معصوم بچوں سے زیادتی،جنسی درندےتکفیری ملاؤں کو سرعام سزائےموت کی قراردادمنظور
شیعت نیوز: ملک بھر خصوصاً کالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کےزیر انتظام اور دیگر وہابی تکفیری مدارس میں معصوم بچوں کے ساتھ بڑھتے زیادتی کے واقعات کے پیش نظرقومی اسمبلی میں بچوں سے زیادتی کے مجرمان کو سرعام سزائےموت دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی، پیپلز پارٹی نے قرارداد کی مخالفت کی۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں بچوں سے زیادتی کے مجرمان کو سرعام سزائےموت دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی، قرارداد وزیر مملکت علی محمد خان نے پیش کی۔ پیپلز پارٹی نے بچوں سے زیادتی کے مجرمان کی سر عام سزائے موت کی مخالفت کی، راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ چارٹر پر دستخط کرچکا ہے، دنیا اسے قبول نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل قمر باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز اجلاس، دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کوناکام بنانے کا عزم
علی محمد خان نے کہا کہ زیادتی کے مجرمان کے لئے وزیراعظم سزائے موت چاہتے ہیں، کمیٹی میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سزائے موت کا مطالبہ آیا تو مخالفت کی گئی، قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سزائے موت کا قانون بنانا چاہتی ہے، اپوزیشن بتائے وہ بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سزائے موت کے بل کی حمایت کرنے کو تیار ہے؟ اس سے قبل قومی اسمبلی میں زینب الرٹ بل بھی متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا جس کے تحت بچوں کے خلاف جرائم پر 10 سے 14 سال سزا دی جا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں: شہید قاسم سلیمانی نے جو راہ کھولی ہے، اس نے ہماری ذمہ داریاں بہت بڑھا دی ہیں، علامہ مرتضیٰ زیدی
ایکٹ کے تحت جو افسر دو گھنٹے کے اندر بچے کے خلاف جرم پر ایکشن نہیں لے گا اسے سزا دی جائے گی۔ بل کے متن میں کہا گیا کہ 109 ہیلپ لائن بھی قائم کی جائے گی جبکہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے اغوا، قتل اور زیادتی کی اطلاع کے لئے اور زینب الرٹ جوابی ردعمل و بازیابی کے لئے ایجنسی قائم کی جائے گی۔







