جامعہ حقانیہ کو 30 کروڑ روپے ملنے کا معاملہ سنگین رخ اختیار کرگیا ہے

01 جولائی, 2016 00:00

شیعیت نیوز: تحریک انصاف اقلیتی ونگ کے رہنما جاوید پیارا کے مطابق جامعہ حقانیہ کو دیا جانے والا فنڈ دراصل اقلیتی برادری کا تھا، اپنی نیوز کانفرنس میں انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سردار سورن سنگھ کی شہادت پر خیبرپختونخوا حکومت نے ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا اور امدادی رقم پچاس لاکھ روپے کردی اور وہ بھی ابھی تک نہیں دئیے گئےجامعہ حقانیہ کو فنڈز دینے کی بات اب اتنی سادہ نہیں رہی، گو عمران خان ہمیشہ کی طرح اس معاملے سے بھی یوٹرن لے چکے ہیں کہ فنڈز مختص کرتے ہوئے انہیں آگاہ نہیں کیا گیا جبکہ پہلے ان کا کہنا تھا کہ مدارس کو مین اسٹریم میں لانے کے لئے انہوں نے یہ اقدام اٹھایاایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ خیبرپختونخوا میں کم ازکم 19 سرکاری یونیورسٹیاں ہیں اور بجٹ میں اعلی تعلیم کے لئے 4.7 بلین روپے رکھے گئے ہیں، اس بجٹ میں خیبرپختونخوا میں 10 نئے کالجز کے قیام کا فنڈ بھی شامل ہے جس کو اگر حذف بھی کردیا جائے تو فی یونی ورسٹی 24 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ جامعہ حقانیہ کو 30 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہےاگر یہی 30 کروڑ روپے خیبرپختونخوا کے ان سینکڑوں مدارس میں تقسیم کردئیے جاتے، جو صرف عوامی چندے پر چلتے ہیں تو کہا جاسکتا تھا کہ مدارس کی فلاح کے لئے یہ ایک مناسب اقدام ہے مگر ایک جنگی یونی ورسٹی کو اتنا پیسہ؟اور ایک ایسے وقت میں جب اسپین میں بارسلونا کی سڑک کو بے نظیر بھٹو کے نام سے منسوب کیا گیاآخر کیوں!! بے نظیر بھٹو کے قاتلوں سے منسوب ادارے کو نواز دیا گیاعمران خان بہت بڑے لیڈر ہیں، ماؤزے تنگ ان کی چھینک ہیں، چواین لائی ان کا پسینہ، کاسترو تو ایک ڈکار کی مار ہیں، بھٹو ان کی انگڑائی، منڈیلا انداز دلربائی اور چی گویرا پچھلے جنم میں کپتان کے بھائی ہیںمگر صاحبو!! ہم کیڑے مکوڑے عوام بس اتنا پوچھنا چاہتے ہیں کہبتاؤ تم کس کا ساتھ دوگےاُدھر ہیں طالبان، ادھر خدا ہے

11:00 صبح اپریل 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔