وہابی روش کيونکر معرض وجود ميں آئی اور اس روش کا بانی کون تھا؟

07 فروری, 2015 00:00

گو کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ، وہابيت کي روش يا وہابي فرقے يا وہابي فکر نے "محمد بن عبدالوہاب” (ولادت ۱۱۱۵ ھـ انتقال ۱٢۰۶ ھـ) کے افکار سے جنم ليا ہے؛ ليکن اس کي جڑيں ابن تيميہ (۱) سے جا ملتي ہيں اور ابن تيميہ کي تحريريں وہابيوں کي فکري اساس کو تشکيل ديتي ہيں۔ جب ابن تيميہ نے قبر نبي ر|کي زيارت اور اس کي زيارت کے لئے سفر، کے بارے ميں اپني آراء اور عقائد کو ظاہر کيا اور اس کو حرام قرار ديا؛ مصر اور شام کے سني علماء نے اس کي آراء کو علمي تنقيد کا نشانہ بنايا اور اس کے افکار کو رد کرنے کے مقصد سے قابل قدر کتابيں لي

لکھي گئيں۔ (٢)

اہل سنت کے چار مذاہب کے قضات (قاضيوں) نيز مصر اور شام ميں ان مذاہب کے قائدين نے ابن تيميہ کو فاسق قرارديا اور اس کو ايک منحرف فرد کے عنوان سے متعارف کرايا۔ ابن تيميہ کے معاصر اور دوست "الذہبي” نے بھي اس کو خط لکھا اور اپنے دوستانہ مراسلے ميں اس کو فساد پھيلانے کے حوالے سے حجاج بن يوسف کے برابر قرار ديا۔ (۳)

ابن تيميہ کا فتنہ، اس کي موت کے ساتھ ہي خاموش ہوگيا گوکہ اس کے شاگر "ابن القيم” نے اس کے افکار کو ترويج دينے کي کوشش کي ليکن کوئي نتيجہ نہ لے سکا۔ وہ بھي سنہ ۷۵۱ کو دنيا سے چلا گيا اور اس کي موت کے ساتھ اس کے استاد کا مکتب فراموشي کے سپرد کيا گيا۔

تاہم بارہويں صدي ہجري کے وسط ميں (۴) محمد بن عبدالوہاب نامي شخص نے "نجد” کے علاقے ميں ابن تيميہ کے افکار و آراء کو زندہ کيا۔

عبدالوہاب اپنے بيٹے کے عقائد کے سخت خلاف تھے چنانچہ محمد باپ کے انتقال کا منتظر رہا اور اس عرصے ميں اپنے عقائد کے اظہار سے اجتناب کيا؛ جب سنہ ۱۱۵۳ ميں باپ کا سايہ اٹھ گيا تو اس نے موقع کو اپنے عقائد کي اشاعت کے لئے مناسب سمجھا؛ اور شہر "عُيَيْنه” کے امير "عثمان بن حَمَد” کے تعاون سے اپنے عقائد کي ترويج کا آغاز کيا۔ کچھ ہي عرصے ميں "عثمان” کو امير احساء کي طرف سے عتاب کا سامنا کرنا پڑا چنانچہ عثمان نے "شيخ” (محمدبن عبدالوہاب) سے تعاون کرنے کا سلسلہ بند اور اس کو عيينہ سے نکال باہر کيا۔

عيينہ ميں ناکامي کے بعد "شيخ محمد” (ابن الوہاب) سنہ ۱۱۶۰، ميں عيينہ سے خارج ہوا اور "درعيہ” کي طرف چلا گيا۔ اس زمانے ميں آل سعود کا دادا "محمد بن سعود” درعيہ کا حاکم تھا؛ آخر کار ان کے درميان تعلق برقرار ہوا۔ محمد بن سعود نے اس کو حمايت کا وعدہ ديا اور اس نے ابن سعود کو اقتدار اور بلاد و ممالک پر غلبے کا کي نويد دي۔

شيخ محمد نے "توحيد” اور "شرک کے خلاف جہاد” کے نام سے اپني دعوت کا آغاز کيا اور اپنے مکتب کے مخالفين کو مشرک قرار ديا۔ اس نے البتہ اپني دعوت کو خونريزي کے ساتھ مخلوط کرديا اور ابن سعود اور ابن عبدالوہاب نے نجد کے اطراف ميں حملوں کا آغاز کيا۔ گويا ابن عبدالوہاب کي دعوت کا آغاز ہي خون سے ہوا؛ شيخ کے پيروکاروں نے نجد کے مختلف علاقوں ميں سکونت پذير قبائل کے ہزاروں بچوں، عورتوں اور مردوں کا قتل عام کيا اور مسلمانوں کے اموال کو "مشرکين سے حاصل ہونے والي غنيمت” کے نام سے لوٹا گيا اور خون کے ساتھ ساتھ مالي امداد اور رشوت کو بھي وہابي تبليغ کا حصہ بنايا گيا۔

کہتے ہيں کہ جب شيخ محمد (ابن عبدالوہاب) درعيہ ميں داخل ہوا اور محمد بن سعود کے ساتھ عہد و پيمان کا انعقاد کيا، درعيہ کے عوام سخت تنگدست اور محتاج تھے۔

تفسير روح البيان کے مؤلف "الآلوسي”، "ابن بشر النجدي” کے حوالے سے لکھتے ہيں: "ميں (ابن بشر) ابتداء ميں اس حقيقت کا شاہد تھا کہ درعيہ کے عوام بہت زيادہ غريب اور تنگدست تھے اور ميں نے سعود کے زمانے ميں ديکھا تو وہاں کے عوام بہت دولت و ثروت کے مالک ہوئے تھے اور ان کے ہتھيار \[مشرکين سے غنيمت حاصل کرنے کے بعد!؟] سونے اور چاندي سے مزين ہوچکے تھے؛ وہ اعلي گھوڑوں پر سواري کرتے تھے اور نہايت اعلي قسم کا لباس پہنتے تھے اور دولت کے تمام لوازمات کے مالک بن چکے تھے اور ان کي حالت اس قدر بدل چکي تھي کہ زبان اس کو بيان سے عاجز ہے!۔ ايک روز ميں درعيہ ميں خود شاہد تھا کہ مرد ايک طرف کھڑے تھے اور عورتيں دوسري جانب تھيں۔ وہاں سونے، چاندي، اسلحہ، اونٹ، بھيڑ بکريوں، گھوڑوں، اعلي لباس، گوشت، گندم اور کھانے اور پينے کي اشياء کي مقدار اس قدر زيادہ تھي کہ زبان اس کو بيان کرنے سے قاصر ہے۔ بازار حد نظر تک وسيع تھا اور ميں خريد و فروخت کرنے والوں کي آوازيں سن رہا تھا جو شہد کي مکھيوں کي مانند بھنبھنا رہے تھے؛ کوئي کہہ رہا تھا "ميں نے فروخت کيا” اور کوئي کہہ رہا تھا "ميں نے خريد ليا”۔

ابن بشر نے واصح نہيں کيا کہ درعيہ کے عوام کو اتني بڑي دولت کہاں سے ملي تھي ليکن تاريخ شواہد و قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ نجد اور دوسرے شہروں کے ہزاروں مسلمان ابن سعود اور ابن عبدالوہاب کے حملوں ميں ـ ابن تيميہ اور ابن عبدالوہاب کے عقائد ماننے سے انکار کي پاداش ميں ـ مارے گئے تھے اور ان کے اموال کو مال غنيمت کے عنوان سے لوٹا گيا تھا اور لوٹ مار کے ان ہي اموال سے درعيہ کے لوگ صاحب مال و دولت ہوچکے تھے۔

مسلمانوں سے ہاتھ لگنے والي "مال غنيمت”! کے بارے ميں ابن عبدالوہاب کي روش يہ تھي کہ وہ جس طرح خود مناسب سمجھتا اسي طرح بروئے کار لاتا اور کبھي پورا مال غنيمت دو يا تين افراد کے سپرد کرتا۔ غنيمت جس صورت ميں بھي ہوتي شيخ کے اختيار ميں ہوتي تھي اور نجد کا امير بھي شيخ کي اجازت سے کچھ حصہ اٹھا ليتا تھا۔

شيخ محمد ابن عبدالوہاب کي زندگي کو پروگرام کي سب سے بڑي کمزوري يہي تھي کہ وہ اپنے عقائد کي مخالفت کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ "حربي کفار” جيسا سلوک روا رکھتا تھا اور ان کي جان اور ناموس تک کے لئے کسي قسم کي حرمت اور وقعت کا قائل نہ تھا۔

مختصر يہ کہ "غلط تفاسير پر مبني توحيد” کي دعوت ديا کرتا تھا اور جو بھي اس کے عقيدے کے سامنے سرتسليم خم کرتا اس کي جان اور مال محفوظ رہتي ورنہ تو اس کا خون اور اس کا مال حربي کفار کي مانند حلال اور مباح قرار ديا جاتا تھا۔

وہابيوں نے "نجد” اور نجد سے باہر: "يمن”، "حجاز” اور اطراف ميں شام اور عراق کي سرزمينوں ميں جو جنگيں لڑي ہيں وہ بھي اسي اصول پر استوار تھيں۔ وہ جس شہر اور قصبے يا گاؤں کو زبردستي فتح کرليتے تھے وہاں سب کچھ ان کے لئے حلال (؟) تھا۔ اگر وہ ان علاقوں کو اپني عملداري اور مِلک کا حصہ بنا سکتے تو وہ علاقے ان کي عملداري کا حصہ بنائے جاتے تھے اور اگر ايسا ممکن نہ ہوتا تو وہ ان علاقوں ميں لوٹ مار مچا ديتے تھے اور لوٹ کا مال غنيمت کے عنوان سے اٹھا کر چلے جاتے تھے۔ اور ان کي يہ روش منگولوں اور تاتاريوں سے ملتي جلتي تھي۔ (۵)

جو لوگ اس کے عقائد کو قبول کرتے اور اس کي آراء سے اتفاق کرتے ان پر لازم ہوتا تھا کہ شيخ کے ہاتھوں پر بيعت کريں اور جو لوگ ان کے عقائد قبول کرنے سے انکار کرتے يا بيعت کے مسئلے پر مزاحمت کرتے ان کو قتل کيا جاتا تھا اور ان کے اموال کو تقسيم کيا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر وہابيوں نے الاحساء کے علاقے ميں "الفصول” نامي قصبے پر حملہ کيا ليکن وہاں کے عوام نے ابن عبدالوہاب کے عقائد قبول کرنے اور اس کے ساتھ بيعت کرنے سے انکار کيا جس کے نتيجے ميں وہاں کے ۳۰۰ مردوں کا قتل عام کيا گيا اور قصبے کو لوٹ ليا گيا۔ (۶)

"شيخ محمد بن الوہاب” ۱٢۰۶ ہجري ميں انتقال کرگيا (۷)، اور اس کے بعد اس کے پيروکاروں نے اسي روش پر عمل کيا جس کو آج وہابي روش کہا جاتا ہے۔ سنہ ۱٢۱۶ ميں وہابي امير سعود نے ٢۰۰۰۰ افراد پر مشتمل لشکر تشکيل دے کر کربلائے معلي پر حملہ کيا۔ کربلائے معلي اس زمانے ميں نہايت شہرت و عظمت کا نمونہ تھي اور ايراني، ترک اور عرب زائرين کي زيارتگاہ۔ سعود نے شہر کا محاصرہ کيا اور آخر کار شہر ميں داخل ہوا اور شہر کے مدافعين اور باشندوں ميں سے کثير تعداد کا قتل عام کيا۔

وہابي لشکر نے کربلا ميں جو رسواکن اقدامات کئے وہ قابل بيان نہيں ہيں۔ پانچ ہزار (اور ايک قول کے مطابق ٢۰ ہزار) افراد کو قتل کيا اور جب سعود ديگر مہمات سے فارغ ہوا تو فرزند رسول حضرت سيدالشہداء امام حسين ×کے خزانے کي طرف متوجہ ہوا۔ خزانے ميں بہت زيادہ نقد رقم اور قيمتي اشياء رکھي ہوئي تھيں۔ چنانچہ آل سعود کے دادا نے ان اموال کو کلي طور پر لوٹ کر نجد منتقل کيا!!

کربلائے معلي کي حالت اس افسوسناک واقعے کے بعد کچھ يوں ہوئي کہ شعراء نے اس کے لئے مرثيے لکھے (۸) وہابي ۱٢ سال کے عرصے تک کربلا اور نجف پر حملے کرتے رہے اور جو ملتا لوٹ کر لے جاتے۔ گويا انہيں وہابي تبليغ اور مسلمانوں کے خلاف "جہاد!” کے لئے جب بھي رقم کي ضرورت ہوتي، عراق کے مقدس شہروں پر حملہ آور ہوجاتے۔ ان حملوں ميں سب سے پہلے حملے کي تاريخ عيد غدير (۱۸ ذوالحجۃالحرام) ۱٢۱۶ ہجري تھي۔

جدہ، مکہ، مدينہ، شام اور عراق پر وہابيوں کے حملوں کي تعداد اتني ہے کہ اس مختصر ميں ان کي گنجائش نہيں ہے اور يہاں ہم صرف نمونے کے طور پر بعض حملوں کي طرف اشارہ کررہے ہيں۔ کبھي عثماني حکومت کي کمزوري کي وجہ سے وہابي طائف، مکہ اور مدينہ پر قابض ہوکر وہاں کے اسلامي آثار کو منہدم کيا کرتے تھے اور لوگوں کے اموال کو لوٹ کر لے جاتے تھے اور آخر کار انہيں پسپا ہوکر نجد ميں پناہ ليني پڑتي تھي اور عثماني حکومت ان علاقوں پر اپنا تسلط بحال کيا کرتے تھے اور اس کے لئے انھوں نے حرمين کي باگ ڈور "شريف” نامي خاندان کو سونپ دي۔ پہلي عالمي جنگ کے موقع پر "پان عربزم” نامي تصور نے جنم ليا اور اس تصور کے حامل عربوں نے برطانيہ اور فرانس کي مدد سے شام، اردن اور عراق پر قبضہ کيا اور عرب ملکوں کا اتحاد پارہ پارہ ہوگيا اور ان علاقوں کي حکومت ايسے عرب اميروں کے حوالے کي گئي جو يا تو فرانس کے وفادار تھے يا پھر برطانيہ کے حليف سمجھے جاتے تھے۔

بلاد نجد کو آل سعود کے حوالے کيا گيا جبکہ اس زمانے ميں اس خاندان کا زعيم عبدالعزيز بن سعود (يعني موجودہ بادشاہ عبداللہ کا باپ) تھا۔ اس کي وجہ يہ تھي کہ عبدالعزيز عثمانيوں کے خلاف تھا اور وہ عثماني حکومت کا زور توڑنے کے حوالے سے برطانيہ کے ساتھ قريبي تعاون کررہا تھا۔ برطانيہ نے نجد کي حکومت خاص شرائط کي بنياد پر ـ جو تاريخ ميں مذکور ہيں ـ آل سعود کے سپرد کي تھي۔

کچھ عرصہ بعد برطانيہ اور سامراجي دنيا کے مفادات کے تقاضوں کے تحت وہبابيوں کي عملداري کو وسعت دي گئي اور حرمين شريفين اور سرزمين حجاز کو بھي آل سعود کے سپرد کيا گيا۔ \[کيا ستم ظريفي ہے کہ مسلمانوں کے حرمين شريفين کي قسمت کا فيصلہ برطانويوں نے کيا اور مقدس سرزمين اپنے ايجنٹوں کے سپرد کردي!؟] چنانچہ وہابيوں نے برطانيہ کے ہاتھوں تيار کردہ سازش کے تحت سنہ ۱۳۴۴ ہجري کو ايک خونريز جنگ کے نتيجے ميں حرمين شريفين کو غصب کيا؛ اور اس جنگ کے دوران صرف شہر طائف ميں دوہزار علماء، عمائدين اور عورتوں اور مردوں کا قتل عام کيا؛ چنانچہ عبدالعزيز بن سعود نے خود بھي اس جرم کا اعتراف کيا!، نتيجے کے طور پر سرزمين پر "شرفاء” کي حکومت کا خاتمہ کرديا گيا۔

مکہ اور مدينہ کے وسيع علاقوں سميت نجد اور حجاز کي سرزمينوں کو برطانوي استعمار اور دوسري استعماري حکومتوں کے ريکارڈ ميں "سعودي عرب” کا نام ديا گيا۔ نجد اور حجاز کے نام منسوخ کئے گئے اور عبدالعزيز بن سعود نے سنہ ۱۳۵۰ ہجري ميں اپنے آپ کو "دو علاقوں” کي بادشاہت کا اعلان کيا اور "مملکت العربيۃ الاسلاميۃ” کي نہيں بلکہ "مملکت العربيۃ السعوديۃ” کي بنياد رکھي۔

اس شخص کا انتقال ۱۳۷۴ ہجري کو ہوا اور اس کے بعد اس کے بيٹے "سعود، فيصل، خالد اور فہد” يکے بعد ديکر بادشاہ بنے اور آج کے زمانے ميں عبداللہ بن عبدالعزيز کي حکمراني ہے۔ (۹) جس کي عمر ۸۹ سال ہے جبکہ اس کے در وليعہد بڑھاپے کي وجہ سے انتقال کرگئے ہيں اور تيسرے وليعہد کي عمر اسي برس کے قريب ہے اور عبدالعزيز کے بيٹوں کے بڑھاپے اور بيماري کي وجہ سے امريکي اور برطانوي حکومتيں بہت زيادہ تشويش ميں مبتلا ہيں۔

منابع اور مآخذ:

۱. سال ۷٢۸ ه ق در زندان دمشق

٢. کتابنامه رد وهابيت در مجله مکتب اسلام(سال٢۹)و نشريه تراثنا(شماره۱۷)

۳.( تکمله السيف الصيقل/ ۱۹۰)

۴.حدود سالهاي۱۱۴۵ه ق

۵. جزيره العرب فى القرن العشرين ص ۳۴۱

۶.تاريخ المملکة العربية السعودية ۱/ ۵۱

۷. شيخ کي ولادت اور وفات کي تاريخ ميں ۱٢۰۶- ۱۱۱۵ کے علاوہ دوسرے اقوال بھي ہيں۔

۸. تاريخ کربلا و حائر حسين (ع )، ۱۷٢- ۱۷۴

۹. آية الله جعفر سبحانى، پرسشها و پاسخ‏ها

——————————

10:13 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔