یمنی عوام کا مظاہرہ، اماراتی و صیہونی فوجیوں کے فوری انخلا کا مطالبہ
Demonstrators march with a sign reading in Arabic "the UAE is the leader of destruction and fragmenting the Arab region" during a protest in the southwestern Yemeni city of Taez on August 30, 2019, against air strikes carried out by the UAE on Yemen's second city of Aden. - The United Arab Emirates confirmed it launched air strikes on Yemen's interim capital Aden targeting "terrorist militias" after the government there announced the raids hit its troops. The Abu Dhabi statement said that the militias had planned to target a Saudi-led military coalition, of which the UAE is a key member, backing the Yemen government against Iran-aligned Huthi rebels. (Photo by Ahmad AL-BASHA / AFP)
یمنی باشندوں نے ملک میں اماراتی و صیہونی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
آئی آر آئی بی نیوز کے مطابق یمن کی مستعفی حکومت کے بعض سفارتکاروں نے خبر دی ہے کہ یمن کے سقطریٰ جزیرے کے باشندوں نے وہاں موجود متحدہ عرب امارات اور غاصب صیہونی ٹولے کے فوجیوں کی موجودگی اور انکے فوجی اڈوں کے قیام کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین جارح فوجیوں اور انکے فوجی اڈوں کو وہاں سے ہٹائے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ سقطریٰ نامی جزیرہ یمن کے جنوب میں آبنائے باب المندب پر واقع ہے۔ اسٹریٹیجک حیثیت کے حامل اس جزیرے میں غاصب صیہونی ٹولہ، قبلۂ اول کے غدار متحدہ عرب امارات کی مدد سے اپنے جاسوسی مراکز قائم کرنے کے درپے ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکی و صیہونی حمایت کے زیر سایہ اپنے اتحادیوں کے ہمراہ یمن کو گزشتہ ساڑھے پانچ برسوں سے شب و روز کی بنیادوں پر فضائی، زمینی اور سمندری جارحیت کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔







