حشد الشعبی کے فوجی مراکز پر امریکی حملے عراقی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں،عراقی صدر ابراہیم صالح

30 دسمبر, 2019 19:04

شیعت نیوز: عراق کے صدر ابراہیم صالح نے حشد الشعبی کے خلاف امریکی ڈرون حملوں پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ الانبار میں واقع حشد الشعبی کے فوجی مراکز پر ہونے والے امریکی حملے عراقی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے زیراہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر احتجاجی مظاہرہ

عراقی صدر برھم صالح نے امریکی سفارتی اہلکاروں کیساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ یہ حادثہ امریکہ اور عراق کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے خلاف اور عراق کیلئے نقصاندہ ہے لہذا غیر قابل قبول ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سانحہ عاشوراکراچی کو دس سال بیت گئے مگر قاتل آج بھی آزادہیں،علامہ رضی جعفرنقوی

دوسری طرف قبل ازیں جاری ہونے والے امریکی بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی فضائیہ نے عراق اور شام میں حشد الشعبی اور اسکی ‘کتائب حزب اللہ’ بریگیڈ کے 5 فوجی مراکز کو اپنے ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے جبکہ حشد الشعبی الانبار کے کمانڈر قاسم مصلح نے کہا کہ ان امریکی حملوں کا مقصد عراق کے اندر موجود اسلامی مزاحمتی قوت کو کمزور بنانا ہے۔

6:04 صبح مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔