پاکستان

اتحاد کیلئے سب سے بات کی مگر سب انا پرست نکلے، شیطانی انتخابات انتشار کا باعث ہیں، علامہ راحت حسینی

شیعت نیوز۔ ممتاز عالم دین اور مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت کے خطیب علامہ سید راحت حسین الحسینی نے کہا ہے کہ میں نے الیکشن میں حصہ لینے والی ہر پارٹی اور ہر امیدوار کو متحد کرنے کیلئے ان سے بات کی مگر سب کے سب انا پرست ہیں، ہر امیدوار کے اندر یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ اسی نے ہی الیکشن میں کامیاب ہونا ہے، ہر پارٹی یہ کہتی ہے ہم نے الیکشن میں کامیاب ہونا ہے اور آنے والی حکومت ہماری ہی ہوگی، ان کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کے سب جیتنے والے ہیں اور میں ہارنے والا ہوں، یہ لوگ اپنا کمپین آفس بند نہیں کرینگے، اس لئے میں اپنا کمپین آفس بند کر رہا ہوں، آج کے بعد آپ سب آزاد ہیں، جس کو چاہیں ووٹ دیں اور اس فکر میں نہ رہیں کہ مرکز سے کوئی اعلان ہوگا، میں نے تمام اختیارات عوام کو دے دیئے ہیں، عوام جس کو چاہیں ووٹ دیں۔

انہوں نے گلگت میں نماز جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے کسی ایک پارٹی یا کسی ایک امیدوار کی حمایت کرنا مشکل نہیں ہے، مگر میں عوام کو انتشار سے بچانے کیلئے غیر جانبدار رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام جس کو چاہیں ووٹ دیں، کل گربیاں بھی اسی کا پکڑیں اور ایسے لوگوں کو ووٹ دیں جو عوام کے ساتھ رہیں اور غم خوشی میں آپ کے ساتھ رہیں، اس لئے عوام اپنا وکیل اور ترجمان خود منتخب کریں اور جرات رکھنے والے شخص کو ووٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فرد کو ہرگز ووٹ نہ دیں جو الیکشن میں کامیاب ہونے کے بعد غائب ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات کو شیطانی انتخابات کہا جاسکتا ہے، جس میں انسانیت پامال ہو رہی ہے، علماء کا غیر علماء کے اوپر کیچڑا اچھالنا اور غیر علماء کا علماء کی توہین کرنا، یہ بہت ہی خطرناک ہے اور سیاست نے سب کو ننگا کر دیا ہے۔

علامہ راحت الحسینی کا کہنا تھا کہ لوگ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ الیکشن کی وجہ سے پہلے محلوں میں لوگ تقسیم ہوئے، پھر ایک گھر کے افراد آپس میں تقسیم ہوئے، اب نوبت یہاں تک آپہچنی ہے کہ مساجد اور امام بارگاہیں بھی تقسیم ہوگئی ہیں اور ایک دوسرے کیلئے مشکلات کھڑی کی جا رہی ہیں، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ لوگ اپنی خواہشات کیلئے مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں، مگر جب مذہب اور ان کی خواہشات کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو یہ لوگ مذہب کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں حصہ لینے والے بعض امیدوار یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر امام زمانہؑ بھی کہے تو میں الیکشن سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں۔ اس صورتحال میں ہم الیکشن کو شیطانی انتخابات نہ کہیں تو اور کیا کہیں

متعلقہ مضامین

Back to top button