کراچی: مردم شماری کے دوران مسلک کا سوال، عملے اور اہل خانہ کے درمیان تکرار
شیعیت نیوز: کراچی کی مختلف شیعہ آبادیوں میں مردم شماری کے عملےاور اہل خانہ کے درمیان اس بات پر تکرار کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ مردم شماری پر فارم میں مسلک کا سوال نا ہونے کے باوجود مسلک کیوں پوچھا جارہاہے۔
اطلاعات کے مطابق کراچی کے مختلف شیعہ علاقوں سے اس قسم کی شکایت موصول ہوئی ہیں جن ملیر ، سولجر بازار اور دیگر علاقے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ مردم شماری کے فارم میں مسلک کا سوال نہیں پوچھا گیا لیکن فوجی جوان اپنی تحت اہل خانہ سے انکا مسلک پوچھ رہے ہیں اس بات کولے کر عوام اور مردم شماری کے عملے میں تکرار کی رپورٹس بھی موصول ہورہی ہے، اس حوالےسے مردم شماری کرنے والے سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہم یہ سوال نہیں پوچھ رہے بلکہ یہ سوال رینجرز اور فوج کےجوان پوچھ رہے ہیں۔
اس رپورٹ پر شیعہ قائدیں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، انکا کہنا ہے کہ مردم شماری کو مسلک شماری بنانے کا آرمی چیف اور حکومت فوری نوٹس لیں، کراچی میں مردم شماری کہ دوران شیعہ افراد سے مسلک اور دیگر غیر ضروری سوالات آخر کس قانون کے تحت پوچھے جارہے ہیں۔
اس سلسلے میں عوام نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے منعظم واقعات رونما ہوتے رہے ہیں لہذا اسطرح قومی پالیسی نا ہونے کے باوجود مسلک کا سوال پوچھنا ہمارے تحفظات کو بڑھاتا ہے ۔
دوسری جانب اگر مسلک کی بنیاد پر خانہ شماری و مردم شماری کرنی تھی تو مردم شماری کے فارم میں اس سوال کو رکھنا چاہئے تھا تاکہ حقیقی مسلکی شماریات سامنے آتیں اسطرح تو غلط اور غیرمصدقہ مسلکی شماریاتی سامنے آئیں گی اور پھر انہیں غیر مصدقہ شماریات کی بنیاد پر ہمارے یہ ادارے پالیسیاں مرتب کریں گے جس میں ناانصافی کا عنصر بڑھ جائے گا۔
شیعیت نیوز کے مطابق اس حوالے سے مجلس وحدت مسلمین اور اسلامی تحریک سمیت دیگر شیعہ جماعتوں نے مذمت کی ہے اور متعلقہ افراد سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔