پاکستان

کوئٹہ: 16 سالوں میں 525 شیعہ قتل کیئے گئے، انسانی حقوق کمیشن / جبکہ حقیقت میں 1000 سے زائدشیعہ قتل ہوئے

شیعیت نیوز: پاکستان میں حکومتی سطح پر قائم قومی کمیشن برائے حقوق انسانی نے کہا ہے کہ گذشتہ 16 برسوں کے دوران صوبہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے واقعات میں شیعہ ہزارہ برادری کے 525 افراد شہید اور734 زخمی ہوئے۔

پیر کو کوئٹہ میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے بارے میں رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ میں بلوچستان میں مقیم ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو درپیش صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کمیشن کی رکن فضیلہ عالیانی نے کہا کہ شیعہ مسلمانوں ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اور انکی بڑی تعداد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ماری گئی اور زخمی ہوئی ہے۔نامہ مگار کے مطابق فضیلہ عالیانی نے بتایا کہ جب کمیشن نےشیعوں کی ٹارگٹ کلنگ اور اس کے نتیجے میں ان کو درپیش واقعات کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کیا تو بعض حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت بھی کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کمیشن کے چیئرمین نے تحقیقات کا حکم دیا۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق شیعہ افراد کی بڑی تعداد میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سنہ 2000 کے بعد پیش آئے۔

رپورٹ میں 15ا گست 2001 سے 20 اکتوبر2017 تک ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے 46 واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں 525 افراد شہید اور 734زخمی ہوئے۔

دوسری جانب شیعہ تنظیموں اور اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق شہید اورزخمیوں کی تعداد 1000 سے کہیں زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کمشن کی یہ رپورٹ صرف کوئٹہ و بلوچستان میں شہید ہونے والے شیعہ مسلمانوں کے اعداد و شمار پیش کررہی ہے، جبکہ اس اعداد و شمار پر بھی تحفظات ہیں، جبکہ پاکستان بھر میں شیعہ نسل کشی کے نتیجہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 20000 بیس ہزار بتائی جاتی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button