محرم الحرام میں خواتین کی مجالس دہشتگردوں کا ہدف کیوں؟

19 اکتوبر, 2016 00:00

تحریر: سید اے مہدی

شیعیت نیوز: کراچی میں گذشتہ روز خواتین کی مجلس عزا میں لشکرجھنگوی کے دہشتگردوں نے کریکر حملہ کیا جسکے نتیجے کمسن بچہ فراز جام شہادت نوش کرگیا، پاکستان میں یہ واقعہ پہلا نہیں اس سے قبل بھی کئی شیعہ خواتین شہید کی جاچکی ہیں ،لاہور میں ملک دشمن کالعدم سپاہ صحابہ نے ایک شیعہ مسیحا لیڈی ڈاکٹر کو ٹارگیٹ کرکے شہید کیا تھا، مگر پاکستان میں باقاعدہ گھروں پر منعقد مجالس عزا کو نشانہ بنانا باعث تشویش ہونے کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کی پست ذہنیت ہونے کا بھی واضح ثبوت ہے۔

۵ محرم الحرام کو کراچی شہر کے پوش علاقہ گلشن اقبال میں جاری ایک گھر میں خواتین کی مجلس پر دہشتگردوں نے کریکر حملہ کیا ، اس کے نتیجے میں باہر کھڑے اہل خانہ کےمرد اور رشتہ زخمی ہوئے جبکہ ایک مومن کچھ دنوں بعد زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے شہید ہوگئے ،جبکہ 15 محرم الحرام کو ایک بار پھر خواتین کی ہی مجلس عزا پر کریکر حملہ کیا گیا اس حملہ میں ایک کمسن بچہ شہید جبکہ 30 سے زائد مرد و خواتین زخمی ہیں، ایک اور بات دھیاں میں رہے کہ محرم الحرام کی دوسری تاریخ کوئٹہ شہر میں ۴ شیعہ خواتین کو شناخت کرکے شہید کیا گیا تھا، جبکہ ایک سُنی خاتون بھی اس سانحہ میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ہوئیں۔

یہ واقعا ت کیوں رونما ہورہے ہیں؟ دہشتگرد کیوں خواتین کی مجالس کو نشانہ بنارہے ہیں؟ یہ سوال لوگوں کے ذہنوں ابھررہے ہیں مکتب اہلیبت علیہ سلام کے پیروکار اس کا جواب جانتے ہیں غیروں کے لئے یہاں تحریر کیا جارہا ہے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ شیعہ مکتب کی خواتین پر حملے کرنے کی اصل وجہ کیا ہے۔

تکفیری وہابی دہشتگردوں نے 30 سالوں میں لاکھ کوشیش کرلی کہ کسی بھی طرح سے پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کو محدود کردیا جائے، انکی عزاداری ختم کردی جائے لیکن وہ اپنے ان اہداف میں ناکام رہے ہیں، اس مقصد کے لئے انہوں نے بڑے بڑے لشکر بنائے اور لشکر کشی تک کی پروہ مایوس رہے، عزاداری کے جلوسوں اور مجالس سمیت مساجد میں بم دھماکہ کیئے گئے لیکن انکو اس وقت شدید مایوسی کا سامنے کرنا پڑ ا جب میڈیا نے ممبر کا کردار ادا کرتے ہوئے یہ دیکھایا کہ کراچی شہر میں دھماکہ ہوتا رہا لیکن علم عباس ؑ سلام پر آنچ تک نا آئی،اس کے علاوہ ٹارگیٹ کلنگ، پروپگنڈا، فتویٰ ، سیاسی حربے اور جو کچھ وہ کرسکتے تھے انہوں نے کیا تاہم عزاداری اسی شان و شوکت سے جاری و ساری ہےاور رہے گی۔

اب کی بار انہوں نے خواتین کی مجالس کو نشانہ بنایا ، چونکہ فطراً خواتین کمزور اور نازک مزاج ہوتی ہیں لہذا جب انکی مجالس کو نشانہ بنائیں گے تو وہ خوف ذدہ ہوجائیں گی اور گھر گھر مجالس کا سلسلہ روک سکے گا لیکن تکفیریوں کایہ ارادہ بھی کامیاب نہیں ہوسکا اور انہوں نے دیکھا کہ ۵ محرم کو مجلس عزا پر حملہ کرنے کے باوجود عزادای بالخصوص خواتین کی عزاداری اس طور طریقہ سے جاری و ساری رہی، ایک بار پھر انہوںنے ایف سی ایریا میں دھماکہ کرکے خوف ذدہ کرنے کی کوشیش کی لیکن اس میں بھی انہیں منہ کی کھانی پڑی اور مزید خواتین اس مقام پر پہنچی اور عزاداری کہ، ایسا کیوں ؟ اس لئے کہ دشمن شیعہ خواتین کو دیگر خواتین سے نسبت دے رہا تھا، جبکہ اسے معلوم نہیں کہ یہ عزادا رخواتین زینبیؑ جذبہ رکھتی ہیں جو ہرگز ظلم و جبر کے سامنے سر تسلیم خم نا ہوگیں،یہ خواتین کربلا میں موجود اُن ماوں کا سا جذبہ رکھتی ہیں جو اپنے بچوں کو حسین ابن علیؑ پر قربان کرنے کے لئے بیتاب تھیں ، اگر حسینی ؑ پیغام پر کوئی آنچ آئے تو یہی خواتین اپنی اولاد کو کفن پہنا کر جلو س میں لے کرآتی ہے،لہذا تکفیری دہشتگرد اس با ت کو شاید بھول گئے اور شیعہ خواتین کو عزاداری سے خوف ذدہ کرنے چلے پڑے ۔

آخر میں زینبی ؑ جذبہ کی ایک مثال پیش کی جارہی ہے، یہ مثال شہیدہ بنت الہدیٰ کی ہے، یہ آیت اللہ باقر الصد کی بہن تھیں جنہیں صدام لعین نے آیت اللہ صدر کے ساتھ ہی قتل کرڈالا، صدام حسین کہتا تھا کہ میں یزید جیسی غلطی نہیں کروں گا کہ جس نے حسین ؑ کو قتل کردیا اور انکی بہن زینب ؑ کو زندہ چھوڑدیا ،کیونکہ زینب ؑ نے ہی اپنے شہید بھائی کی فتح کا اعلان کوفہ و شام میں کیا۔ یہی تھا وہ زینبیؑ جذبہ کے جب شہید صدر کو صدام کے آدمی گرفتار کرکے لے گئے تو تاریخ میں لکھا ہے کہ شہید صدر کی ہمشیرہ شہیدہ بنت الہدیٰ نجف اشرف میں صحن حرم مطہر امام علی ؑ میں آئیں اور صدام کی اس حرکت کے خلاف شدید احتجاج کیا اور لوگوں کو جمع کرلیا، اس جرم میں انہیں بھی گرفتار کیا گیا اور پھر صدام نے اوپر لکھئے گئے جملے ادا کرتے ہوئے انکے قتل کا بھی حکم دیا۔

2:51 صبح جون 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔