سوڈان بھی فلسطین ثانی بننے کے قوی امکانات۔۔۔؟؟؟ تحریر :- عابد فاروقی

06 نومبر, 2025 17:46

شیعیت نیوز: سرزمین سوڈان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبد الفتاح کا کہنا ہے ظلم و بربریت کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، جس پر اللہ کی مدد ہو گی، وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔ جو ہمارا ساتھ دے گا، وہ فتح اور عافیت کی راہ پر چلے گا، ہم قاتل، ظالم حملہ آوروں کی حمایت نہیں کرتے ہم انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں، سوڈانی عوام کسی طاقت کے آگے سر نہیں جھکائیں گے ، ہماری جدو جہد آزادی رکنے والی نہیں ،کامیابی کے حصول میں چاہے جتنی مشکلات آئیں ، جتنی تاخیر ہو، مگر آخرکار حق غالب آکر ہی رہے گا۔ اس ضمن میں سوڈانی جنرل کا مزید کہنا ہے کہ ہمارا عقیدہ دفاع پر مبنی ہے، جارحیت پر نہیں۔ جو بھی ہمارے وطن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، ہم اسکا منہ توڑ جواب دیں گے، یہ جنگ کسی ایک شخص کی نہیں، یہ سوڈان کی افواج اور قوم کی جنگ ہے ، یہ جنگ ہمارے پاس ایک امانت ہے اس جنگ کو پورا سوڈان بحثیت قوم لڑے گا ۔

قارئین کرام ! یہ ہیں سوڈان کے جنرل کا قوت ایمانی اور قومی غیرت و حمیت سے لبریز نطقہ نظر اب دیکھنا یہ ہے کہ سوڈان کی عوام الناس اپنے ملکی سالمیت کیلئے کس قسم کا کردار ادا کریں گے ؟

اب یہ سوڈانی عوام پر منحصر کے کہ مفاد پرستوں اور عالمی استکبار کے ایجنٹوں کا ساتھ دیکر اپنے ملکی سالمیت کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیں گے یا حب الوطن رہنماؤں کی پشت پناہی کرتے ہوئے اپنے عزیز ملک کو خانہ چنگی کے گرداب سے چھٹکارہ دلائیں گے ؟ دوسری طرف سوڈانی صحافی، ناجی الکرشابی کا انتہائی بے بسی کے عالم میں کہنا ہے کہ "کاش مجھ میں اتنی ہمت ہوتی کہ میں سوڈان کی المناک کہانیوں کے بارے میں لکھ سکتا ۔ اللہ کی قسم ! الفاشر شہر میں ہمارے مسلمان بہن بھائی ایک بڑے قتل عام سے گزر رہے ہیں۔ وہاں کی تصویریں اور ویڈیوز اتنے خوفناک اور بھیانک ہیں کہ انہیں نشر نہیں کیا جاسکتا ۔

الفاشر کے لوگوں کو سچ مچ بھیڑوں کی طرح ذبح کیا جا رہا ہے، ان درندہ صفت استعماری آلہ کاروں میں ذرہ برابر بھی رحم نام کی کوئی چیز نہیں ۔قارئین کرام یہ ہیں ایک سوڈانی صحافی جو اپنے ملک کی بربادی پر عرصہ دراز سے نوحہ کناں ہیں لیکن تاحال اقوام عالم داد رسی سے گریزاں ہیں ۔ سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے پس منظر اور پیش منظر وجوہات کے بارے میں واقفان حال کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ اپریل 2023 میں شروع ہوا جب آرمی چیف عبدالفتاح البرہان اور آر ایس ایف کے رہنما محمد حمدان "ہمدتی” دگالو کے درمیان دیرینہ تناؤ کے باعث جنگ پھوٹ پڑی ، اولاً ، فوج اور آر ایس ایف کے درمیان اقتصادی مفادات اور وسائل پر کنٹرول کیلئے لڑائی بھی ایک اہم عامل ہے ، ثانیاً ، سوڈان میں سونے کی کان کنی اور دیگر معدنیات کے ذخائر بھی تنازعے کا ایک سبب ہیں ، ثالثاً ، دارفور میں نسلی بنیادوں پر اختلافات اور تشدد بھی اس تنازعے کی ایک وجہ ہے۔ خاص طور پر زغاوا قبیلے کے افراد کو نشانہ بنا رہی ہے. رابعاً ، آر ایس ایف پر الزام ہے کہ وہ نسلی بنیادوں پر قتل و غارتگری کر رہی ہے، خامساً ، سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اقتدار کی کشمکش خانہ جنگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ علاوہ ازیں کچھ علاقائی ممالک کی طرف سے لاجسٹک، سیاسی اور میڈیا کی مدد بھی اس تنازعے کو ہوا دے رہے ہیں.، جنگ کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد جاں بحق ،تقریبا 86 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

معزز قارئین ! اس خانہ جنگی کے بارے میں مزید جانکاری کیلئے اب ذرا اقوامِ متحدہ کے ایوان میں مظلوم سوڈانی نمائندے کا حالیہ ایک دلسوز خطاب بھی ملاحظہ کیجئے گا، یہ کوئی خانہ جنگی نہیں ، یہ ایک منصوبہ بندی تحت جارحیت ہے، جسے امارات اپنے ایجنٹ "الدعم السریع” کے ذریعے انجام دے رہا ہے ۔ وہی امارات، جس کے ہاتھوں پر الفاشر، دارفور، اور خرطوم کے بچوں، عورتوں، اور بے گناہوں کا خون سے رنگین ہے “یہ جنگ نہیں، ایک اماراتی منصوبہ ہے جو ہمارے گھروں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر رہا ہے اور ہماری ماؤں کے سہاگ اجاڑ رہا ہے، دنیا کو بتایا جا چکا ہے ، امارات امن حامی نہیں بلکہ تباہی کا وکیل ہے۔ وہ اپنے پیسے، اسلحے اور میڈیا کے ذریعے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرتے ہیں سوڈان کے مظلوم عوام روز مر رہے ہیں، مگر ظالموں کے چہرے پر اب بھی اقتدار کی شیطانی حرص و ہوس موجزن ہے ۔

یہ بھی پڑھیں : شامی جولانی حکومت کی آلہ کاردہشت گرد تنظیم “سپاہِ صحابہ” کے مبینہ میڈیا انچارج آفتاب نذیر کےخلاف تحقیقات کا مطالبہ

معزز قارئین! اس بارے میں لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی نے اپنے ایک تاریخی خطاب میں کہا تھا کہ پہلے بیروت، پھر شام، پھر عراق اب سوڈان کی تباہی کی ذمہ دار صرف اور صرف امارات ہی ہے ، خون خرابہ ، سازشیں اور تباہی جہاں بھی ہے، وہاں ان ہی کے منحوس ہاتھ کار فرما ہیں۔ معزز قارئین ! معمر قذافی نے برسوں پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ عرب دنیا میں کچھ حکومتیں دراصل آزاد نہیں بلکہ غیر ملکی طاقتوں کے ہاتھ کی کٹھ پتلی ہیں انہوں نے کہا تھا کہ امارات کوئی ازاد ریاست نہیں، بلکہ ایک استعماری آلہ کار ہے ایک ایسا آلہ کار جسے صہیونی طاقتیں اپنے منصوبوں کی تکمیل کیلئے استعمال کرتی ہیں، موساد ان کرایہ کے لشکروں کو متحرک کر دیتی ہے ۔ نتیجتاً دنیا بھر میں ابتلک لاکھوں بے گناہ مسلمان رزق خاک ہوچکے ہیں ۔

یقین جانیں ! آج معمر قذافی کے الفاظ یقیناً سچ ثابت ہو رہے ہیں، عرب دنیا میں فتنہ، تباہی اور سازشیں انہی ہاتھوں سے پروان چڑھ رہی ہیں بلا شبہ قذافی کی یہ پیشگوئی آج ایک تاریخی حقیقت بن چکی ہے ۔ اگر ناجائز صہیونی ریاست کے حالیہ برسوں کے جنگی جرائم کو مدنظر رکھ ماضی کے المیوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو معمر قذافی کی عالمی منظر نامے پر گرفت، استکباری چالوں کا ادراک اور دور اندیشی لائق ستائش ہے کیونکہ ایک طرف اسرائیل کا براہ راست فلسطین کی اینٹ سے اینٹ بجا دینا دوسری طرف لبنان پر حملہ آور ہونے کیلئے پر تولنا تیسری طرف سوڈان کی خانہ جنگی کا یوں اچانک شدت پکڑ کر کچھ ہی دنوں میں ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل عام مسلم امہ بشمول عالم انسانیت کیلئے لمحہ فکریہ ہے !

لہذا دیر آید درست آید کے مصداق نام نہاد اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او ، آئی ، سی سمیت تماشا بین صاحب اقتدار طبقہ کو چاہیے کہ سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے جلد خاتمے کیلئے فوری سفارتی کوششیں تیز تر کرنے کیساتھ ساتھ عملی اقدامات اٹھائیں ورنہ سوڈان کو فلسطین ثانی بننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ کیونکہ ابھی فلسطین کے ان گنت گھاؤ سے لہو رسنا بند نہیں ہوا ہے تو ایسی گمبھیر اور خون آلود عالمی منظر نامے میں سوڈان کی شکل میں ایک اور فلسطین کا اضافہ ! ایک اور انسانی المیہ ! آخر کب تلک خدا کی دھرتی میں بندگان خدا پر یوں ہی ظلم کے پہاڑ توڑے جائیں گے ؟ آخر کب تک معصوم بچے ، عمر رسیدہ بزرگان اور بے آسرا ماؤں کا بہیمانہ قتل عام جاری رہے گا ؟

آخر اہلیان سوڈان کی داد رسی کب ہوگی ؟ کیا اہلیان سوڈان کو بھی اہل فلسطین کیطرح گردش ایام کے بے رحم موجوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا اب کے بار بھی حسب سابق انسانیت کا جنازہ بڑی دھوم سے نکلے گا ؟ کیا انسانیت کی خوش نما پیشانی پر ایک اور بد نما داغ کا اضافہ ہوگا ۔۔۔۔ ؟؟؟ معزز قارئین اسطرح کے بہت سارے سوالات ہنوز جواب طلب ہیں ۔ کالم کی مزید طوالت سے بچنے کیلئے فی الحال علامہ اقبال کے ایک آفاقی شعر پر اکتفا کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں ۔

دنیا کو ہے اس مہدی بر حق کی ضرورت

ہو جس کی نگہ زلزلے  عالم  افکار

3:06 شام مارچ 6, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top