مقالہ جات

شہید وفا تقی حیدر

"ہم نے شہید وفا آقا تقی حیدر کو بھلا دیا”، ایک دوست کے ان الفاظ نے میری روح کو جھنجوڑ کے رکھ دیا، اور پھر یہی سوال میں نے خود سے کیا کہ کیا واقعی ہم نے شہید تقی حیدر کو بھلا دیا تو دل کے عمق سے آواز آئی کہ نہیں ایسا نہیں ہے کیونکہ اگر ہم نے آج شہید تقی حیدر کی وفا کو بھلا دیا تو کل ہماری آنے والی نسلیں ایک ایسی شخصیت سے محروم ہو جائیں گی جن کی زندگی ان کے لئے مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہے، گو کہ ڈاکٹر محمد علی نقوی اور تقی حیدر کی شہادت کا دن 7 مارچ کو گزر چکا، لیکن اس سوال نے ضمیر کو اسقدر بےچین کیا کہ قلم اٹھانے پر مجبور ہو گئی۔ یہ بات حقیقت ہے کہ جہاں ڈاکٹر محمد علی نقوی کا نام آئے گا وہاں شہید وفا کا ذکر نہ ہو تو داستاں مکمل نہ ہو گی۔

شہید تقی حیدر 12 جولائی 1973ء کو امامیہ کالونی لاہور کے ایک کاروباری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی مذہب سے عشق کی حد تک لگاو تھا۔ جب آپ نے اپنے علاقے کے ہائی سکول سے میٹرک کیا اور بعد ازاں ایف اے کرنے کے لئے کالج میں داخلہ لیا تو مختلف مذہبی سرگرمیوں میں مشغولیت اختیار کی۔ جلد ہی قومیات میں متحرک ہو گئے، انہی دنوں میں آپ کے بھائیوں نے چمڑے کا کارخانہ لگایا تو انہیں آپ کی ضرورت محسوس ہوئی اور گھروالوں کے اصرار پر آپ تعلیمی سلسلے کو منقطع کر کے بھائیوں کے ساتھ کام میں مشغول ہو گئے، لیکن مذہب کے ساتھ قلبی لگاو نے آپ کا دل کارخانے میں لگنے نہیں دیا۔ ان دنوں ملکی حالات کی خرابی کے باعث ایک تنظیم”پاسبان” کے نام سے تشکیل دی گئی تو آقا تقی حیدر نے امامیہ کالونی میں اپنی ملت کے دفاع اور حفاظت کے لئے پاسبان میں شمولیت اختیار کر لی، آپ کو جو کام بھی سونپا جاتا اسے نہایت خلوص اور شجاعت کے ساتھ انجام دیتے۔ آپ کی اسی شجاعت و لیاقت کی بناء پر جلد ہی آپ کو تحصیل کی سطح کی مسئولیت دے دی گئی۔

انہی دنوں آپکی والدہ علیل ہو گئیں اور آپ انہیں لے کر ڈاکٹر نقوی کے کلینک پر گئے، آپ چیک اپ کے بعد والدہ کو لے کر واپس گھر تو آگئے لیکن ڈاکٹر نقوی سے اس چھوٹی سی ملاقات میں ہی آپکو ان سے شدید عقیدت ہو گئی، گویا خود تو گھر واپس آگئے لیکن اپنا دل ڈاکٹر محمد علی نقوی کے پاس چھوڑ آئے۔ اس کے بعد آپ عقیدتاً دو تین بار ڈاکٹر نقوی سے ملاقات کے لئے گئے اور یہ چند ملاقاتیں باعث بن گئیں کہ آپ ڈاکٹر محمد علی نقوی کی ذات میں ضم ہوتے چلے گئے۔ انہی دنوں جب مختلف شخصیات کے ساتھ ڈاکٹر نقوی کو بھی خبردار کیا گیا کہ دشمن آپ کی تاک میں ہے اور کسی وقت بھی آپ پر حملہ ہو سکتا ہے، تو آپ کے قریبی ساتھیوں نے آپکو محافظین ساتھ رکھنے کا مشورہ دیا، لیکن ڈاکٹر نقوی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ "موت کا ایک دن معین ہے، لہذٰا جب آ جائے گی تو کوئی تدبیر اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی”۔ لیکن دوستوں کے بےپناہ اصرار پر آپ محافظین رکھنے پر آمادہ ہو گئے، لہذٰا مختلف علاقوں سے کچھ نوجوان آئے، ان کے خلوص پر شک نہ تھا لیکن ڈاکٹر نقوی کی دور اندیش نگاہیں کچھ اور ڈھونڈ رہی تھیں، جب تقی حیدر کو اس بات کا علم ہوا تو آپ بھی ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے کچھ دیر کی گفتگو کے بعد جب کمرے سے باہر آئے تو ڈاکٹر نقوی کے چہرے پر ایک بہت خوبصورت مسکراہٹ تھی۔ آپ نے تقی حیدر کو ساتھ رکھنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا۔

یوں تقی حیدر نے گھروالوں کو الوداع کہا اور ڈاکٹر نقوی کے ساتھ رہنے لگے۔ ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ آپ ڈاکٹر نقوی کے اردگرد ایسے منڈلاتے تھے جیسے شمع کے گرد پروانہ۔ جب بھی تھوڑی دیر کے لئے گھر آتے تو ایسے بےچین رہتے جیسے کسی شخص کی کوئی متاع عزیز گم ہو گئی ہو اور وہ اسے ڈھونڈ رہا ہو۔ تھوڑی دیر رکنے کے بعد یہ کہہ کر رخصت ہو جاتے کہ ڈاکٹر صاحب اکیلے ہیں۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی کے پرائیویٹ دفتر کے باورچی نے تقی حیدر کے بارے میں بڑا خوبصورت واقعہ نقل کیا، کہا کیونکہ ڈاکٹر صاحب دیر تک کام کرنے کے عادی تھے اس لئے تقی حیدر کو بھی 18 گھنٹوں سے بھی زیادہ جاگنا پڑتا تھا، تقی حیدر جب دیکھتے کہ ڈاکٹر صاحب اپنے تنظیمی دوستوں کے ساتھ مشغول ہیں تو غیر محسوس انداز میں ایک چادر اٹھاتے اور کچن میں آکر زمین پر بچھا کو چند لمحوں کے لئے سو جاتے، لیکن سونے سے قبل مجھے تاکید کرتے کہ جب ڈاکٹر صاحب باہر جانے کا ارادہ کریں تو مجھے جگا دینا، اور بعض اوقات یوں بھی ہوتا کہ ابھی تقی حیدر کی آنکھ لگی ہی تھی کہ ڈاکٹر صاحب باہر جانے کو تیار ہو جاتے تو آپ کو ایک ہی آواز دی جاتی تو آپ تڑپ کر فوراً اٹھتے، اور منہ ہاتھ دھو کر خورشید خاور کے ساتھ چل دیتے۔

ڈاکٹر محمد علی نقوی کی زندگی پر لکھی جانے والی کتاب "سفیر انقلاب” کے مصنف تسلیم رضا خان کہتے ہیں، ایک دن تقی حیدر ہسپتال کے گیٹ پر کھڑے تھے، میں نے کہا تقی بھائی خیال کرنا قوم کی امانت آپ کے پاس ہے، یہ سن کر انہوں نے کہا کہ "زندگی کی آخری سانس تک قوم کو ڈاکٹر صاحب کی زندگی کی ضمانت دیتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کے اکثر ٹیلیفون بھی پہلے آپ خود سنتے اور پھر ان کی بات کرواتے تھے، ایک دن آپ اپنے گھر گئے ہوئے تھے کہ کسی نے فون پر کہا کہ سنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب پر حملہ ہو گیا، یہ سنتے ہی تقی حیدر نے نہایت اطمینان سے کہا کہ "یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ میں زندہ ہوں اور ڈاکٹر صاحب کو کوئی قتل کر دے”۔ آپ عید کے لئے گھر گئے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ چار پانچ دن گھر والوں کے ساتھ گزار کے آنا، لیکن آپ کو سکون نہیں آیا اور دوسرے دن ہی واپس آگئے۔

اور پھر وہ دن بھی آ پہنچا، جس دن ملت کے ان چراغوں کو گل کر دیا گیا، شہادت کے روز آپ سفیر انقلاب کے ساتھ انکی گاڑی میں اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے، دہشتگردوں نے سب سے پہلے آپ کو نشانہ بنایا اور کلاشنکوف کے کئی برسٹ مار کر آپ کو چھلنی کر دیا۔ چشم دید گواہوں کا کہنا تھا کہ جب ڈاکٹر صاحب کی گاڑی بے پناہ رش میں پھنسی تو موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نے پستول سے فائر کیا، جونہی تقی حیدر پیچھے کی جانب متوجہ ہوئے۔ کلاشنکوف بردار سامنے سے آگئے، اور پہلے تقی حیدر پر فائر کھول دیا اور پھر ڈاکٹر صاحب کو نشانہ بنایا، اس حالت میں بھی آپ کو اپنی پروا نہ تھی، آپ بار بار اپنے آپ کو ڈاکٹر صاحب پر گراتے کہ وہ گولیوں سے بچ جائیں۔ گواہوں کا کہنا تھا کہ عجیب شجاع جوان تھا، شجاع کیوں نہ ہو کیونکہ!
یہ درس کربلا کا ہے
کہ خوف بس خدا کا ہے

جائے حادثہ پر موجود ایک خاتوں کا کہنا تھا کہ نوجوان فائرنگ کے دوران کبھی ہاتھ اٹھا کے گولیاں روکتا، اور کبھی خود کو اپنی دائیں جانب بیٹھے شخص پر گرا دیتا۔ تقی حیدر کو غسل دیتے ہوئے یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ شہید وفا کے بازو کٹے ہوئے تھے اور آپ کے جسم پر تقریباً 40 گولیوں نے نشانات تھے، جس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ آپ ڈاکٹر نقوی کو بچانے کے لئے بار بار ان پر گرتے رہے۔ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ دشمن نے جب محسوس کیا کہ ان کا اصل ٹارگٹ تو ابھی زندہ ہے تو واپس لوٹ کر پھر برسٹ مارا جس سے ڈاکٹر نقوی شہید ہوئے۔ شہید وفا نے کس خوبصورتی سے وفا دکھائی کہ اپنا کہا ہوا جملہ سچ کر دکھایا کہ”زندگی کی آخری سانس تک قوم کو ڈاکٹر صاحب کی زندگی کی ضمانت دیتا ہوں”۔ یا پھر وہ بہت ہی خوبصورت جملہ کہ "یہ ممکن نہیں کہ میرے ہوتے ہوئے کوئی ڈاکٹر صاحب کو قتل کر دے”۔

میرا سلام ہو! اس وفا کے علمبردار پر، میرا سلام ہو! اس ماں پر کہ جس نے اپنے کڑیل جوان بیٹے کی موت پر آنسو بہانے کی بجائے بیٹے کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا کہ "تونے کربلا کے باوفا شہید کی یاد تازہ کر کے میرے دودھ کی لاج رکھ لی، اب میں روز محشر حضرت عباس علمدار کی ماں کے آگے سرخرو ہونگی کہ میرے بیٹے نے بھی فرزند رسول کو بچانے کے لئے بازو کٹوائے ہیں”۔ میرا سلام ہو! اس بوڑھے باپ پر (کہ جو اب خود بھی اس دنیا میں نہیں رہا خدا انہیں غریقِ رحمت فرمائے) کہ جس نے ناصر باغ لاہور میں ہزاروں ماتمیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”میں شرمندہ ہوں کہ میرا بیٹا ڈاکٹر صاحب کو نہیں بچا سکا”۔
جوان بیٹے کے خوں سے جو کربلا لکھے
کتابِ عشق میں اس کو حسین کہتے ہیں
آخر میں یہ کہوں گی کہ جس قوم میں اتنی بیداری، اتنا جوش و ولولہ، انگیزہ شہادت اور قربانی ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔
جب ذکر وفاوں کا گلستاں میں چھڑے گا
برسوں تجھے گلشن کی فضا روتی رہے گی

متعلقہ مضامین

Back to top button