یمنیوں نے عرب ممالک کی اقتصادیات کو آگ دکھا دی ہے، امریکا ایران سے جنگ کرنے کی جرات نہیں کرسکتا ہے، ناصرشیرازی

23 ستمبر, 2019 18:07

شیعت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ناصرعباس شیرازی نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر کے مسئلے پر حکومتی اقدامات ناکافی ہیں، حکومت میں دو الگ طرح کے مکتب فکر ہیں، ایک جس کو شاہ محمود قریشی صاحب لیڈ کرتے ہیں اور اس میں انکا انداز بہت زیادہ امیدوار نہیں ہوتا بلکہ وہ مشکلات کو زیادہ بتاتے ہیں، اپنی سیاسی اور اقتصادی مشکلات کو بیان کرتے ہوئے وہ انڈیا کے سحر کو بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، دوسرا مکتبہ فکر وہ ہے جسے خود عمران خان لیڈ کرتے نظر آتے ہیں، جس میں کہتے نظر آتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ بھارتی صدر کو پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کرنے دی گئی، یہ ایک مناسب بات ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ کشمیریوں نے اس مسئلے کو اتنا بڑا کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی 70 سال کی غفلتوں کا مداوا کرسکتا ہے، تمام طبقات اس وقت بھارت کے خلاف ہوگئے ہیں، جو بھارت نواز تھے، وہ بھی مخالف ہوگئے ہیں اور بھارتی اقدام کو مسترد کرچکے ہیں، دس لاکھ دشمن کی فوج ٹریپ ہوگئی ہے، آپ کے پاس بہترین موقع ہے کہ لوکل لوگوں کی مدد کریں اور تحریک کو بڑھاوا دیں۔

یہ بھی پڑھیں: یمنی مجاہدوں کی آل سعود پر کاری ضرب،غمزدہ عمران خان تعزیتی دورے پر سعودیہ روانہ

انہوں نے ایک اورسوال کے جواب میں کہاکہ ایران کی جانب سے ڈرون اتارنا، ڈرون کو تباہ کرنا، آبی گزرگاہ پر جہازوں کو روکنا، ماضی میں خود امریکیوں کو ہاتھ باندھ کر لے جانا اور پھر چھوڑ دینا ثابت کرتا ہے کہ ایران بہت آگے ہے، فرض کرتے ہیں کہ یمنیوں کو ڈرون ٹیکنالوجی اور تکنیکی مہارت دی ہے تو پھر بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران کی رسائی بہت آگے بڑھ گئی ہے، وہ یمن میں بھی ہے، عراق میں بھی ہے اور شام میں بھی ہے، وہ فلسطین میں بھی موجود ہے، اس صورت میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکا ایران سے جنگ کرنے کی جرات کرسکتا ہے، جواب نہیں ہے۔

ناصرشیرازی نے مزیدکہاکہ منیوں نے اپنی اہلیت، لیاقت اور استعداد کار میں بہت اضافہ کیا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتری دکھائی ہے، یمنیوں کے پاس کھونے کو کچھ نہیں، لیکن انہوں نے سعودیہ اور یو اے ای کی اقتصادیات کو آگ دکھا دی ہے، مذاکرات کے علاوہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے، جنگ بند کریں۔ یہ جنگ ختم کرنا پڑے گی، یمنیوں کو اپنی حکومت بنانے اور چلانے میں آزاد چھوڑنا ہوگا، یہ جنوب اور شمال کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہیں گے، اگر تقسیم کی سازش کامیاب نہ ہوئی تو انقلاب اسلامی سے متاثر سعودی عرب کے بارڈر پر ایک اور اسلامی حکومت ہوگی، جو مزاحمت کے بلاک کا حصہ ہوگی۔

6:33 صبح مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔