پاکستان

امریکی، اسرائیلی اور سعودی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت پر وفاق المدارس شیعہ نے تحفظات کا اظہار کردیا

شیعیت نیوز: وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر علامہ سید نیاز حسین نقوی نے کہا ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاداور برابری کی بنیادپر اسلامی ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات پاکستان کی قابل فخر پالیسی رہی ہے۔ مگر 34۔ ممالک کے مسلکی عسکری اتحاد کے سربراہ کی حیثیت سے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تعیناتی سے مملکت خداداد کی غیر جانبدارانہ حیثیت متاثر ہوگی ۔ اس لئے ہوش کے ناخن لیتے ہوئے فیصلے کو واپس لیا جائے۔ یہ اتحاد امت دہشت گردی کے خلاف ہے تو ایران، عراق، اورشام اس میں شامل کیوں نہیں جو عملی طور پر داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کا عملی مقابلہ کررہے ہیں۔عرب ممالک مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف اتحاد تشکیل دیں ۔ میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ سعودی عرب کی قیادت میںعسکری اتحاد کن اسلامی ملک کے خلاف تشکیل پا یا ہے، جس کے ساتھ اسرائیل مل کر اسلامی جمہوری ایران کے خلاف کام کرنے کا اعلا ن کرتا اور امریکہ اسے خوش آئند قراردیتا ہے۔یہ کیسا اتحاد ہے جس پر اسلام دشمن قوتیں بہت خوش ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان ممالک کو سوائے انتشار پیدا کرکے بدنامی لینے کے سوا پہلے کچھ ملا اور نہ ہی اب کوئی امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمران عالمی فرقہ وارانہ کھیل کا حصہ نہ بنیں تو یہ امت مسلمہ اور خود ملکی حالات کے لئے بھی بہتر ہوگا۔پہلے ہی عالمی طاقتوں کے مفادات نے مسلمانوں کو تقسیم کیا اور خطے میں بدامنی کا دو ردورہ جاری ہے۔ جس کے تانے بانے ماضی کے جہاد افغانستان سے ملتے ہیں۔ عسکریت پسندی اور تکفیریت نے داعش، القاعدہ اور طالبان جیسی دہشت گرد تنظیموں کو جنم دیا، جنہوں نے صرف مسلمانوں کو شہید کیا ، انبیا علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور اولیا اللہ کے مزارات کو نشانہ بنایا اس لئے حکومت کسی فرقہ وارانہ عسکری اتحاد کا حصہ بننے سے انکار کردے ۔جیسا کہ پارلیمنٹ بھی پہلے یمن کے خلاف سعودی عرب کی جنگ کا حصہ بننے کے موقع پر قرارداد میںواضح ہدایات دے چکی ہے۔ علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ اگر یہ اتحاد امت دہشت گردی کے خلاف ہے تو ایران، عراق، اورشام اس میں شامل کیوں نہیں جو عملی طور پر داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کا عملی مقابلہ کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ عرب ممالک مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف اتحاد تشکیل دیں تو بہتر ہوتامگر ان ممالک سے پہلے کوئی توقع تھی نہ اب ایسا ہوتا ممکن نظر آتا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button