۹ رجب یوم ولادت شیرخوار فاتح کربلا حضرت علی اصغر

16 اپریل, 2016 00:00

عبد اللہ بن حسین بن علی بن ابی طالب یا عبد اللہ رضیع، امام حسین(ع) کے شیر خوار اور کمسن فرزند جو کہ علی اصغر کے نام سے مشہور ہیں جن کو کربلا میں حرملہ بن کاہل نے تیر سے شہید کیا. اہل تشیع کے عقیدے کے مطابق، علی اصغر کو کمسنی کے باوجود خداوند کے نزدیک خاص مقام حاصل ہے۔

نسب اور ولادت

عبد اللہ، امام حسین(ع) کے فرزند ہیں اور آپکی مادر گرامی رباب امرؤالقیس کی بیٹی ہیں.[1] عبداللہ بن الحسین(ع) کی ولادت کی تاریخ معین نہیں  ہے البتہ مشہور روایت کے مطابق ۹ رجب ہے، لیکن اکثر منابع کے مطابق آپکو کربلا میں شہادت کے وقت شیرخوار کہا گیا ہے. [2]
نام

اہل تشیع اور اہل سنت کے گذشتہ منابع کے مطابق اس بچے کا نام، عبداللہ ہے، لیکن اہل تشیع کے موخر منابع کے مطابق آپ علی اصغر کے نام سے مشہور ہیں.

مقتل الحسین اخطب خوارزم[3]اور مناقب آل ابی طالب ابن شہر آشوب[4] جو کہ پرانے ترین منبعوں میں سے ہیں جن میں امام حسین(ع) کے شیرخوار فرزند کو علی کا نام سے یاد کیا گیا ہے. اور انہی منابع کی پیروی کرتے ہوئے اب تک اس طفل کو علی اصغر کہا جاتا ہے اور غالباً امام سجاد(ع) کو علی اوسط کا لقب دیا گیا ہے.[5]

ان منابع میں امام حسین(ع) کے اس فرزند کا نام ذکر کیا گیا ہے لیکن آپکی شہادت کی کوئی کیفیت بیان نہیں کی گئی.[6] مقدم اور موخر منابع میں امام حسین(ع) کے فرزند جن کے نام علی ہیں ان کی تعداد میں اختلاف ہے.[7]

کلینی کی روایت، ان روایات میں سے ہے جوکہ امام حسین(ع) کے فرزندوں کے ناموں کے بارے میں بیان ہوئی ہیں.[8] اس روایت کے مطابق جب مروان نے امام حسین(ع) پر اعتراض کیا کہ اپنے دو فرزندوں کا نام علی کیوں رکہا ہے تو امام(ع) نے فرمایا کہ اگر میرے ١٠٠ فرزند بہی ہوتے تو میں ان سب کا نام علی ہی رکہتا

.
شہادت

تاریخی کتابوں میں علی اصغر(ع) کی شہادت کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں.

جیسا کہ شیخ مفید کہتے ہیں: امام حسین(ع) نے امام حسن(ع) کے فرزند قاسم کے لاشے کو دوسرے شہداء کے ساتھ رکھا اور خیمے کے آگے بیٹھ گئے اور علی اصغر کو آپ کے پاس لایا گیا امام(ع) نے علی اصغر کو آغوش میں لیا. اسی وقت بنی اسد کے ایک مرد نے ایک تیر علی اصغر کی طرف چلایا اور آپکو شہید کر دیا. امام حسین(ع) نے علی اصغر کے گلے کے نیچے ہاتھ رکھا اور ہاتھ خون سے بھر گیا اور آپ(ع) نے خون کو زمین پر گرایا اور فرمایا: (اگر آسمان کوئی مدد نہیں کرتا تو اس خون کو جس میں ہماری بہتری ہے اس میں قرار دو، اور ان ظالموں سے ہمارا انتقام خود لے) پہر علی اصغر کو اٹھایا اور دوسرے شہداء کے ساتھ لٹا دیا.[9]

ایک اور قول کے مطابق، امام حسین(ع) نے آخری وقت، یعنی تمام اصحاب اور یاران کی شہادت کے بعد، اس سے پہلے کے خود میدان کی جانب روانہ ہوں، وداع کے لئے جب خیمے میں آئے اور اپنے گہر والوں سے وداع کرنے کے بعد جب عبداللہ (علی اصغر) کو آغوش میں لیا اور چوم رہے تہے کہ اچانک بنی اسد کے قبیلے میں سے ایک افراد نے تیر چلایا اور علی اصغر کو شہید کر دیا.[10] تیر چلانے والے کا نام "حرملہ بن کاہل” لکھا گیا ہے. [11]

کچھ افراد کے کہنے کے مطابق زینب(س) بچے کو لے کر بھائی کے پاس آئیں اور فرمایا کہ لشکر سے اس بچے کے لئے پانی طلب کریں اور امام(ع) بچے کو لشکر کے سامنے لے گئے اور فرمایا: (اے اہل لشکر تم نے یتیموں اور اہل تشیع کو شہید کر دیا اور یہی بچہ رہ گیا ہے جو پیاس کی وجہ سے بلک رہا ہے. اس کو ایک قطرہ پانی کا دے دیں) جب امام حسین(ع) لشکر سے مخاطب تھے اسی وقت ایک مرد نے بچے کی جانب تیر پھیںکا اور شہید کر دیا.[12]

ابن جوزی نے ہشام بن محمد کلبی سے روایت نقل کی ہے: (جب امام حسین(ع) نے دیکھا کہ اہل کوفہ نے آپکا خون بہانے کا ارادہ کر لیا ہے تو قرآن کو اٹھایا اور کھولا اور اپنے سر پر رکھا اور اہل کوفہ کے لشکر سے مخاطب ہو کر فریاد بلند کی: میرے اور تمہارے درمیان خدا اور میرے جد محمد(ص) کی کتاب فیصلہ کرے گی، اے قوم! میرے خون کو بہانا کیوں حلال سمجھتے ہو؟)

اس وقت امام حسین(ع) نے بچے کی طرف دیکھا جو کہ پیاس سے نڈہال ہو چکا تھا، بچے کو ہاتھوں میں لیا اور فرمایا: (اے قوم! اگر مجھ پر رحم نہیں کرتے تو اس بچے پر رحم کرو) اس وقت اہل کوفہ کے لشکر میں سے ایک مرد (حرملہ بن کاہل اسدی) نے بچے کے گلے میں تیر مارا اور شہید کر دیا.

اس واقعہ پر امام حسین(ع) نے بہت گریہ کیا اور فرمایا: «اللّہمّ احکم بیننا و بین قومٍ دعونا لینصرونا فقتلونا [پروردگارا! تو خود ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ کر، جنہوں نے ہمیں دعوت دے کر بلایا تا کہ ہماری مدد کریں لیکن پھر امام حسین(ع) نے اپنے فرزند کے گلے پر ہاتھ رکھا اور آپکا ہاتھ خون سے بھر گیا اور اس خون کو آسمان کی جانب پھینکا اور فرمایا "ہون علی ما نزل بی انہ بعین اللہ [وہ جو سب سختیوں اور مشکلات کو میرے لئے آسان کرتا ہے اور ہم سب اس اللہ کے محضر میں ہیں.][13] امام باقر(ع) فرماتے ہیں کہ اس خون سے ایک قطرہ بھی زمین پر واپس نہ پلٹا.[14]

امام(ع) علی اصغر(ع) کے بی جان جسم کو لے کر خیمے کی جانب گئے اور پھر اسے دفن کرنے کے بعد خود میدان کی جانب روانہ ہوئے. بعض قول کے مطابق امام(ع) نے اپنے فرزند کی شہادت کے بعد فرمایا: (خدایا اس بچے کی شہادت تمہارے نزدیک صالح کی سواری کو مارنے سے کم نہیں ہے.[15] خدایا اگر آج فتح اور نصرت ہمارے مقدر میں نہیں تو اسے اس دن کے لئے قرار دے جو ہمارے لئے بہتر ہے)[16] کہا گیا ہے: امام حسین(ع) نے اپنی تلوار سے زمین کو کھودا اور چھوٹی سی قبر بنائی جس میں بچے کو دفن کر دیا.[17] لیکن بعض مورخین نے لکھا ہے کہ امام(ع) علی اصغر کو خون بھری حالت میں خیمے کی جانب لائے اور حضرت زینب(س) کے سپرد کیا.[18] اور بعض نے لکھا کہ امام حسین(ع) نے علی اصغر(ع) کا جنازہ لے کر آئے اور دوسرے شہداء کے ساتھ رکھ دیا.[19]

باب الحوائج

بہت سے شیعہ عبد اللہ بن حسین کو باب الحوائج کہتے ہیں. اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں اگرچہ علی اصغر کی عمر شہادت کے وقت کم تہی لیکن خدا کے نزدیک آپ کو خاص مقام حاصل ہے.[20] مجمع جہانی کی جانب سے علی اصغر کا جلوس ہر سال برآمد ہوتا ہے جس جلوس کا نام شیر خواران حسینی ہے جو کہ ماہ محرم کے پہلے جمعے کو تمام دنیا میں نکالا جاتا ہے.[21]

حوالہ جات

المفید، الارشاد، ج۲، ص۱۳۵
ر.ک: مصعب‌بن عبداللّہ، ص ۵۹؛ بلاذرى، ج ۲، ص ۴۹۸؛ طبرى، ج ۵، ص ۴۴۸، ۴۶۸
اخطب خوارزم، مقتل الحسین، ج ۲، ص ۳۷.
ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج ۴، ص۱۰۹.
براى نمونہ رجوع کنید بہ بہاءالدین‌اربلى، ج۲، ص۲۵۰؛ ابن‌طَقْطَقى، ص ۱۴۳؛ ابن‌صباغ، ص ۱۹۶؛ شَبْراوى شافعى، ص۱۳۰.
براى نمونہ رجوع کنید بہ ابن‌شہر آشوب، ج ۴، ص ۱۰۹؛ ابن‌طلحہ شافعى؛ بہاءالدین اِربلى، ج۲، ص۲۵۰؛ ابن‌صباغ، ص ۱۹۶.
رجوع کنید بہ مصعب‌بن عبداللّہ؛ بخارى؛ مفید، ہمانجاہا؛ قس دلائل الامامة؛ ابن‌شہر آشوب؛ ابن‌طلحہ شافعى؛ بہاءالدین اربلى، ہمانجاہا.
کلینی،ج ۶، ص۱۹.
المفید، الارشاد، ج۲، ص۱۰۸.
طبرى، ج ۵، ص۴۴۸؛ اخطب خوارزم، ہمانجا، و مقتل الحسین خوارزمی ج۲، ص۳۶-۳۷.
بلاذرى؛ اخطب خوارزم، ہمانجاہا؛ قس طبرى،ج ۵، ص۴۶۸ ہانی‌بن ثُبیت حَضرمى.
الملہوف، ص ۱۶۹.
الملہوف، ص ۱۶۹.
ابومخنف، مقتل الحسین، ص۱۷۳.
فرسان الہیجاء، ج۱، ص۲۷۲.
خوارزمی، مقتل الحسین، ج۲، ص۳۷.
اخطب خوارزم، ہمانجا
مقتل الحسین ابو مخنف، ص۱۷۳.
اعلام الوری، ص۲۴۳.
فرہنگ عاشورا، ص۳۲۲.
مراسم بزرگداشت جہانی حضرت علی اصغر

3:44 صبح اپریل 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔