تحفظ حرمت صحابہ کا شور مچانے والوں کو توہین رسالت مآب ؐ پر سانپ سونگھ گیا
شیعیت نیوز: فرانسیسی جریدے چارلی ایبڈومیں نبی کریم ؐ کے شان میں کستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور فرانسیسی صدر میکرون کی جانب سے ان گستاخی کی حمایت پر جہاں دنیا بھر کے غیرت مند مسلمان سراپا احتجاج ہیں وہیں پاکستان میں صحابہ صحابہ کی رٹ لگانے والے اور حرمت صحابہ پر جان بھی قربان ہے کے نعرے لگانے والے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق اس وقت پوری دنیا کے غیور مسلمان فرانس میں ہونے والی توہین رسالت ؐ پر شدید غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں ۔ کویت نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے، ایران کے سب سے بڑے روزنامےمیں آج فرانسیسی صدر میکرون کا خاکہ فرانس کا ابلیس کے نام سے شائع کیا ہے ،پاکستان میں بھی شیعہ سنی تنظیمات اور عوام اس بدترین توہین پر سراپا احتجاج نظر آرہے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: امت مسلمہ کے ساتھ غداری کا صلہ، سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کیلئےاہم اسرائیلی ایوارڈ کا اعلان
دوسری جانب چند روز قبل توہین صحابہ اور یزید لعین کے اسلام دشمن آباؤاجداد کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے والے اور ملک بھرمیں کافر کافر کے نعرے لگانے والے، صبح وشام شیعہ مکتب فکر کے خلاف زہریلی پریس کانفرنسز کرنے والے کالعدم سپاہ صحابہ اوراہل سنت کی لبادے میں چھپے ناصبی خادم لنگڑا گروپ کوفرانس میں ہونے والی توہین رسالت ؐپر سانپ سونگھ گیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: اس سے پہلے کہ حالات قابو سے باہر ہوجائیں فرانس کو توہین رسول اکرم ؐ پر معافی مانگنی چاہئیے،محترمہ زہرا نقوی
یہ تکفیری و ناصبی جنہوں نے صحابہ کی حرمت کے نام پر امریکہ، آل سعود اور آل النہیان سے کروڑوں ڈالر اور ریال لیکر پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ لگائی اورقومی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالا آج انہیں صحابہ کے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کی شان میں ہونے والی بدترین گستاخی پر چپ سادھے بیٹھے ہیں ، اب تک ان جماعتوں نےناہی کوئی احتجاج کیا نا ہی کوئی مزمتی پریس کانفرنس کی ۔
یہ بھی پڑھیں: چنیوٹ، جلوس چہلم امام حسینؑ پر درج ایف آئی آرمیں نامزد تمام عزاداروں کی ضمانت منظور
واضح رہے کہ یہ کالعدم تکفیری وہابی وناصبی جماعتیں نا ہی صحابہ کی حرمت کی پاسدار ہیں نا ہی حرمت وناموس رسالتؐ کی ورنہ یہ ٹولا چند ماہ قبل دختر رسول اکرم ؐ شہزادی کونین ، خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؑ کی شان اقدس میں ہونے والی بدترین گستاخی پر بھی صدائے احتجاج بلند کرتا لیکن انہوں نے ایسا نا کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا ہدف صرف بیرونی دشمن قوتوں سے پیسہ لیکر وطن عزیز کی سالمیت کو نقصان پہنچانا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:جشن عید زہراؑ و تاج پوشی امام مہدی ؑ ،پاکستان بھرمیں مذہبی عقیدت واحترام سے منایا جارہاہے
جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ 2012 میں جب مغربی ممالک نے توہین رسالت مآب ؐ کی جسارت کی تو اسی ارض پاک پرسب سے پہلے صدائے حق بلند کرنے والا کوئی اور نہیں پیروان مکتب اہل بیتؑ تھے اور جس شہید علی رضا تقوی نے امریکی سفارت خانے پر ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کی خاطر اپنی قیمتی جان کا نذرانہ پیش کیا وہ بھی اسی مکتب تشیع کا پیروکار تھا۔







