پاکستان

بھوک ہڑتال کے ثمرات ظاہر ہونا شروع،پارچنار معمالے پر اہم معاہدہ طے پاگیا

شیعیت نیوز: گذشہ ڈھائی ماہ سے ریاستی ظلم وجبرکے خلاف اور انصاف کے حصول کیلئے جاری مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعبا س جعفری کی بھوک ہڑتال اورملک گیراحتجاجی تحریک کے ثمرات ظاہر ہو نا شروع ہو چکے ہیں ، شیعیت نیوزکے ذرائع ذرائع کے مطابق حکومتی انتظامیہ ، شیعہ قوم اور جرگہ کےدرمیان کامیاب مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کا جلد اعلان کردیا جائے گا،  تفصیلات کے مطابق حکومتی انتظامیہ جس میں پولیٹیکل ایجنٹ ، ڈپٹی پولیٹیکل ایجنٹ ، مشیران ،شیعہ قوم جس میں تحریک حسینی اور دیگر شیعہ ادارے شامل تھے اور سینیٹر سجاد کی سربراہی میں سابق سینیٹر علامہ جواد ہادی، اصغر علی، سید محمد، گل اکبر، حاجی عون علی ، ماسٹر نیاز محمدپر مشتمل جرگے کے درمیان پاراچنار میں ملت جعفریہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیئے طویل مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پا گیا ہے، حکومت نے سانحہ تین شعبان کے بعد گرفتار 48بے گناہ مومنین کی رہائی کا اعلان کیا ، جبکہ 20نامزدمومنین کے نام کیس سے خارج کردیئے گئے ، گرفتار شدگان میں سے اب تک 16افراد کی رہائی عمل میں آچکی ہے، پولیس کی جانب سے اٹھائی گئیں 15گاڑیاں واپس کرنے اور ٹوٹ پھوٹ کے نقصانات کے ازالے کا اعلان کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت سے مذاکرات میں ڈیڈلاک،وفاقی حکومت نے ایم ڈبلیو ایم کی قیادت سے رابط کرلیا، شیعیت نیوز ذرائع 

سانحہ تین شعبان کے نتیجے میں شہید ہونے والے تین مومنین کے قتل کی ذمہ داری حکومت نے قبول کرتے ہوئے بلاجواز گرفتار مومنین پر قتل کا الزام ڈالنے پر معذرت کی ، شہداء کے خانوادگان کو سرکاری ملازمین کے جتنا یعنٰی 20لاکھ فی کس معاوضہ دینے کا اعلان کیاجبکہ زخمیوں کے علاج معالجے اور امدای رقوم کی فراہمی کا بھی اعلان کیا ،شیعہ اجتماعات پر عائد پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا، پاراچنارمیں دیگر قومی معاملات پر احتجاج اور اقدامات پر عائد پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا، تحریک حسینی کے پاراچنار سمیت ملک بھرمیں قانونی فعالیت پر عائد پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا،تین شعبان کے دھرنے کو دو کروڑ جرمانے سے مستثنیٰ قرار دیا گیاواضح رہے کہ مری معاہدےکےتحت اہل تشیع کا اہل سنت اور اہل سنت کا اہل تشیع کے خلاف روڈ بلاک کرنے پر دو کروڑ جرمانے کےحکم  نافذ العمل ہے لیکن تین شعبان کا دھرنا حکومت کے خلاف تھا ، 2005میں طالبان کی لشکر کشی کے بعد خالی ہونے والے شاہوخیل میں مومنین کی دوبارہ آباد کاری اور انہیں زمینوں کی واپسی کا بھی اعلان کیا گیا، شیعہ اکابرین اور حکومتی انتظامیہ کے درمیان اس معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت جرگے کے سربراہ سینیٹر سجاد اور دیگر آٹھ اراکین نے قبول کی ہے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button