پاکستان

مسلم لیگ نون کے رہنما کاچو امتیاز حیدر کا ایم ڈبلیو ایم میں شمولیت کا اعلان

مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کے سابق صوبائی رہنما کاچو امیتاز حیدر خان نے مجلس وحدت مسلمین میں غیر مشروط شمولیت کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے یہ اعلان نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات ناصر عباس شیرازی اور مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ کاچو امتیاز حیدر خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی لالچ یا طمع کی وجہ سے ایم ڈبلیو ایم جوائن نہیں کی بلکہ مجلس وحدت مسلمین کے منشور، طرز سیاست اور خطے کے مفاد کیلئے ان کی خدمات اور سب سے بڑھ کر تمام تعصبات سے بالاتر ہوکر ملک اور وطن کی خدمت کے جذبے نے انہیں متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے خطے کے عوام کو سوائے محرومیوں کے کچھ نہیں دیا۔ دونوں جماعتوں نے مفاد پرستوں کو نوازا ہے، جنہوں نے عوام کی خدمت کے بجائے اپنی جیبیں گرم کی ہیں۔ خطے کے عوام کئی دہائیوں سے محرومیوں کا شکار ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم کی خدمات لائحق تحسین ہیں اور آئندہ الیکشن میں گلگت بلتستان میں ایک بڑی جماعت بن کر ابھرے گی۔

اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم شعبہ سیاسیات کے مسئول ناصر عباس شیرازی کا کہنا تھا کہ ہم کاچو امتیاز حیدر خان کی مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت پر انہیں خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں وہ مجلس وحدت مسلمین میں رہ کر خطے کے عوام کی صحیح معنوں میں خدمت کریں گے۔ ناصر عباس شیرازی نے گلگت بلتستان کے 8 روزہ دورے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورے گلگت بلتستان کے دوران کئی جماعتوں کے رہنما مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت کا اعلان کریں گی۔ ناصر عباس شیرازی نے گورنر گلگت بلتستان کی تعیناتی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت مخالف تحریک چلانے کا عندیہ بھی دیا۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہید ی نے توقع ظاہر کی کہ کاچو امیتاز وحدت کے ایجنڈے کو پرموٹ کرنے کیلئے اپنی صلاحتیوں کو بروکار لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات سے لگ رہا ہے کہ گلگت بلتستان میں بڑی سطح پر دھاندلی کا پروگرام بنا لیا گیا ہے، جس کی سب سے بڑی دلیل وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ایک وزیر کو گلگت بلتستان کا گورنر بنانا ہے۔ علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کا متنبہ کرتے ہیں کہ اگر گلگت بلتستان میں گیارہ مئی 2013ء کی تاریخ کو دھرایا گیا تو حکومت کیخلاف سخت ردعمل سامنے آئیگا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button