پاکستان کیلئے سعودی بادشاہت کی نئی چیک بک؟

12 جنوری, 2016 00:00

سعودی وزیر خارجہ کے دورے کے بعد نائب ولی عہد اور وزیر دفاع محمد بن سلمان بھی پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں۔ نہیں معلوم کہ ایسی کونسی بات رہ گئی تھی جس کے لئے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے جانشین بیٹے کو پاکستان آنا پڑا، لیکن العربیہ چینل کی ویب سائٹ پر سعودی گزٹ کی یہ خبر بڑی حیران کن تھی کہ یہ دورہ پاکستان کی دعوت پر کیا جا رہا تھا۔ دوسری جانب پاکستان میں صورتحال یہ تھی کہ سرکاری خبر رساں ادارے نے اس کی کوئی خبر ہی جاری نہیں کی تھی۔ صحافت کے جغادری ذرائع کی بنیاد پر دعویٰ کر رہے تھے کہ دورہ ہوگا لیکن پاکستان کا دفتر خارجہ آخری وقت تک خاموش رہا۔ استقبال کرنے مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ہمراہ نور خان ایئر بیس چکلالہ پر کھڑے دکھائی دیئے۔ جب سبھی کو معلوم تھا کہ یہ دورہ ہو رہا ہے تو پھر اتنی رازداری کیوں برتی گئی۔ اگر یہ دورہ دفتر خارجہ یا سویلین حکومت کی دعوت پر تھا تو وزارت اطلاعات و نشریات کیوں خاموش رہی، یہ سبھی سوال کایاں قسم کے بہت ہی کم صحافیوں کے ذہنوں میں تھے۔ یہ تھا اس دورے سے پہلے کا منظر۔

بعد کا منظر واضح ہونے میں وقت لگے گا۔ 10 جنوری ہی کو ایک روزہ دورہ اختتام کو پہنچا۔ وزیراعظم، آرمی چیف وغیرہ سے ملاقات کے بعد وزیر دفاع روانہ ہوگئے۔ حیرت انگیز پہلو یہ بھی تھا کہ سعودی وزیر خارجہ نے سرتاج عزیز کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس بھی نہیں کی حالانکہ یہ طے شدہ تھی۔ وجہ شاید یہ ہو کہ سعودی پاکستانیوں کی منفی رائے عامہ سے بخوبی آگاہ ہیں۔ البتہ سفارتی حمایت پر مبنی بیان کی صورت میں انہیں مطمئن کرکے بھیجا گیا ہے۔ پاکستان کی حمایت کی کیا قیمت طے پائی ہے، اس کی تفصیلات بھی بہت جلد منظر عام پر آہی جائیں گی۔ لیکن سعودی عرب کی جانب سے ایران کے خلاف جس شدت سے محاذ کھولا گیا ہے، اس کے پیش نظر پاکستانی ریاست کے کرتا دھرتا بہت اچھی طرح سوچ لیں کہ ابھی سعودی امریکی جوائنٹ وینچر برائے افغانستان کی اور کتنی قیمت پاکستان کو خود سے ادا کرنا پڑ رہی ہے اور مزید کتنے دشمن پیدا کرکے ان کے بچوں کو پڑھانا پڑے گا! بات خوشنما بیانات تک ہی محدود رہے تو بہتر ہے۔

وہابی سلطنت سعودی عرب کو پاکستان سے فوجی مدد کی ضرورت ہے، کیونکہ سعودی بادشاہت نے ایک بین الاقوامی فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ 34 ممالک اس اتحاد کے رکن ہیں، لیکن ان ممالک میں 29 ممالک کے نام پیش کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، ترکی، کویت، اردن، مصر، چاڈ، ٹوگو، بینن، تیونس، جبوتی، سینیگال، سوڈان، سیرالیون، صومالیہ، گیبن، گنی، کومروس، آئیوری کوسٹ، لیبیا، مالدیپ، مالی، مراکش، ماریطانیہ، نائیجر، نائیجیریا، یوگنڈا ۔۔ مگر چار ممالک میں اس اتحاد کے قیام پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس اتحاد میں پاکستان کیسے شامل ہوا اور یہ بھی کہ پاکستان کا اس میں کیا کردار رکھا گیا تھا۔۔ انڈونیشیاء کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارمناتھا ناصر نے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ نے دو مرتبہ رابطہ کرکے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوآرڈی نیشن سینٹر قائم کرنے کی بات کی تھی کہ انڈونیشیا بھی اس میں شمولیت اختیار کرلے، لیکن سعودی عرب نے ایک فوجی اتحاد قائم کیا ہے۔ انڈونیشیا کے چیف سکیورٹی کے وزیر لھوت پند جیتن نے کہا کہ ان کا ملک فوجی اتحاد میں شامل نہیں ہوگا۔ ملائیشیا نے یہ کہہ کر معذرت کا اظہار کیا کہ اس اتحاد میں شمولیت پر ان کا ملک رسمی طور پر اتفاق ہی نہیں کرتا۔ لبنان کی حکومت تو اس وقت صدر سے ہی محروم ہے اور نئے صدر کا انتخاب متعدد مرتبہ ملتوی کیا جاتا رہا ہے۔

دلچسپ اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں عمان بھی شامل ہے، لیکن وہ نہ تو یمن کی جنگ میں اور نہ ہی سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد میں شامل ہوا ہے۔ ایران، شام، عراق اور افغانستان کو اس اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا۔ رکن ممالک میں سے بعض کے بارے میں چند اہم نکات یاد رکھنے کے قابل ہیں اور ان حقائق کی بنیاد پر سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک تجزیہ کار نے اسے شرمناک مذاق کیوں قرار دیا ہے۔ یوگنڈا، مسیحی اکثریتی ملک ہے، جہاں مسلمان آبادی بارہ سے تیرہ فیصد کے درمیان ہے۔ گیبن یا گیبون میں مسلمان آبادی محض ایک فیصد ہے۔ بینن میں مسلمان آبادی 24 سے 25 فیصد کے درمیان یعنی یہاں بھی اکثریت غیر مسلم آبادی ہے۔ ٹوگو میں مسلمان کل آبادی کا محض 20 فیصد ہیں۔ فلسطین اور یمن کو بھی فوجی اتحاد کا رکن بتایا گیا ہے لیکن یمن کی مستعفی حکومت کو سعودی عرب اور اس کے اتحادی زبردستی جائز حکومت تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔ فلسطین کی ریاست کا رسمی وجود ہی نہیں ہے اور وہ جعلی ریاست اسرائیل کے نسل پرست صہیونی یہودیوں کے رحم و کرم پر اپنے دن گذار رہی ہے۔ الجزائر میں 99فیصد آبادی مسلمان ہے لیکن اسے اس اتحاد سے دور رکھا گیا ہے۔

فوجی طاقت کے لحاظ سے سعودی عرب، مصر اور ترکی ٹھوس طاقت رکھتے ہیں، لیکن دیگر ممالک کے پاس تو نہ اچھی فوج ہے اور نہ ہی اسلحہ تو وہ ممالک سعودی وہابیت کے صہیونیت زدہ امریکی سامراجی مفادات میں کیوں کر رنگ بھرسکتے ہیں۔ پھر یہ کہ خود سعودی عرب کے اتحادی مغربی ممالک کے ذرائع ابلاغ میں جواں سال سعودی شہزادے محمد بن سلمان کو ناتجربہ کار وزیر دفاع کہا اور لکھا جا رہا ہے۔ مغربی میڈیا کے ذریعے ہی یہ حقیقت بیان کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب کے پیسوں سے چلنے والے مذہبی اداروں اور علماء ہی کے ذریعے دنیا میں انتہا پسندی اور دہشت گردی پنپ رہی ہے، جس کے باعث ان پر تنقید کی جاتی ہے اور منفی مغربی رائے عامہ نے سعودی بادشاہت کو مجبور کیا ہے کہ وہ اس اتحاد کے ذریعے دنیا کی توجہ خود سے ہٹاکر دوسرے ایشوز پر مرکوز کرواسکے۔ اس کے قیام کی ایک وجہ سعودی عرب کا عالم اسلام میں بدنام ہونا بھی تھی، کیونکہ حج کے ناقص انتظامات کی وجہ سے سینکڑوں حجاج کی شہادت سے پوری دنیا میں سعودی بادشاہت کی رسوائی ہوئی تھی۔

ریٹائرڈ برطانوی سفارتکار اولیور مائلز کہتے ہیں کہ سعودی اعلان سے ہر کوئی حیرت زدہ ہے کیونکہ نہ تو رکن ممالک کی مشترکہ فوج وجود رکھتی ہے اور نہ ہی اس اتحاد کے کوئی عملی انتظامات ہیں۔ غالباً یہ زبانی سمجھوتہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب سعودی عرب اور اس کے کئی اتحادی ممالک یمن کی جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں تو یہ کسی اور جگہ یا محاذ پر کیسے توجہ دے سکیں گے۔ اس سے تو لگتا ہے کہ اتحاد کا اعلان محض ایک کاغذی بیان کے مترادف ہے۔ نیویارک ٹائمز کے 18 دسمبر 2015ء کے اداریہ میں تو یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب داعش کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہی نہیں بلکہ صدر اوبامہ کی طنزیہ تنقید کے بعد دباؤ سے نکلنے کے لئے عجلت میں ایک اتحاد کا اعلان کر بیٹھا ہے۔ زیادہ وقت نہیں لگے گا کہ یہ ظاہر ہوجائے گا یہ کوئی واقعی اتحاد ہے یا یمن پر تباہ کن سعودی یلغار سے توجہ ہٹانے کا ایک بہانہ ہے۔ اداریہ کا عنوان ہی سعودی عرب کے اتحاد برائے انسداد دہشت گردی سے متعلق شکوک و شبہات ہے۔ اس کے مطابق جب سعودی بادشاہت خود ہی ان وہابی مراکز اور علماء کو مالی مدد دے رہی ہے، جو داعش جیسے انتہا پسند نظریات پھیلا رہے ہیں تو داعش کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ایک سنجیدہ شراکت دار ہونا مشکل ہے۔

اعلان کیا گیا ہے کہ دنیائے اسلام میں جہاں بھی دہشت گرد ہوں گے، یہ اتحاد ان کے خلاف کام کرے گا تو یہ دشمن ایجاد کرنے کا ایک بہانہ بھی ہے اور اس طرح وہ وہابیت کے مخالفین کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر حملہ آور ہوں گے اور یہ اتحاد انہیں ایسا کرنے کے لئے لائسنس کے طور پر استعمال ہوگا۔ نیویارک ٹائمز نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ خلیجی عرب ریاستیں شام میں اپنی اسپیشل فورسز بھیجیں گی۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ حکومتوں کی درخواست پر یہ اتحاد کارروائی کرے گا۔ جب ایران، عراق، شام جیسے اہم ملک جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، وہ تو سعودی اتحاد پر اعتماد ہی نہیں کرتے تو وہ کیوں انہیں بلائیں گے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ سعودی بادشاہت نے 2014ء کے اوائل میں دہشت گردی کے خلاف جو قانون متعارف کروایا، وہ سعودی حکمرانوں کے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لئے ہے اور اس میں سعودی بادشاہت پر تنقید بھی دہشت گردی قرار دی گئی ہے۔ پھر یہ حقیقت بھی سبھی کو یاد ہے کہ سعودی مملکت کو بھی داعش جیسی وہابی تحریک نے قائم کیا تھا۔ نائن الیون کے بیشتر مجرم سعودی شہری تھے۔ خلیجی عرب ریاستوں سمیت اس اتحاد میں شامل بہت سے ملک بشمول ترکی و اردن سبھی تکفیری دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ یعنی یہ اپنے ایجنٹوں کو ختم کرنے کے لئے تو اتحاد نہیں بنائیں گے۔

عالم اسلام میں صہیونی امریکی ایجنڈا کے لئے سعودی بادشاہت کو قائدانہ کردار عالمی سامراج کا عطا کردہ تحفہ ہے۔ سعودی عرب اب اس نمائشی اتحاد کے ذریعے دنیائے اسلام کی قیادت کا خواب دیکھ رہا ہے اور اس قدر جلدی میں ہے کہ غیر مسلم ممالک کو بھی اتحاد میں شامل کرکے اسے اسلامی فوجی اتحاد قرار دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عرب لیگ، او آئی سی اور خلیج فارس کی گلف کو آپریشن کاؤنسل نامی علاقائی تنظیم ہونے کے باوجود سعودی عرب ایک اور اتحاد کیوں بنا رہا ہے؟ اسٹیفن کنزر نے اپنی کتاب ری سیٹ میں یہ حقیقت بیان کر دی تھی کہ دنیا بھر میں جتنے بھی غلط کام امریکا کو کروانے ہوتے ہیں، جو وہ خود نہیں کر پاتا تو صرف سعودی عرب اور غاصب جعلی ریاست اسرائیل ہی ہوتے ہیں، جو امریکا کی نیابت میں وہ سامراجی ایجنڈا پایہ تکمیل کو پہنچاتے ہیں۔ بر اعظم افریقہ سے لے کر لاطینی امریکا تک سعودی چیک بک نے بہت سے حکمرانوں اور باغیوں کو خریدا ہے۔ اسٹیفن کنزر کے مطابق سابق سعودی انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی ال فیصل نے کہا کہ ہم صرف چیک بک پر دستخط کرنا جانتے ہیں۔۔ وہی ترکی ال فیصل جو جعلی ریاست اسرائیل کے سابق جنرل اور وزیر دفاع کے ساتھ پروگرام میں شرکت کرچکا ہے اور اسرائیل کو خیر سگالی کا پیغام صہیونی اخبار میں مقالہ شایع کروا کے دے چکا ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ سعودی بادشاہت ڈالر و ریال خرچ کرکے حکومتیں خرید لیتی ہے۔ جو پیسوں سے نہ پھنسے اسے تکفیری دہشت گردوں کے ذریعے تنگ کرتے ہیں۔ یقیناً یہ فلسطین دوست ممالک اور تنظیموں کے خلاف ایک اتحاد ہے، کیونکہ ان ممالک کا ریکارڈ ہے کہ یہ دشمن کے لئے ریشم کی طرح نرم اور مسلمانوں اور عربوں کے لئے فولاد سے زیادہ سخت ہوچکے ہیں۔ یہ اتحاد دنیا میں ان سنی شیعہ مسلمانوں کو کچلنے کے لئے بنایا گیا ہے جو امریکا مردہ باد، اسرائیل نامنظور کے نعرے تلے جمع ہیں۔ نائیجیریا اس کی ایک مثال ہے، جہاں صہیونیت زدہ سعودی اتحادی حکومت نے آیت اللہ شیخ زکزاکی کی حرکت اسلامی نائیجیریا کی قیادت اور حامیوں کا قتل عام کیا۔ ایک طرف بوکو حرام ان پر حملہ آور ہے تو دوسری جانب نائیجیریا کی اسرائیل دوست فوج انہیں مٹانے کے درپے ہے۔ یہ ایک نمائشی اتحاد ہے اور اس سے عالم اسلام میں مزید شر پھیلنے کے امکانات ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے لئے سعودی چیک بک میں کتنی مالیت کی رقم درج کی جانے والی ہے!

9:59 شام اپریل 6, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔