امام خمینی کن کو درباری کہتے تھے۔۔۔۔۔؟| تحریر: ڈاکٹر افضل کریمی
شیعیت نیوز: کافی عرصے سے نوٹ کیا جارہا ہے کچھ افراد اپنی ذہنی تسکین اور من چاہی مرادوں کی آبیاری کے لیے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری تقریر یا گفتگو میں سے محض ایک لفظ یا جملے کو سیاق و سباق سے کاٹ کر، اسے وہ معنی پہنائے جا دیتے ہیں جو ان کا مقصد ہرگز نہیں تھا۔ یہ عمل پاکستان کے متدین اور محب وطن شیعہ علماء کرام کے وقار کو مجروح کرنے کے لیے ثواب کی نیت سے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
حالانکہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی شخصیت کے کلام کو سمجھنے کے لیے اس کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ یہ دیکھنا لازمی ہے کہ وہ بات کس خاص ماحول، کس زمانے اور کس پس منظر میں کہی گئی تھی۔ جس ماحول میں اس جملے کو حوالہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، کیا وہ اصل ماحول سے ہم آہنگ بھی ہے؟ یہاں تک کہ قرآن کریم کی آیات اور احادیث مبارکہ کے ساتھ بھی اگر کوئی یہ سلوک کرے کہ ایک جملہ کو کاٹ کر اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کر دے تو شرعاً یہ طریقہ ممنوع اور ناقابل قبول ہے۔
ہمارے طالب علمی کے دور میں ایک واقعہ تھا کہ ایک جاہل ذاکر نے مجلس میں نمازیوں کی مذمت ثابت کرنے کے لیے قرآن پاک کی ایک آیت کا ایک ٹکڑا پیش کیا "وَیْلٌ لِّلْمُصَلِّینَ”۔ اس نے سمجھایا کہ دیکھو، اللہ تعالیٰ نمازیوں کے لیے "ویل” فرما رہا ہے۔ اس پر نادان سامعین نے واہ واہ کے ڈونگرے برسائے۔ حالانکہ اس کے فوراً بعد ہی آیت کا باقی حصہ ہے جو اس "مصلین” کی وضاحت کرتا ہے "الَّذِینَ ہُمْ عَن صَلَاتِہِمْ سَاہُونَ”۔ یعنی ان نمازیوں کے لیے ویل ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ مطلب بالکل الگ تھا، مگر باقی آیت کو چھپا کر ایک من گھڑت مفہوم گھڑ لیا گیا۔
بدقسمتی سے، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ وہی لوگ یہ کام کر رہے ہیں جنہوں نے امام خمینی کی ایک کتاب بھی مکمل نہیں پڑھی، نہ ہی انقلاب ایران کے عمقی محرکات اور تاریخی پس منظر کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے، اور نہ ہی اس مخصوص سیاسی و سماجی ماحول کو سمجھنے کی کوشش کی ہے جس میں انہوں نے یہ کلمات ارشاد فرمائے۔
یہ بھی پڑھیں : کمانڈر ہیثم طباطبائی کی شہادت کا بدلہ اسرائیل سے ضرور لیا جائے گا: شیخ نعیم قاسم
حقیقت یہ ہے کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ایران کے ان مخصوص علماء کو "درباری” کہا تھا جو اس وقت کے شاہی ظلم و جبر، عوام پر ہونے والی زیادتیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف خاموش تھے یا پھر اس ظالمانہ نظام کی تائید و حمایت کر رہے تھے۔ ان کی نظر میں "درباری عالم” وہ تھا جو حق گوئی اور باطل کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کے بجائے، ظالم شاہی حکمرانوں کے خلاف چپ تھے۔
پاکستان کے شیعہ علماء کرام کی تاریخ ہمیشہ تابناک اور درخشندہ رہی ہے۔ یہاں کے علماے دین نے ہمیشہ انسانی عدل و انصاف کے لیے آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے ہر دور میں فرقہ واریت اور تشدد کی ہر شکل کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک، یہ علماء ملک و ملت کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔
اس تناظر میں، پاکستان میں "درباری عالم” کی اصطلاح صرف اور صرف انہی پر صادق آ سکتی ہے جو ملک میں ہونے والی آئینی پامالی، قانون کی حکمرانی سے انحراف، اور عوامی حقوق کے سلب کیے جانے پر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور وہ جن کی نظر میں عوام کے اصل مسائل اور ان کے حقیقی "طاغوت” دکھائی نہیں دیتے۔
وہ علماء کرام کیسے درباری کہلا سکتے ہیں جو آئین کی بالادستی، انسانی اقدار کے تحفظ اور ایک فرد کے لیے پورے دستور کے ساتھ کھلواڑ کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہیں؟
المیہ یہ ہے کہ آج ناتجربہ کار اور جذباتی انقلابی نما افراد کے ہاتھوں میں چاقو تھما دیا گیا ہے، اور وہ بغیر کسی تمیز کے ہر اس شخص کو زخمی کرنے پر تلے ہوئے ہیں جسے وہ پسند نہیں کرتے ہیں۔ بزرگوں کا قول ہے کہ بچوں کے ہاتھ میں چاقو مت دو، کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ اس کے صحیح اور غلط استعمال کا فرق کیا ہے۔ یہی حال انقلابی نما مذہبی گروہوں کا بھی آجکل ہے۔ جب مسائل کی سمجھ, علم، تحقیق کی جگہ جذبات اور پسند ناپسند کو ترجیح دی جائے گی، تو ایسے ہی تعصبات اور بداخلاقیاں جنم لیتے رہیں گے۔







