اسکردو میں بھی داعش کے حق میں وال چاکنگ، خطہ کے امن کے لئے خطرہ

09 فروری, 2015 00:00

اسکردو جیسے پرامن شہر میں ” یو ایس ایڈ ” کے پیسوں سے چلنے والی عالمی دہشدگرد تنظیم ” داعش ” کی وال چاکنگ سکردو انتظامیہ خصوصا کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے کیونکہ ہال ہی میں ڈپٹی کمشنر سکردو نے کہا تھا کہ بلتستان میں کوئی دشدگرد تنظیم نہیں ہیں –
اگر بلتستان میں دہشدگرد تنظیم نہیں ہے تو یہ تواتر کے ساتھ فرقہ وارانہ وال چاکنگ کون کر رہا ہے ؟ اور اگر ہے تو انتظامیہ کو کیوں معلوم نہیں ہے درجنوں خفیہ اداروں کے ہوتے ہوے بھی ؟

اس سے ہم ایک بات ضرور اخذ کر سکتے ہیں ، یا تو دہشدگرد موجود ہیں اور وہ آرام سے اپنے کام انجام دے رہی ہے یا پھر دوسری صورت میں بلتستان کے پر امن فضا کو خراب کرنے کے لئے خفیہ ادارے اور انتظامیہ مل کر اس طرح کے وال چاکنگ کروا رہی ہے کیونکہ ان کی دال روٹی عوام کو اپس میں لڑھا کر ہی چلتی رہتی ہے –

ماضی میں ایسے واقعات میں شرپسندوں کو انتظامیہ کی طرف سے سزا نہ دینے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بلتستان کے پرامن فضا کو ” ریاستی ادارے” خود خراب کروا رہی ہے –

داعش کے سرپرستوں کو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ تم کبھی بھی بلتستان کی پرامن فضا کو خراب نہیں کر سکتے کیونکہ بلتستان میں بسنے والی تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام متحد ہیں اور اچھی طرح جانتی ہے کہ ایسے

اوچھے ہتھکنڈے کون کر رہا ہے اور کون کروا رہے ہے-

sk

8:08 صبح اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔