سعودی دباؤ ! آصف زرداری نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر کو برطرف کیا
سعودی عرب کے دباؤ میں آ کر سابق صدر آصف علی زرداری نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر کو برطرف کیا تھا، شیعت نیوز کے ذرائع کو سعودی سفارتخانے سے خفیہ طور پر نکلنے والی ایک خبر موصول ہوئی ہے جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے سنہ2012میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں اسرائیل مخالف ریکٹر کو برطرف کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ٹیلی گرام میں سعودی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے سعودی سفیر کو ایک ملاقات کے دوران بتا یا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر معصوم یاسی زئی کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں قائم مقام ریکٹر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا ہے جبکہ اسرائیل مخالف پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد ملک کو برطرف کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی حکام نے زرادری دور حکومت میں آصف علی زرداری نے اس بات کی شکایت کی تھی کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو جدید اور ماڈرن اسلام کے پرچار کے لئے قائم کیا گیا تھا تاہم اس حوالے سے سعودی عرب سمیت دیگر تیل کے ذخائر سے مالامال عرب خلیجی ممالک سے بھاری مقدار میں مالی متعاون بھی حاصل کیا جاتا ہے تاہم اس کے باوجود یونیورسٹی میں تکفیری نظریات کے خلاف تعلیم و تدریس کا عمل جاری ہے جس پر زرداری نے اسرائیل اور تکفیری مخالف ریکٹر پروفیسر فتح محمد ملک کو برطرف کر دیا۔
قابل ذکر بات ہے کہ سابق صدر زرداری کو سعودی حکام کی جانب سے کی جانے والی شکایت میں اس بات کا تذکرہ واضح طور پر کیا گیا ہے کہ جنرل ضیال الحق کے دور میں یونیورسٹی کا قیام اور تکفیری وہابی شرعیت کا پرچار یقینی بنانے کی یقین دہانی کی گئی تھی تاہم ڈاکٹر فتح محمد ملک اسرائیل مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ تکفیری ازم کے بھی سخت خلاف ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق یہ بات بھی منظر عام پر آئی ہے کہ سعودی حکام اور داکٹر فتح محمد ملک کے درمیان خلیج قائم ہونے کی اہم وجہ دراصل یونیورسٹی میں شدت پسندی کے خلاف منعقدہ ایک سیمینار میں ڈاکٹر فتح محمد ملک کی جانب سے غاصب اسرائیل کے خلاف اور سعودی بادشاہت کے خلاف کی جانے والی گفتگو ہے ، فتح محمد ملک نے جہاں اپنی تقریر میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے جرائم کا پردہ فاش کیا وہاں انہوں نے سعودی معاشرے کے غیر مہذبانہ رویہ اور مطلق العنانیت سمیت مسلم دنیا میں کشت و خون پھیلانے کی پالیسیوں پر بھی سخت تنقید کی تھی۔
دوسری جانب ڈاکٹر فتح محمد ملک کا کہنا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے ان سے پہلے کہا تھا کہ وہ اپنی پوسٹ پر قائم رہیں تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ وہ سعودی دباؤ مزید برداشت نہیں کر سکتے تاہم اس کے نتیجے میں مجھے عہدے سے برطرف کیا گیا۔
سعودی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر فتح ملک نے اپنی تقریر میں سعودی حکام اور مطلق العنان بادشاہت کو ابو لہب کا پیروکار قرار دیا کہ جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ان پر سعودی ذرائع نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے سعودی خواتین پر روا رکھے جانے والے ریاستی مظالم کو بھی اپنی گفتگو کا حصہ بنایا اور سعودی حکام سمیت پولیس پر شدید تنقید کی۔
ڈاکٹر فتح ملک نے بتایا ہے کہ سابق صدر زرداری نے پہلے انہیں ریکٹر کے عہدے پر قائم رکھنے کی یقین دہانی کروائی اور جب سعودی حکام نے وزارت خارجہ سے رابطہ کیا تو سابق صدر زرداری نے کہا کہ سعودی دباؤ بہت زیادہ ہے تاہم آپ کسی اور ادارے کا انتخاب کر لیں اور اس کے ساتھ ہی پہلے مجھے چھٹی پر بھیجا گیا اور اس کے بعد برطرفی کے احکامات جاری کر دئیے گئے۔








