سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کے معاملے میں حکومت ایران کے تحفظات دور کرے، جنرل (ر) امجد شعیب

04 اپریل, 2017 00:00

شیعیت نیوز: پاکستانی قیادت کی جانب سے اسلامی عسکری اتحاد کے لئے جنرل (ر) راحیل شریف کو این او سی جاری کرنے پر ایران کے تحفظات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ راحیل شریف کی تقرری کے معاملے پر ایرانی سفیر کا سامنے آنے والا ردعمل بدلا ہوا ہے۔ ڈان نیوز کے پروگرام نیوز وائز میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ جنرل (ر) راحیل شریف کو این او سی جاری کرنے سے قبل ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تھی، جس میں انہیں ساری صورتحال سمجھائی گئی تھی۔ دفاعی تجزیہ کار کے مطابق اس ملاقات کے بعد ایرانی سفیر مطمئن تھے اور اس سے اگلے مرحلے میں این او سی کا معاملہ وزیراعظم نواز شریف کے سامنے پیش کیا گیا، جس کی بنیاد پر سابق آرمی چیف کو این او سی جاری کیا گیا۔

جنرل (ر) امجد شعیب نے مزید کہا کہ حالیہ صورتحال میں راحیل شریف ایران کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن اس سے قبل حکومت کے ایک اعلٰی سطح کے وفد کو ایران کا دورہ کرکے ایرانی قیادت سے بات چیت کے ذریعے ان کے تحفظات کو دور کرنا چاہیئے۔ دفاعی تجزیہ کار نے کہا کہ دوسری جانب ایران کو یہ بات سمجھنا چاہیئے کہ اگر دو اسلامی ممالک کے درمیان چپقلش چل رہی ہو تو یہ پاکستان کی واضح پالیسی ہے کہ وہ اس کا حصہ نہیں بنتا، جیسا کہ یمن کے معاملے میں دیکھا گیا اور یہ بات ایران کے لئے باعث اطمینان ہونا چاہیئے تھی۔

جنرل (ر) امجد شعیب نے مزید کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے اکٹھے ہونے سے اسلامی عسکری اتحاد مزید مضبوط ہوگا، یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب راحیل شریف اسلامی عسکری اتحاد کے سربراہ کا عہدہ سنبھال کر ایران کے شکوک و شبہات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ یاد رہے کہ دسمبر 2015ء میں سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے کئی ریاستوں پر مشتمل فوجی اتحاد قائم کیا گیا ہے، جسے امریکہ نے سنی اتحاد کا نام دیا ہے، ابتداء میں اس اتحاد میں 34 ممالک شامل تھے، بعد ازاں مزید ممالک کی شمولت سے اس کی تعداد 39 ہوگئی، تاہم ایران، یمن، شام، اور عراق سمیت کئی ممالک اس کا حصہ نہیں ہیں۔ نومبر 2016ء میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد مسلسل یہ بات زیر بحث رہی ہے کہ وہ اسلامی اتحاد کی اس فوج کے سربراہ بن رہے ہیں۔ ابتداء میں سرکاری سطح پر کسی نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی، تاہم گذشتہ ماہ کے آخر میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا تھا کہ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو 39 مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کا سربراہ بنانے پر اصولی طور پر اتفاق ہوگیا ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس کی رسمی کارروائی شروع نہیں ہوئی ہے، لیکن اصولی طور پر یہ طے ہوگیا ہے کہ وہ وہاں جائیں گے، جبکہ رسمی کارروائی بھی ہو جائے گی۔

8:44 شام اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔