پاکستان

دہشتگردی میں ملوث مدارس سے مذاکرات نہیں کارروائی کی ضرورت ہے،ثروت قادری

سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ دہشتگرداور محب وطن میں فرق کئے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا،جن مدارس میں انتہا پسندی اور مذہب کے نام پر غلے کاٹنے کی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے انہی سے مذاکرات وفاقی وزیر داخلہ کے قول وفعل میں کھلا تضاد ہے ،جو مدارس دہشتگردی میں ملوث ہیں ان سے مذاکرات نہیں کار روائی کی ضرورت ہے ،کالعدم مذہبی جماعتوں سے ملاقاتیں آئین و قانون کے منافی عمل ہے ،جن مدارس میں ہمیشہ اسلام ،پاکستان اور دیگر مکاتب فکر کے خلاف زہر پڑھایا جاتا رہا ہے انہی مدارس سے دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے رائے لینا ،مشاورت کرنا قوم کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے،دہشتگردی کے خاتمے کیلئے حکومت کی ہر مثبت پالیسی کا ساتھ دینگے ،حکومتی کسی بھی ایسی پالیسی کا ساتھ نہیں دینگے جس سے دہشتگردوں کو تحفط فراہم ہوتا ہو،پاک فوج سیکیورٹی ادارے سمیت پوری قوم دہشتگردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے ،دہشتگردوں کو قلع قمع کرنے کیلئے پوری قوم پاک فوج ،رینجرز کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ،جو بھی دہشتگردوں کو آکسیجن یا شیلٹر دینے کی کوشش کریگا وہ عوام کے غیض وغضب سے بچ نہیں سکے گا،سانحہ پشاور معصوم بچوں پر دہشتگردوں کی بربریت کو بھلایا نہیں جاسکتا ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت پر راولپنڈی سے آئے ہوئے علماء کرام کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،ملک کی سلامتی امن وامان کے قیام اور لاقانونیت کے خاتمے کیلئے عوامی رابطہ مہم جلد شروع کرینگے ،قومی یکجہتی کو فروغ دیکر ہی دہشتگردی سے نجات پائی جاسکتی ہے ،مصنوعی پیٹرول کا بحران عوام کو پریشان کرنا ہے ،پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کا عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا نہ کرایوں میں کمی ہوئی اور نہ ہی اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو کم کیا جاسکا جو حکومتی ناقص کارکردگی اور حکومتی رٹ نہ ہونے کے مترادف عمل ہے ،انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے ہمدرد اور مددگار وں سے وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کا مشاورت کرناسمجھ سے بالاتر ہے ،ملک وقوم کے مجرم کسی معافی کے لائق نہیں ہیں انہیں ملک کے آئین وقانون کا سامناکرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button