عراقی انتخابات: شیعہ مزاحمتی قوتوں کا نیا سیاسی توازن
شیعیت نیوز: عراقی پارلیمنٹ کے چھٹے انتخابی مرحلے نے ایسے نتائج سامنے لائے ہیں جنہیں سیاسی عمل کا ایک فیصلہ کن اور انقلابی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان نتائج نے نہ صرف انتخابی توازن بدلا ہے بلکہ پورے سیاسی نظام کی سمت اور ساخت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ انتخابات عراق میں ایک نئی سیاسی حقیقت کے آغاز کا اشارہ دیتے ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
انتخابات کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ شیعہ اکثریت اب محض ایک سماجی حقیقت نہیں رہی، بلکہ سیاسی فکر، تنظیم اور ادارہ جاتی صلاحیت کے ساتھ ایک مکمل سیاسی قوت بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ قوت مذہبی قیادت کے ساتھ منسلک ہے جو وقت کے تقاضوں کے مطابق رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انتخابی نتائج نے واضح کیا کہ شیعہ ووٹر کی بیداری میں اضافہ ہوا ہے اور اس نے انتخابی ترجیحات کے نئے معیارات مرتب کیے ہیں۔ مزاحمتی دھارے کی ایران کے ساتھ قربت اور امریکا و صیہونیت مخالف بیانیے کے باوجود اور بنیادی خدمات کی کمی کے باوجود شیعہ عوام نے بڑے پیمانے پر مزاحمتی قوتوں کو ووٹ دیے۔ یہ سیاسی شعور کے ارتقاء اور جذبات کے مقابلے میں عقل کی فوقیت کی علامت ہے۔
ان انتخابات میں شیعہ ووٹر کی ترجیحات میں حیران کن وضاحت دیکھنے میں آئی۔ جن ووٹرز نے خدمات، ترقی اور بنیادی ڈھانچے کو ترجیح دی انہوں نے ترقیاتی فہرستوں کا انتخاب کیا، جبکہ جن کے نزدیک عراق کی اسٹریٹجک سمت اور مغرب کے ساتھ طاقت کے توازن کا تحفظ زیادہ اہم تھا، انہوں نے مزاحمتی قوتوں اور ان رہنماؤں کو ترجیح دی جو اس بیانیے کے حامل ہیں۔ انتخابی عمل نے یہ حقیقت بھی واضح کی کہ جب معاشرہ بیرونی خطرات اور داخلی چیلنجوں سے دوچار ہو تو شیعہ عوام زیادہ متحد ہو کر سیاسی طور پر فعال ہو جاتے ہیں۔ نفرت انگیز پروپیگنڈے اور دھمکیوں کے باوجود ووٹنگ کی شرح میں اضافہ اسی نظریاتی استحکام اور آمادگی کا ثبوت ہے جو ماضی میں حشد الشعبی کی قربانیوں کی صورت میں ظاہر ہوئی تھی۔
ان نتائج میں عصائب اہل الحق کی غیر معمولی کامیابی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ شیخ قیس الخزعلی کی قیادت میں اس تحریک نے نمایاں نشستیں حاصل کیں، حالانکہ یہ ایران سے وابستگی، حساس علاقائی تنازعات اور پانی، ترکی کی مداخلت اور امریکی موجودگی جیسے سخت موضوعات پر واضح مؤقف کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں رہتی ہے۔ اس کے باوجود عوام نے اس پر اعتماد کیا، جو قیادت کے مضبوط وژن، درست سیاسی تجزیے اور مربوط انتخابی حکمتِ عملی کی کامیابی ہے۔
کتائب حزب اللہ کا پہلی مرتبہ سیاسی میدان میں براہِ راست شرکت کرنا بھی قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ اگرچہ انہیں توقع کے مطابق نشستیں نہیں مل سکیں مگر ان کی ابتدائی کارکردگی اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر وہ اپنی میڈیا حکمتِ عملی بہتر بنا لیں تو قلیل مدت میں عصائب اہل الحق جیسی انتخابی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کالعدم سپاہ صحابہ کا تکفیری مولوی مفتی ابو محمد سوشل میڈیا پر عوامی تنقید کی زد میں
سابق وزیراعظم نوری المالکی کا بڑھتا ہوا عوامی اثر بھی نتائج کا ایک اہم پہلو ہے۔ باضابطہ منصب نہ رکھنے کے باوجود ان کی سیاسی زبان اور تجربہ عوام پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ شیعہ ووٹر محض اقتدار رکھنے والوں پر نہیں بلکہ تاریخی و سیاسی اثر رکھنے والی شخصیات پر بھی بھروسہ کرتے ہیں۔
چند معروف اور اصول پسند ارکانِ پارلیمنٹ جن میں راید المالکی، امیر الماموری اور یاسر الحسینی شامل ہیں کا دوبارہ منتخب نہ ہونا ان کی قدر میں کمی نہیں بلکہ اس امر کی علامت ہے کہ شیعہ ووٹر آنے والے بڑے سیاسی مرحلے کے تقاضوں کے تحت نئے اتحادوں کی تشکیل کو لازمی سمجھتے ہیں۔
آخر میں اس پورے انتخابی منظرنامے میں شیعہ مرجعیت کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کے فرزند، حجت الاسلام سید محمد رضا السیستانی کی طرف سے حوزۂ علمیہ کی کلاسوں کی معطلی نے عوام کو بھرپور شرکت کی طرف راغب کیا۔ یہ اقدام انتخابات کی اہمیت اور عدم شرکت کے ممکنہ خطرات کے بارے میں ایک واضح اور ذمہ دارانہ پیغام تھا، جو مرجعیت کے قومی کردار کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
عراقی انتخابات کے یہ نتائج نہ صرف نئی سیاسی صف بندی کا آغاز ہیں بلکہ اس امر کا ثبوت بھی کہ شیعہ مزاحمتی قوتیں اب ایک بالغ، منظم اور فیصلہ کن سیاسی طاقت کے طور پر ابھر چکی ہیں، جو ملک کی داخلی پالیسی، علاقائی تعلقات اور مستقبل کی سمت پر دیرپا اثرات مرتب کریں گی۔
تحریر: ڈاکٹر ہاشم الکندی (پروفیسر، بغداد یونیورسٹی، معروف سیاسی تجزیہ نگار)
ترجمہ و ترتیب: ڈاکٹر علامہ سید شفقت حسین شیرازی







