عوام کو مزاحمتی اقتصاد کے اثرات نظر نہیں آرہے;آیت اللہ سید علی خامنہ ای

10 مارچ, 2017 00:00

رہبر انقلاب اسلامی،  آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے جمعرات کی صبح خبرگان کونسل کے سربراہ اور اراکین کی ملاقات کے دوران اس کونسل کو ملک کے حال اور مستقبل میں غیر معمولی، بہت اہم اور مؤثر قرار دیتے ہوئے عوام کے مسائل، بالخصوص ان کے معاشی مسائل کے آگے حکام کے احساس ذمہ داری کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا: لازم ہے کہ پیہم کوششوں کے ذریعے اور عوامی حیات میں مزاحمتی معیشت (Resistive economy) کے اثرات کو عملی صورت دے کر، حالیہ 4 عشروں کے شاندار اور عظیم سفر میں مزید تیزرفتاری لاتے ہوئے اس کو رونق بخشیں۔

امام خامنہ ای نے خبرگان کونسل کی مستعدیوں اور سرگرمیوں کی گہرائی اور زیادہ بہتر کیفیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مالک اشتر کے نام امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے مشہور عالم فرمان کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا اور فرمایا: امیرالمؤمنین (ع) نے اپنے فرمان کے اس حصے میں اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ حکام اپنے ہر اقدام حتی کہ اپنی خاموشی کے لئے بھی اللہ اور بندوں کے سامنے حجت پیش کرسکیں اور [اور اپنے اقدام، کلام یا خاموشی کے حوالے سے] جوابدہ ہوں۔

انھوں نے فرمایا: امیرالمؤمنین علیہ السلام کے کلام میں خدا اور عوام کے سامنے ذمہ دار حکام کی روشن حجت و دلیل کی ضرورت کے علاوہ اس بات تصریح ہوئی ہے کہ حکام کی کارکردگی کی کیفیت کو کچھ اس طرح سے ہونا چاہئے کہ عوام ان پر اعتماد کریں، ان کی طرف راغب ہوں اور ان کے اقدامات کے اثرات زمین پر دیکھے اور محسوس کئے جائیں۔

رہبر انقلاب نے فرمایا: اگر حکام کے اندر ذمہ داری کا احساس کچھ اس طرح سے ہو کہ وہ ہر وقت محنت اور کوشش اور مقصدیت و مجاہدت کی فکر میں مصروف ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلامی حکومت کے بنیادی اصولوں کے مطابق کام کررہے ہیں اور اگر صورت حال اس کے برعکس ہو تو جان لینا چاہئے کہ اسلامی حکومت کی مقررہ حدود اور دائروں سے نکل چکے ہیں۔

انھوں نے ایک ضمنی نکتے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: بعض بظاہر منور الفکر دانشور اس انداز سے بات کرتے ہیں کہ گویا مغربی تعلیمات عوام کے سامنے احساس ذمہ داری کا سرچشمہ اور احساس ذمہ داری کے فروغ کا سبب ہیں جبکہ سماجی ذمہ داری اور خدا اور عوام کے سامنے احساس ذمہ داری حکومت کے اسلامی اصولوں اور قرآنی تعلیمات و مفاہیم میں سے ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے "حکام کے احساس ذمہ داری” کو ایک "فوری، ضروری اور واجب” موضوع قرار دیا اور فرمایا: عوام کے ثقافتی و معاشی مسائل کے حل کی ہم پر شدت سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اگر حتی ایک مؤمن نوجوان خدا ناخواستہ ہماری کارکردگیوں کی وجہ سے رستے سے بھٹک جائے تو ہم جوابدہ ہیں۔

انھوں نے فرمایا: ملک کے بنیادی مسائل کے سلسلے میں اختلاف رائے اور ذائقوں اور ترجیحات کے درمیان فرق [فطرتا] موجود ہے اور ممکن ہے کہ ہر نظریئے کے حامی اپنے نظریئے کے لئے استدلال بھی کرسکیں، لیکن ایسے مواقع ہر راہ حل یہ ہے کہ اسلامی نظامی کے بنیادی اصولوں کی طرف رجوع کیا جائے اور اگر استدلال ان اصولوں کے مطابق ہو تو صحیح ہے ورنہ تو قابل قبول نہ ہوگا۔

رہبر انقلاب نے فرمایا: اسلامی نظام کے بنیادی اصول بارہا امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّهُ) کے بیانات میں بیان ہوئے ہیں اور میں اسی بنا پر ہمیشہ سے حکام، عوام، بالخصوص نوجوانوں پر زور دیتا رہتا ہوں کہ امام بزرگوار کے وصیت نامے سے رجوع کیا کریں۔

امام خامنہ ای نے فرمایا: "اسلامی احکامات کا نفاذ ـ خواہ وہ تدریجی انداز سے ہی کیوں نہ ہو ـ”، "اسلامی احکام کے نفاذ کے عمل سے پسپائی اختیار نہ کرنا”، "استکبار کے خلاف جدوجہد جاری رکھنا اور اس پر [ہرگز] بھروسا نہ کرنا”، اسلامی نظام کے بنیادی اصول ہیں اور بین الاقوامی استکبار نیز اہل ایمان پر اہل ایمان کی برتری کی کوششوں کے خلاف جدوجہد، اسلامی نظام کے بلا چون و چرا لوازمات میں سے ہے۔

امام سید علی خامنہ ای نے فرمایا: جدوجہد صرف عسکری تصادم ہی نہیں ہے بلکہ یہ مختلف ثقافتی، فکری، سیاسی اور سلامتی [سیکورٹی] کے پہلؤوں پر مشتمل ہے۔

"عوامی کے درمیان مقبولیت اور عوام پر اعتماد”، "انصاف پسندی”، "ظلم اور بدعنوانی کے مدمقابل ڈٹ جانا”، اور "قومی خود اعتمادی اور ملّی عظمت” ان دوسرے اصولوں میں سے ہیں جن کی طرف رہبر انقلاب اسلامی نے اشارہ کیا اور فرمایا: "ثقافتی سیادت کا احساس”، اور "اجنبی ثقافت کے سامنے ذلیل نہ ہونا” اسلامی نظام کے دوسرے اہم اصول ہیں اور ہمیں ثقافتی میدان میں ہرگز کمزوری اور کمتری کے احساس [Inferiority Complex] میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمیں ہمیشہ برتری کا احساس [Sense of Superiority] ہونا چاہئے۔

حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے علم و دانش سمیت تمام شعبوں میں جہادی عمل کو اسلامی نظام کے دیگر اصولوں میں سے قرار دیا اور فرمایا: "اشرافیت کی طرف عدم رجحان” اسلامی نظام کے دوسرے اصولوں میں سے ہے لیکن بدقسمتی سے آج کے معاشرے کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ بعض حکام کی کارکردگی کی وجہ سے حتی معاشرے کے اوسط اور زیریں طبقوں میں بھی اشرافیت کی نمائش کا رجحان پایا جاتا ہے۔

انھوں نے فرمایا: "معاشرے کے کمزور طبقوں کے لئے بہت زیادہ درمندی” بھی اسلامی نظام کے اصولوں میں شمار ہوتی ہے اور ابتدائی مرحلے میں خبرگان کونسل کی اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ رہبر کی ذات میں، تمام مقررہ خصوصیات کی موجودگی کا جائزہ لینا ہے، اور یہ کہ یہ خصوصیات قیادت کے دوران اس کی ذات میں موجود رہتی ہیں یا نہیں۔

امام خامنہ ای نے فرمایا: یہ کہ آج حکام اور ماہرین کے بیانات میں "مزاحمتی معیشت” کی اصطلاح کو مسلسل دہرایا جارہا ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس فکری ڈھانچے کو تسلیم کیا گیا ہے، اور [اب] اہم بات یہ ہے کہ اس ڈھانچے کو عملی میدان میں نافذ کیا جائے۔

رہبر معظم نے فرمایا کہ گذشتہ سال بھی "مزاحمتی معیشت” پر زور دیا گیا تھا، کیونکہ اُس سال عملی طور پر قابل قبول اقدام عمل میں نہیں لایا گیا، اسی لئے ہم نے اِس سال [1395 ہجری شمسی] کو "مزاحمتی معیشت، اقدام اور عمل” کا سال قرار دیا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: البتہ حکومت کے ذمہ داروں نے اس سلسلے میں قابل توجہ اقدامات انجام دیئے ہیں، لیکن یہ ضروری اقدامات کا صرف ایک حصہ ہیں۔

امام خامنہ ای نے فرمایا: اگر مزاحمتی معیشت کے سلسلے میں تمام تر اقدامات عمل میں لائے گئے ہوتے تو آج ہم ملک کے معاشی حالات اور عوام کی روزمرہ زندگی میں قابل ملاحظہ فرق محسوس کرتے۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: میں نے صدر محترم سے بھی کہا ہے کہ کلان معاشیاتی اشاریئے بیان کرنا اچھا ہے بشرطیکہ اعداد و شمار قابل عذرداری نہ ہوں، تاہم یہ اشاریئے مختصر مدت اور درمیانی مدت میں عوامی معیشت پر اثرانداز نہیں ہوتے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس حقیقت پر زور دیا کہ کہ عوامی زندگی پر اثر انداز ہونے کے لئے مختلف راستے موجود ہیں، اور فرمایا: عوامی شکایات اور ماہرین کی آراء ہمیں موصول ہوتی ہیں اور پیداوار [کی بہتری]، روزگار [کی فراہمی]، حقیقی معنوں میں کساد بازاری کے خاتمے، اسمگلنگ کے خاتمے اور برآمدات و درآمدات کے سلسلے میں اس طرح سے کام کرنا چاہئے کہ عوام اس کے اثرات کو اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کریں، لیکن اس وقت ایسا نہیں ہے۔

امام خامنہ ای نے "بیرونی سرمایہ کاری کھینچ لانے” کے عمل کو مثبت قرار دیا اور فرمایا: اب تک بہت قلیل سی بیرونی مفاہمتیں عملی جامہ پہن سکی ہیں، چنانچہ ان [بیرونی سرمایہ کاروں] کی سرمایہ کاری کے انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ جو کچھ ہم خود کرسکتے ہیں، ملک کے اندر ہی انجام دینا چاہئے۔

رہبر معظم نے اپنے خطاب کے اس حصے کے اختتام پر زور دے کر فرمایا: مزاحمتی معیشت فکری اور نظری اصولوں کے ساتھ، ملکی مسائل کا واحد علاج ہے اور اسے نافذ کردیا جائے۔

قوم کے منتخب خبرگان [ماہرین] کے اجتماع سے رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب کا تیسرا حصہ اسلامی نظام کے ساتھ عالمی غالبیت پسندوں کی دشمنی کے اسباب اور پہلؤوں کی تشریح سے مختص تھا۔

انھوں نے "خالص محمدی اسلام کے نفاذ کے لئے اسلامی نظام کی کوششوں” اور "مطلوبہ اہداف کی طرف ملت [ایران] کی عظیم اور جہادی حرکت” کو اسلامی جمہوریہ کے ساتھ مستکبرین کی گہری اور ہمہ جہت دشمن کا بنیادی سبب قرار دیا اور فرمایا: مستکبرین اس وقت تک علماء کی حکومت اور اسلام کے ظاہری احکام کے نفاذ کی مخالفت نہیں کرتے جب تک کہ وہ ان کے مفادات سے متصادم نہ ہو، اسی بنا پر وہ بعض ان ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات میں منسلک ہیں جو ان خصوصیات کے حامل ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: "[عالمی] قوتوں سے ملک کی وابستگی سے نجات” اور "ان کے ناجائز فائدے اٹھانے کے راستوں کی بندش” ایران میں خالص محمدی اسلام کے تدریجی نفاذ کے نتائج میں سے ہیں، اور اگر اسی وقت بھی ہم اجازت دیں کہ امریکی طاغوت [شاہ] کے دور کی مانند ایران میں تمام معاملات پر مسلط ہوجائیں اور ہم ان پر اعتماد کریں تو وہ "اسلامی جمہوریہ” کے نام سے کسی قسم کا بھی اختلاف نہیں کریں گے۔

رہبر معظم انقلاب امام خامنہ نے ایران کے ساتھ عالمی جابر قوتوں کے محاذ کی عداوت کے مختلف مراتب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ اور صہیونی ریاست کی دشمنی نقد، تیز دھار اور عملیاتی [Operational] ہے، لیکن کچھ دوسرے لوگ اپنے مفادات کی بنا پر اس دشمنی کو زبان و عمل میں اس شدت سے ظاہر نہیں کرتے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے باوثوق معلومات سے استناد، سیاسی اور سلامتی کے مسائل، شدید معاشی دباؤ اور ثقافت کے میدان میں وسیع ـ مگر خاموش ـ یلغار دشمن محاذ کی منصوبہ بندی اور کاروائی کے بنیادی محور ہیں؛ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ عوام کو اسلامی نظام سے ناامید کریں اور دشمن کے مقابلے میں حکام کی استقامت کا یہ بنیادی سہارا چھین لیں۔

امام خامنہ ای نے "طاقتور، مہاجمانہ [Assaultive] اور منطق پر استوار مقابلے” کو مستکبرین کے محاذ کے منصوبوں اور سازشوں کو بےاثر کرنے کا بنیادی راستہ قرار دیا اور فرمایا: ہمیں تمام شعبوں منجملہ انسانی حقوق، دہشت گردی اور جنگی جرائم کے سلسلے میں مغرب کے مد مقابل مہاجمانہ رویہ اپنائے رکھنا چاہئے۔

انھوں نے ایران کے انتخابی عمل پر امریکہ کی حالیہ شدید تنقیدوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے فرمایا: امریکی، جو خطے کے پلیدترین اور انسانیت دشمن ترین ریاستوں کے ساتھ دوستانہ روابط میں منسلک ہیں اور جنہوں نے اپنے حالیہ صدارتی انتخابات میں اس قدر عظیم رسوائیوں کے اسباب فراہم کئے ـ ملت ایران کے انتخابات پر حملہ اور تنقید کررہے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے واضح کیا: اس کے باوجود کہ تمام بڑی طاقتوں اور صہیونی تشہیری ابلاغی سلطنت [Media Empire] کی بلا توقف یلغار کے باوجود ایرانی قوم اسلامی انقلاب کے بعد تمام شعبوں میں ترقی کرچکی ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ نے فرمایا: ہم ثقافتی میدان میں بھی، جس کے حوالے سے میں بہت حساس اور فکرمند رہتا ہوں ـ ترقی کر چکے ہیں اور آج کے نوجوان ـ ابتدائے انقلاب کے نوجوانوں کی نسبت ـ بہت زیادہ مستحکم یقین کے ساتھ مختلف شعبوں میں دفاع اور جانفشانی کے لئے آمادہ ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے دنیا ـ بالخصوص مغربی ایشیا ـ میں اسلامی جمہوریہ کی عمیق اور وسیع تزویری گہرائی [Strategic Depth] کو حالیہ چار عشروں کی اہم ترقی پیشرفت قرار دیتے ہوئے فرمایا: ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور اقوام کی طرف سے اسلامی نظام کی حمایت، ہماری مضبوط تکیہ گاہ ہے اور یہ امریکیوں کے غیظ و غضب کا سبب بنی ہوئی ہے، اور اور ان کے تجزیہ نگاروں کو ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لئے چارہ کار تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آحر میں، ترقیوں اور کامیابیوں کو اللہ کے لطف اور فضل کی نشانی قرار دیا اور ملک کے ذمہ دار حکام اور اہلکاروں کو ان نعمتوں کی قدردانی کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: حکام اگر اپنی بھاری ذمہ داریوں سے بخوبی نمٹ لیں تو یہی ان نعمتوں کی حقیقی شکرگذاری ہوگی۔

واضح رہے کہ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آغاز پر حضرت ام ابیہا سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے ایام ولادت کے سلسلے میں ہدیۂ تبریک پیش کیا اور

جناب ہاشمی رفسنجانی کو خراج تحسن پیش کیا اور مجلس خبرگان کی تشکیل کے آغاز ہی سے، اس مجلس [کونسل] میں ان کے مؤثر کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آقائے ہاشمی رفسنجانی مرحوم ایک قابل قدر شخصیت اور اسلامی جمہوری نظام کے اہم عناصر میں سے تھے، اور اس برادر عزیز کی یاد ہمارے ذہنوں سے کبھی نہیں مٹ سکے گی۔

امام خامنہ ای نے صوبہ لُرِستان سے خبرگان کونسل کے رکن آقائے شاہ رخی مرحوم کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

انھوں نے تہران کی ایک عمارت میں لگنے والی آگ بجھاتے ہوئے جان کی بازی لگانے والے آتش کُشوں [Firefighters] کی جانفشانی کی طرف بھی اشارہ کیا اور فرمایا: ان جانباز انسانوں نے ـ جن میں سے اکثر نوجوان بھی تھے ـ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس جذبے کی موجودگی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ جس وقت کہ [دنیا بھر] میں اس طرح کے حالات میں اس طرح کے افراد اور جذبات نادر ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اور ہمارے نوجوانوں کے درمیان قربانی کا جذبہ بدستور قائم ہے۔

امام سید علی خامنہ ای نے خبرگان کونسل کے سربراہ اور اراکین کی طرف سے ذیلی کمیشنوں کو متحرک کرنے کے عمل کی تعریف کی۔

12:58 شام جون 19, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔