یہ تو واقعی لول ہو گیا!!

21 جون, 2016 00:00

پاکستان کے خلاف سازشوں کا پرچار کرنے والا یہ تکفیری گروہ کا سرغنہ احمد لدھیانوی خود ہزاروں شیعہ و بریلوی مسلمانوں اور دیگر عام پاکستانیوں کا قاتل ہے اور تکفیریت کے ذریعے پاکستان کی جڑیں کمزور کرنے میں مصروف ہے ۔ واضح رہے کہ پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے حکومت سنبھالتے ہی کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ پر دہشت گردانہ کاروائیوں اور شیعہ و بریلوی مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہونے کی بناء پر اسے کالعدم قرار دے دیا تھا۔یہ دہشت گرد جماعت کالعدم سپاہ صحابہ (جو اب اہلسنت و الجماعت کے نام سے سرگرم ہے اور یہ جماعت بھی کالعدم قرار دی جا چکی ہے) پاکستان میں گذشتہ کئی دہائیوں سے نہ صرف شیعہ مسلمانوں بلکہ بریلوی مسلمانوں کے بھی قتل عام میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ علی الاعلان شیعہ مسلمانوں کو ’’کافر‘‘جبکہ سنی بریلوی مسلمانوں کو ’’مشرک‘‘کہتی ہے ،ایسی دہشت گرد اور کالعدم دہشت گرد جماعت کا سرغنہ احمد لدھیانوی اگر پاکستان کے استحکام کی بات کرے تو ہنسی کیوں نہ آئے ۔ بھئی اگر تم اتنے پاکستان کے ہمدرد ہو تو آئین پاکستان کا ہی احترام کرو جو خود تمہیں اور تمہارے دہشت گرد گروہ کو کالعدم قرار دے چکا ہے۔

تم بنو امیہ کے بد ترین موروثی آمر ،ظالم و جابر حکمران یزید ملعون اور اس کے پیروکاروں کی تاریخ دہرانے والے ، ہزاروں انسانی جانوں کوقتل کرنے والے، سادہ لوح نوجوانوں میں اپنے مدرسوں کے ذریعے تکفیریت کا زہر بھرنے والے کہاں سے پاکستان کے ہمدرد ہو گئے ؟ تم اپنے علاوہ ہر ایک کو مشرک سمجھنے والے ، غیر مسلمانوں کا خون بہانے کو جائز سمجھنے والے، معصوم پاکستانی جوانوں کے ذہنوں کو تکفیری زہر کی پوٹلی بنا کے عام انسانوں کے قتل پر اکسانے والے ، تم کہاں سے پاکستان کے ٹھیکیدار ہو گئے؟

یاد رہے، یہ تکفیری mind set ہی ہے جو عام نوجوان کو APS کے معصوم بچوں کا قاتل بناتا ہے ۔ شیعہ سنی خون بہا کر خود کو جنت کا حقدار ٹھہراتا ہے ۔ ہندو ، عیسائی ، احمدی اور دیگر اقلیتی گروہوں کو قتل کر کے خود کو مجاہد سمجھتا اور حوروں کے خواب دیکھتا ہے ۔ عورت کے حقوق کی پامالی کرتا ہے، گھر کی عورت پر تشدد کو جائزاور باہر کی عورت کو بازار میں بیچنے کو عین عبادت سمجھتا ہے ۔

اب جب ایسی کالعدم تنظیم کا دہشتگرد سرغنہ پاکستان کے استحکام کی بات کرے گا تو کہنا تو پڑے گا "یہ تو واقعی بہت بڑا لول ہو گیا”

4:56 صبح مارچ 20, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔