکمرانی کی۔ حتیٰ کہ برطانوی سامراج نے بھی جب غیر منقسم ہند پر ناجائز قبضہ کرکے اسے اپنی نوآبادی بنایا تب بھی اس مملکت پر مسلمانوں ہی کی حکومت تھی۔

برطانوی ناجائز تسلط سے نجات کے لیے مسلمان تحریک

برطانوی ناجائز تسلط سے نجات کے لیے مسلمانوں نے بھی تحریک چلائی۔ اور بتدریج انہوں نے پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے سو فیصد جمہوری اور منصفانہ مطالبہ کیا کہ مسلم اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کا حق حکومت تسلیم کیا جائے۔ شروع میں یہ مطالبہ مسلم اکثریتی صوبوں میں صوبائی خود مختاری کاتھا۔ لیکن برطانیہ سامراج نے غیر منقسم ہند کی مقامی آبادیوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کردیا تھا۔ اور مسلمان قیادت نے مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل علیحدہ آزاد مملکت پاکستان قائم کی۔

اسرائیل کے بانیان قوم

قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال اسی سرزمین کے مقامی تھے۔ نہ صرف پیدائشی بلکہ اجداد کے لحاظ سے بھی یہیں کے ہی تھے۔ جبکہ اسرائیل کے بانیان قوم میں روس، یورپ اور امریکا سمیت دوردراز سے آنے والے نسل پرست دہشت گرد یہودی تھے۔ انہوں نے ہگانہ، ارگن جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے فلسطینیوں کا قتل عام کیا اور انہیں انکی سرزمین سے نکال کر دیگر ممالک میں مہاجر کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور کردیا۔

پاکستان ایک جائز، جمہوری، پرامن سیاسی جدوجہد کا حاصل ہے۔ یہ یہیں کے مسلمانوں کے لیے ہے۔ جبکہ اسرائیل پوری دنیا کے یہودیوں کو عرب اکثریتی فلسطین میں آباد کرنے کے لیے بنائی گئی نسل پرست دہشت گرد غیر جمہوری اور ناجائز ریاست ہے۔ دونوں کا موازنہ بنتا ہی نہیں ہے۔

پاکستان اپنے وجود کا جواز
raison d’être
کھوبیٹھے گا

اس لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا جو سب سے بڑا نقصان ہوگا، وہ خود پاکستان کا اپنا وجود ہے جو داؤ پر لگ جائے گا۔ جو اسرائیل فلسطین کی قدیمی آبادی کے حق پر 1948ع سے ڈاکہ ڈال کر بیٹھا ہے، وہ پاکستان سمیت کسی بھی مسلمان ملک کا دوست کیسے بن سکتا ہے؟ غیر نلکی یہودی لینڈ مافیا قبضہ گروپ اسرائیل کو ایک ملک تسلیم کرلینے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ درست مان لیا جائے گا۔

پاکستان کا اپنا وجود داؤ پر لگ جائے گا

یعنی بھارت پاکستان کے قیام سے ویسے بھی خوش نہیں تھا اور مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے میں اسکا اعلانیہ کردار تھا۔ اور مورخین کے مطابق اس وقت بھی بھارت کا ہدف محض بنگلہ دیش بنانے تک محدود نہیں تھا بلکہ بلوچستان اور پختونستان تک کی بھارتی سازش تھی۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے بھارت نہ صرف اپنے پرانے منصوبوں پر از سرنو زیادہ طاقت کے ساتھ عمل کرے گا بلکہ کشمیر پر اسکا دعویٰ بھی اسی طرح عالمی برادری قبول کرلے گی جیسے بتدریج اسرائیل کو نسل پرستی کے باوجود قبول کرلیا۔

پاکستان زایونسٹ بلاک کی کالونی بن کر رہ جائے گا

اور تیسرا نقصان یہ ہوگا کہ دنیا کی واحد مسلم نیوکلیئر ریاست کی حیثیت مصر اور اردن جیسے بدحال ملکوں سے زیادہ بدتر ہوجائے گی کیونکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد انکی مالی مشکلات حل نہیں ہوئیں بلکہ ان میں اضافہ ہوا۔ اور پاکستان کی تو آبادی بھی بہت زیادہ ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے نقصانات برائے پاکستان

اور چوتھا نقصان ایسا ہوگا کہ جو طویل المدت تسلسل کے ساتھ دیگر نقصانات سے دوچار کرتا چلاجائے گا اور وہ ہے اسرائیلی امریکی سعودی اماراتی بحرینی ڈکٹیشن، بلیک ملینگ اور نہ ختم ہونے والے مطالبات۔ یعنی پھر پاکستان آل سعود، آل نھیان، آل خلیفہ اور ان جیسے دیگر شاہ و شیوخ کی نوآبادی بن کر رہ جائے گا۔

محمد ابوبکر فاطمی  شیعیت نیوز اسپیشل
United States witness fraud presidential election of the century

4:46 صبح مارچ 29, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔